Daily Mashriq


فیصلے کا اصل اختیار عوام کے پاس ہے

فیصلے کا اصل اختیار عوام کے پاس ہے

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو منفی کرنے کی کوششوں مں کتنی صداقت ہے یا نہیں اس بارے وثوق سے یہ سمجھنا اور قرار دینا مشکل ہے کہ ایسی کوئی کھچڑی پک رہی ہے اور اس کی سراسر نفی کی بھی اس لئے گنجائش نہیں کہ ایک بڑی سیاسی اور حکمران جماعت کے سربراہ اور حکومتی اراکین و وزراء بھی اس کا مسلسل عندیہ دے رہے ہیں۔ میڈیا میں بھی یہ بات زثر بحث آتی ہے ۔بہر حال اس کے باوجود اسے امکان کی حد تک ہی تسلیم کرنے کی گنجائش ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ ایسا کرنے والے عناصر کا کوئی نام نہیں اور ایسی غیر مرئی قوت کیا اتنی طاقتور اور مقتدر ہوسکتی ہے کہ وہ ایک بڑی اور مقبول جماعت کے سربراہ کو محروم قیادت کرسکے۔ اس طرح کا مطالبہ تو خود عمران خان بھی نہیں کرسکتے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نامعلوم عناصر کے خلاف لب و لہجہ میں سختی ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کا عدالتی فیصلے پرایک وقت تک لب و لہجہ درشت ضرور رہا لیکن انہوں نے نہ صرف عدالتی فیصلہ تحفظات ہوتے ہوئے بھی قبول کیا ان کاعدلیہ بارے لب و لہجہ جو بھی رہا ہو عملی طور پر وہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کادفاع کرکے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ عدالتوں اور انصاف کے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ دھیرے دھیرے عدالتوں کے حوالے سے ان کے لب و لہجے کی سختی زائل ہوتی گئی اور اب ان کا عدلیہ بارے اظہار خیال مناسب لفظوں کے انتخاب تک آگیا ہے۔ ہمارے تئیں نواز شریف پر عدالت میں قائم مقدمات کا جو فیصلہ بھی آئے وہ قانونی معاملہ ہوگا۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے ان کو سیاسی جماعت کی قیادت سے الگ کیا جائے تو یہ ہر دو صورتیں قابل قبول‘ سیاسی جمہوری‘ قانونی اور مبنی بر انصاف کہلائیں گی۔ مگر اس کے علاوہ منفی نواز شریف کا کوئی فارمولہ مناسب نہیں رہے گا اور اس کی مزاحمت میں اصولوں اور ضابطوں کا احترام کرنے والے سیاسی مخالفین کی بھی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں گی۔ نواز شریف نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد براستہ موٹر وے اسلام آباد سے لاہور تک سفر کرکے عوامی قوت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ گزشتہ روز ایبٹ باد میں بھی ان کاجلسہ ہوا اور اب ان کا لندن جانے کی بجائے مہینے میں دو جلسے کا پروگرام طے کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے حالانکہ اہلیہ محترمہ کی تیمارداری اور علاج کے لئے وہاں ان کی ضرورت ہوگی۔ مگر اس کے باوجود ان کا ملک میں رہ کر سیاسی جلسوں کا پروگرام انتخابی تیاریوں کے ساتھ ساتھ حالات کا عوامی طور پر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ کسی سیاسی رہنماء کے لئے عدالت سے جو بھی فیصلہ آئے اس سے ز یادہ عوام کے فیصلے کی ضرورت و اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور فطری طور پر عوام کی ہمدردیاں اس شخص کے ساتھ ہونے لگتی ہیں جو مشکل وقت سے گزر رہا ہو۔ اس وقت نواز شریف مشکل وقت سے گز رہے ہیں اور عوام سے ہمدردیاں حاصل کرنے کے موقع کے طور پر وہ اس کا کامیابی سے استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کو منفی کرنے کی واقعی کوئی کوشش ہورہی ہے تو بھی اس سے ان کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچنے کا امکان زیادہ نظر آتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پہلے پہل مارچ میں سینٹ کے انتخابات سے قبل حکومت کو کوئی خطرہ نہیں جس تیسری قوت کا ڈراوا دیا جا رہا ہے اس سے نواز شریف کو قبل ازیں واسطہ پڑ چکا ہے۔ اس طرح کے حالات میں بھی ان کے فیصلے و اعتماد کا بھی اندازہ ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہوگی کہ جمہوری بساط لپیٹ دی جائے فی الوقت نہ تو اس کا امکان نظر آتاہے اور نہ ہی حالات نظر آتے ہیں الایہ کہ ملک میں خدانخواستہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہو جائے اور اگر سینٹ انتخابات سے قبل بالفرض محال حکومت کی رخصتی ہو جاتی ہے تو بھی سیاسی طور پر مسلم لیگ(ن) گھاٹے میں نہیں رہے گی بلکہ یہ ان کے رخصتی کے محرکین اور اس کی سیاسی حما یت کرنے والوں کے لئے برعکس نتائج کی حامل صورتحال ثابت ہوگی۔ اس صورت میں ہمدردی والے فیکٹر کا جادو سر چڑھ کر بولے گا اور مسلم لیگ(ن) ہمدردی کے ووٹ لینے کی پہلی مرتبہ انتخابات میں اچھی پوزیشن لینے کی ممکنہ حقدار کے طور پر سامنے آسکے گی اور سینٹ میں اب کے مرتبہ کی متوقع نشستیں نہ سہی کچھ کم کی پھر بھی حقدار بنے گی۔ جب اس ساری تپسیا کا کوئی کامیاب ہدف ہی نظر نہیں آتا تو کیا ’’ نہ چھیڑ ملنگاں نوں‘‘ والا فارمولہ ہی بہتر نہیں؟ عدالت کا تو مقررہ وقت پر فیصلہ عین متوقع ہے۔ اس سے تو نواز شریف کو عوامی حمایت سے محرومی کی ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھ کر خوفزدہ ہونا چاہئے مگر وہ اس ضمن میں پر اعتماد دکھائی دے رہے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہوں گے یا ہیں جب حتمی فیصلہ عوام ہی ٹھہرتا ہے تو کیا اس امر کا انتظار بہتر نہ ہوگا کہ عوام عدالت کے موجودہ سزا یافتہ اور نا اہل اور بعد کے ’’معلوم نہیں‘‘ کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ عوام سے نواز شریف کا رجوع دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے بھی چیلنج سے کم نہیں یقینا دوسری سیاسی جماعتوں کو اب عوامی میدان گرمانے کا طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے نواز شریف حکومت پر دبائو میں کمی لانے کے لئے عوامی اجتماعات کے انعقاد کی مہم پر نکلے ہوں مگر اس سے ان کی 2018ء کے عام انتخابات کے لئے تیاری بھی ہو رہی ہے اور اس کا موقع بھی ایک فیصلے ہی کی مرہون منت ہے۔ بہتر ہوگا کہ انتخابات نہ قبل از وقت اور نہ ہی بعد از وقت بلکہ بروقت ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کے خاتمے کے بعد مینڈیٹ کے لئے عوام سے ہی رجوع کا طریقہ کار ہی اختیار کیا جائے دوسری کسی صورت کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں