Daily Mashriq


استعفیٰ نہیں دیتے تو برطرف کیا جائے

استعفیٰ نہیں دیتے تو برطرف کیا جائے

عدالت میں سنگین مقدمات کا سامنا کرنے اور بیرون ملک بستر علالت پر ہونے کے باوجود وزیر خزانہ اسحق ڈار کے مستعفی ہونے سے انکار کی وجوہات جو بھی ہوں اس کے ملک و قوم اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ(ن) کے لئے اثرات اچھے نہیں۔ اصولی اور اخلاقی طور پر وزیر خزانہ کو اس وقت مستعفی ہو جانا چاہئے تھا جب نیب میں ان پر مقدمات کی کارروائی شروع ہوئی تھی۔ اگر ایسا نہ کیا جاسکا تو اب ان کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ وطن واپس آسکیں تو پھر کیا جواز باقی رہ جاتاہے کہ قلمدان بستر علالت پر بھی سنبھالے رکھیں اور وہ بھی سات سمندر پار۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار واقعی علیل ہیں یا پھر وہ عدالت کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ قانونی طور پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جا ری ہوچکے ہیں اور اگر وہ پھر بھی پیش نہیں ہوتے تو عدالت قانون کے تقاضوں کو پوراکرنے کے لئے ان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کرے گی اس کے باوجود اسحق ڈار کا عہدے سے چپکے رہنے کی خواہش اور اقدام حیرت انگیز امر ہے۔ اگر اسحق ڈار مستعفی ہونے پر تیار نہیں ہوتے تو پھر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ان کو برطرف کرکے قلمدان خالی کردینا چاہئے ویسے بھی وزیر اعظم وزارت خزانہ کا قلمدان اپنے پاس رکھ چکے ہیں جس کے بعد صرف اسحق ڈار کو علیحدہ کرنے کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کی کسر باقی رہ جاتی ہے۔ شریف خاندان خاندانی مجبوریوں کے باعث ان کو مستعفی کرانے کے لئے دبائو نہ ڈال کر اور وزیر اعظم بھی ان کی مروت میں خاموش رہ کر جگ ہنسائی کا حامل قدم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حکمران جماعت اور حکومت جتنا جلد اس ضمن میں فیصلے کا اعلان کرے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ قرآئن سے واضح ہے کہ درون خانہ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا صرف اس کا اعلان باقی ہے اعلان میں خواہ مخواہ کی تاخیرکیوں کی جا رہی ہے اور تنقید کی نوبت کیوں آنے دی جا رہی ہے اس راز کو جاننا مشکل ہو رہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وزیر خزانہ اپنی علالت کے عذر کے باعث فوری طور پر استعفیٰ دے کر اپنی جماعت اور حکومت دونوں کو مشکل سے نکالے اور خواہ مخواہ کی جگ ہنسائی کاباعث نہ بنیں۔

وزیر بلدیات کی نمائشی کھلی کچہری

سینئر صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ کا حیات آباد فیز 6 میں کھلی کچہری میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے اور صفائی کی صورتحال میں ناکامی کا اعتراف اس لئے کافی نہیں کہ ساڑھے چار سال کی ناکامی کے اعتراف سے عوام کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں صوبائی وزیر اگر عوام سے معافی کا خواستگار ہو کر اس امر کی ٹھوس یقین دہانی کرادیتے کہ آئندہ ان کے مسائل کے حل کے لئے انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کی تجاویز کے مطابق کام کرنے کی پی ڈی اے کے حکام کو موقع پر ہدایت کرتے تو شاید عوام کو کچھ یقین آتا۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ اس کھلی کچہری سے قبل پی ڈی اے نے گلیوں میں ٹریکٹر چلا کر سڑک کے کنارے ہموار کئے اور گھروں میں نمائشی سرکلر پھینکے جو باقاعدہ نوٹس کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ اکثر گھروں میں جس خلاف ورزی کو مارک کیاگیاہے ان گھروں میں سراسر اس بات کی خلاف ورزی ہوتی ہی نہیں بلکہ وہ اعتراض موجود ہی نہیں مثال کے طور پر ان گھروں میں نہ صرف گیٹ کے ساتھ نالی موجود ہے بلکہ اس کے کونے پر پائپ ٹرپ لگا کر استعمال شدہ پانی کو واپس سیوریج لائن میں ڈالا بھی گیا ہے۔ مگر نوٹس اس بات کا دیاگیا ہے جس سے اس کے اندا دھند اورخانہ پری پر مبنی ہونے کو یقینی قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ حیات آباد میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے عمل کو موثر بنانے کے لئے جہاں لوگوں کو تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے وہاں پی ڈی اے کے عملے کو فالتو پانی کو گلیوں میں داخل ہونے کے ذمہ دار مکانات کے مکینوں کو جرمانہ کرنے کی بھی ضرورت ہے جن گلیوں میں گڑھے پڑ چکے ہیں اور جہاں نشیب کے باعث پانی کھڑا رہتا ہے۔ ان کی مرمت اور پانی کے ٹھہرائو کو ختم کرنے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مارکیٹوں میں صفائی اور جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھیلانے کے ذمہ دار قابضین کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ پولیس کے بارے میں عوام کی شکایات کا آئی جی کو نوٹس لینا چاہئے۔ خاص طور پر ایسے مکانات جس کے مکینوں اور آمد و رفت رکھنے والوں کے حوالے سے مکینوں کے تحفظات ہوں ان کی چھان بین کی ذمہ داری پوری کرنے میں پولیس کو ان عناصر کی سرپرستی کی بجائے عوام سے تعاون اور اپنے فرائض کو مقدم رکھنے کا پابند ہونے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں