Daily Mashriq


کوئی کچھ تو کہے !!

کوئی کچھ تو کہے !!

ہم بحیثیت قوم بہت سی باتوں کے حوالے سے گو مگو کی کیفیت میں رہتے ہیں ۔کچھ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے ۔ اس گو مگو کے باعث ہی شاید ہم جب وجوہات تلاش کرنے کی کوشش میں غلطاں ہوں ، تو ہرجانب ہمیں سازشیں دکھائی دیتی ہیں ۔ پس پردہ سر گوشیاں سنائی دیتی ہیں ۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی ہے جو ہمارے خلاف کہیں کوئی سائے تخلیق کررہاہے ۔ ا ور ہم پر مسلط بھی کر رہا ہے لیکن خیال یہ بھی ہے کہ اس کیفیت کی کئی وجوہات ہیں جو دراصل ہمارے ارد گرد موجود لوگوں کے رویوں میں پنہاںہیں ۔ چونکہ انکے رویوں کی کوئی سمت دکھائی نہیں دیتی سجھائی نہیں دیتی اس لیے ہمیں اکثر باتوں کی اصلیت بھی صاف جان نہیں پڑتی ۔ سوچتی ہوں کہ ایسی کتنی ہی باتوں کا روز سامنا کرتے ہیں اور یہ ہماری ہی ہمت ہے کہ پھر بھی اپنے ملک کی سیاست اور سیاست دانوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ملک میں نئی صورتحال جنم لے رہی ہے ۔ انتخابات کا سال شروع ہو چکا اس لیے کتنے ہی نئے اتحاد اور گٹھ جوڑ دکھائی دینے لگے ہیں ۔ ایک نسبت تو طے پاتے ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی جسے ہم کوئی نام نہ دے پائے نہ ہی اس سازش کی کوئی صورت تلاش کر سکے ۔ فاروق ستار اور مصطفی کمال ہی ایک دوسرے کو مختلف باتوں کا دوش دیتے رہے ۔ کسی نے اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کیا اور کسی نے کسی اور جانب اشارہ کردیا ۔ ہم ادھر سے اُدھر دیکھتے ہی رہے اور پھر خاموش ہوگئے کیونکہ اس میں جس حد تک اسٹیبلشمنٹ کا کردار دکھائی دیا وہ خاصا مثبت تھا ۔ اس اثبات کے باعث وہ مائنس ون کا فارمولہ جو ایم کیو ایم پر لاگو کیا گیا اس کا افادہ ہر کسی نے محسوس کیا ۔ اور بہت زیادہ جوتم پھٹکار نہ ہوئی ۔ کراچی کے حالات سنورے نہ سنورے لیکن یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ حالات میں کچھ بہتری پیدا ہو ہی جائیگی ۔ ابھی فوری طور پر صورتحال نہ بھی سُدھرے تو بھی آنے والے دنوںمیں معاملات مثبت شکل اختیار کر ینگے ۔ دوسری جانب میاں نواز شریف اور انکے حواری ہیں جنہوں نے سوچ کو ایک اور مخمصے میں ڈال رکھا ہے ۔ ان سے امید تو یہ کی جارہی تھی کہ جب مائنس ون فارمولے کا اطلاق ان پر زور زبردستی کیا جائے گا تو مسلم لیگ (ن) والے حسب روایت چڑھتے سورج کے ساتھ ہولیں گے ۔ لیکن ابھی تک اس کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ۔ گلی محلوں میں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی آواز بطور مذاق استعمال ہونے لگی ہے ۔ لیکن شاید مسلم لیگ (ن) کے اکثر لیڈر ان خوفزدہ ہیں کہ اگر انہوں نے اس کڑے وقت میں میاں نواز شریف کا ساتھ نہ دیا تو اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے ۔ میاں نواز شریف کے ساتھ جو ہورہاہے وہ تو ہمارے سامنے ہیں لیکن یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہے کہ ان لوگوں میں کوئی پھوٹ نہیں پڑی ، کوئی دراڑدکھائی نہیں دیتی ، کوئی صورتحال بگاڑ کا شکار نظر نہیں آتی ۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو کیوںنکالا اور شاید اسی خوف نے ان سب کو آپس میں باندھ رکھا ہے ۔ وہ ڈرتے ہیں کہ سارے ہی نہ نکالے جائیں ، یہ الگ بات ہے کہ کسی کو بھی کوئی امید باندھنی نہیں چاہیئے ، جلد یا بدیر سب ہی کی باری آنے والی ہے اس میں صرف انتظامیہ کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، صرف عدلیہ کی ہی سمت کی درستگی کو انعام نہیں دیا جا سکتا ۔کچھ سہر ا تو چین کے سر بھی ہوجانا چاہیئے کیونکہ وہ اپنی سر مایہ کاری کو ڈوبنے سے بچا نے کے لئے معاملات کی درستگی چاہتے ہونگے سو کہیں کی ڈوریں تو انہوں نے بھی ہلائی ہونگی ۔پھر ایک نیا منظر جنم لے رہا ہے جو آئی جے آئی کی صورت میں ہمارے آنکھوں کے سامنے طلوع ہونے کو بیتاب ہے ۔ ایک وقت تھا جب مذہبی جماعتوں کی اکثریت کی پشت پناہی اسٹیبلشمنٹ کیا کرتی تھی کیونکہ مذہبی جماعتیں ان کے کئی محاذ سنبھالتی تھیں ، اب صورتحال میں کچھ تبدیلی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ جمہوریت اور جمہوریت کے پروانوں کے وفادار دکھائی دیتے ہیں ۔ میاں نواز شریف کی حکومت کو عمران خان کے دھرنے کے دنوں میں بھی اُلٹنے سے مولانا فضل الرحمن نے ہی بچایا تھا ۔ اب بھی وہ اپنے مئوقف سے قطعی دستبردار دکھائی نہیں دیتے ۔ جماعت اسلامی پر ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہونے کا الزام ہے ۔ ان دونوں بڑی جماعتوں کا آئی جے آئی کے جھنڈے تلے اکٹھا ہو جانا ، ایک اور تشویش کو جنم دیتا ہے ۔ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں ، کیا ہورہا ہے اور دراصل کیا ہونے والا ہے ؟ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے کیونکہ مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش گوئی ہم بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ، ہم کسی بھی بات پر قادر نہ ہونے کے باوجود سب کچھ جان لینا چاہتے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ ہمیں سب معلوم ہو ہم سب جانتے ہوں ، سب ہمارے سامنے عیاں ہوتا کہ ہمیں کسی بات پر کبھی کوئی حیرت محسوس نہ ہو ، کسی بھی بات پر کوئی اچنبھانہ ہو ۔ کوئی بات ہمیں کسی مخمصے کا شکار نہ کر دے پھر بھی ہماری نظر محدود ہے اور منظر ایک حد سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا ۔ بصارت کو کبھی کبھار بصیرت لا محدود کی حدوں میں لا کر کھڑا ضرور کر دیتی ہے لیکن اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے یہ فیصلہ بھی وقت ہی کیا کرتا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت بہت کچھ ہورہا ہے ۔ ہر ایک جگہ پر اپنا پنا منظر تخلیق ہورہا ہے ۔ ہر ہلچل کے پیروں میں اپنے ہی کئے کے بھنور ہیں اور دیکھنے والے کسی اثبات کی امید میں دم سادھے بیٹھے ہیں ۔ وہ یہ سمجھنے کے لیے شاید تیار ہی نہیں کہ دم سادھنے سے حالات میں کسی قسم کی بہتری نہیں آیا کرتی ۔ یہ کوئی خطرہ نہیں جس سے ڈر کر دبک جانا ہے اور وقت گزرنے کا انتظار کرنا ہے ۔ یہ ہمارا مستقبل ہے اور ہمیں اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہت محنت سے اس مٹی سے ایک نیا منظر ، ایک نیا ملک ایک نیا دن ، ایک نئی امید گھڑنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہمیشہ ہی اس بچینے کا شکار رہیں اور اپنے لیے کچھ نہ کر سکیں ۔ اب کوئی تو کہے کہ ہمیں کیا سوچنا ہے ؟ اور کس صورت کا کیا حال سوچنا ہے ۔

متعلقہ خبریں