Daily Mashriq


ایمازون چاند گاڑی کیوں بنا رہا ہے؟

ایمازون چاند گاڑی کیوں بنا رہا ہے؟

امریکی آن لائن شاپنگ کمپنی ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے خلائی تحقیق سے متعلق قائم کردہ کمپنی بلو اوریجن کی تیار کی گئی ایک چاند گاڑی متعارف کروائی ہے۔

  جیف بیزوس نے اس گاڑی کو متعارف کروائے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ غیرمعمولی گاڑی ہے اور یہ چاند کی جانب جا رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہےکہ ہم چاند کی جانب دوبارہ لوٹیں، مگر اس بار وہاں قیام کے لیے جائیں۔‘‘

خلائی سیاحت: سالانہ حجم دس کھرب ڈالر، جرمنی بھی دوڑ میں شامل

اسرائیل کا خلائی جہاز چاند پر اُترنے سے قبل ہی تباہ ہو گیا

اس میں ایک روبوٹک جہاز ہے، جو ایک چھوٹے گھر جیسا ہے، جس میں چار روور تک موجود ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بلو اوریجن مستقبل قریب میں ایک اور خلائی جہاز پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے انسانوں کو چاند پہنچایا جا سکے گا۔

بیزوس نے مزید کہا، ’’بلومون نامی جہاز  چاند کی سطح تک سامان لے جا سکتا ہے، وہاں سامان کو بہ حفاظت ذخیرہ کر سکتا ہے اور حتیٰ کے چاند کی جانب سفر کے دوران سامان کو خود سے جدا بھی کر سکتا ہے۔‘‘

بلو اوریجن کمپنی کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ چاند کے لیے بھیجے جانے والے راکٹ دوبارہ بھی قابل استعمال ہوں گے۔

بیزوس کا کہنا تھا کہ یہ لینڈر اصل میں اس بڑے منصوبے کے حوالے سے فقط ایک ابتدا ہے، جس کے تحت خلا میں بڑا انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا۔ بیزوس نے کہا، ’’خلا میں کسی بھی کام کے لیے لاگت کی زیادہ وجہ یہ ہے کہ وہاں کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔‘‘

 ناسا کی ساٹھویں سالگرہ، تاریخی کامیابیوں پر ایک نظر

ایکسپلورر وَن، ناسا سے بھی پرانا

سوویت یونین نے اپنا سپوتنک سیٹلائٹ سن 1957 میں خلا میں روانہ کیا تھا۔ یوں سوویت یونین خلائی مشن بھیجنے میں امریکا سے بازی لے گیا اور امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ خلا میں سویت یونین کا غلبہ قائم ہو جائے گا۔ تب ہی امریکی فوج نے انتیس جولائی کو ایکسلپورر وَن نامی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا اور پھر اسی سال اکتوبر میں ناسا کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

مختلف خلائی کمپنیاں اور حکومتیں چاہتی ہیں کہ خلا میں اسٹریٹیجک پوزیشنیوں کو ڈھونڈا جائے، جو بعد میں طویل خلائی سفر کے لیے کارآمد ہوں۔ اسی لیے چاند ان حکومتوں اور خلائی کمپنیوں کے لیے ابتدائی اور قابل توجہ جگہ ہے۔

تاہم چاند پر تحقیق آسان نہیں۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی کمپنی نے چاند کی سطح پر ایک خلائی جہاز اتارنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ لینڈنگ کے وقت انجن فیل ہو جانے کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ دوسری جانب ایلون مُسک کی اسپیس ایکس اور دیگر کمپنیاں بھی قابل تجدید راکٹوں کی تیاری میں مصروف ہیں، تاکہ خلائی سفر کی قیمت کی کم تر کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں