Daily Mashriq


لوح بھی تُو قلم بھی تُو

لوح بھی تُو قلم بھی تُو

دینِ اسلام کے بنیادی ستون دو ہیں۔ اول ‘ اللہ کی وحدانیت ‘ دوم، محمدؐ کی ختم نبوتؐ۔ روزِ اول سے اسلام کے دشمنوں نے ان دو ستونوں کو گرانے کی کوششیں کی ہیں مگر رسولؐ عربی کے غلام ہمیشہ آڑھے آ گئے۔ برصغیر میں میلاد النبیؐ پر مسلمانوں کا جوش و خروش غیر معمولی اس لیے ہے کہ یہاںمسلمانوں کی حکومت میں ایک بادشاہ کی زیرِ سرپرستی آقائے دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس کی اہمیت کم کرنے کی جسارت کی گئی ۔ ظل الٰہی کے تصور نے بادشاہ کو ایک نئے دین کی جانب راغب کیا لیکن دین اکبری کے اس الحاد کے آگے مجدد الف ثانی ڈٹ گئے۔ توحید کے باب میںآپ کی کاوشیں ’’رسالہ تہلیلیہ‘‘ کی صورت میں سامنے آئیں جب کہ ’’اثبات نبوتؐ‘‘ لکھ کر آپ نے پیارے نبیؐ کی رسالت کو عامۃ الناس کے سامنے اُجاگر کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر عرض ہے کہ اکبر کے عہد سے لے کر انگریز کی آمد و اقتدار تک مسلمانوں کا ایک گروہ جو تعداد کے لحاظ سے انتہائی چھوٹا ہے اسلام دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا حصہ بنتا آیا ہے۔ اس مفاداتی گروہ نے ہر اس اقدام کی ہمیشہ حمایت کی ہے جس سے دشمنانِ اسلام خوش ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کی پیداوار ہے جس کا مقصد محمدؐ کی ختم نبوتؐ کے حوالے سے مسلمانوں کے عقیدے کو کمزور کرنا اور شکوک و شبہات پھیلانا تھا۔ مرزا قادیانی کا نظریہ اپنی موت آپ مر گیا لیکن قادیانیت کا ناسور پاکستانی معاشرے میں موجود رہا تاآنکہ پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اہل اسلام کی صفوں سے نکال باہر کیا۔ ختم نبوتؐ کے عقیدے کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز ہوئے جن میں انتخابی قوانین اور حلف نامے شامل ہیں۔ ظاہر ہے یہ اقدامات ان قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے جو اسلام کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔ اور جن کا خیال ہے کہ رسالت محمدیؐ کے ساتھ مسلمانوں کی جذباتی وابستگی کم کرنے سے ہی اسلام کی عمارت گرائی جا سکتی ہے۔ جب سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے ختم نبوتؐ کے قوانین منظور کیے ہیں ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان میںنام نہاد لبرل ازم کی آڑ میں ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور درپردہ ہاتھ آج بھی اپنا کام دکھانے میں مصروف ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء میں حلف نامے کی عبارت کی تبدیلی اور کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز 2002کی شق 7Bاور 7Cکو نکالنا اس بات کی طرف اشارہ ہے، یہ کام کس کی خوشنودی کے لیے کیا گیا ہے۔ اگر کہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے تو راجہ ظفر الحق کی مرتب کردہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے اور اس کام میں ملوث افراد کے نام بتانے میں کیا امر مانع ہے؟

تحریک لبیک یارسولؐ اللہ کا اسلام آباد دھرنا بھی ان کرداروں کو بے نقاب کرنے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہے جنہوں نے ناموس رسالتؐ کو غیر اہم سمجھا اور جان بوجھ کر حلف نامے کی عبارت کو تبدیل کرکے ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ کرنے کی ناپاک حرکت کی۔ دھرنے والے راجہ ظفر الحق کی سرپرستی میں کام کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ کو تسلیم کرنے پر رضامند ہیں لیکن حکومت اپنی ہی مرتب کردہ رپورٹ کو سامنے لانے پر کیوں تیار نہیں ہے؟یہ بات واضح ہے کہ اگر دھرنے والے اسلام آباد سے چلے گئے تو ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی کرنے والے کبھی بے نقاب نہیں ہو سکیں گے۔ جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی طرح یہ رپورٹ بھی ہمیشہ راز ہی رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے حکومت کی ساکھ بری طرح خراب ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک کا مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون پہلے استعفیٰ دیں اس کے بعد مزید بات ہو گی۔ حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے گریز کیا اور راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو تیرہ دن شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ اپنی ساکھ کے ساتھ ساتھ حکومت اپنی رٹ بھی کھو بیٹی ہے۔ حکومتی رٹ کا مطلب یہ نہیں کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف آپریشن کیا جائے ‘ مذاکرات مسائل کے حل کا ایک راستہ ہے مگر حکومت نے تیرہ دن گزر جانے کے بعد دھرنا قائدین سے پہلا باضابطہ رابطہ کیا ہے۔ جب حکومت ان حالات سے دوچار ہو جائے تو اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔تحریک لبیک یا رسولؐ اللہ کے قائدین اور کارکنان اپنے مطالبات میں حق بجانب تھے اور ہیں مگر حکومت نے بے حسی دکھائی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہ کی۔ غلطی کا اعتراف اپنی جگہ اہم ہے مگر ذمہ داروں کا تعین کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ تقریباً ایک صدی پر محیط ڈائیلاگ کے بعد قادیانی ایشو طے ہوا تھا جسے دوبارہ چھیڑ کر قوم کو بے چینی میں مبتلا کیا گیا۔ ایک ’’سیٹیلڈ ایشو‘‘ کو چھیڑنا اور وہ بھی اس انداز سے کہ الفاظ کے ہیر پھیر سے حکومتی بدنیتی بھی عیاں ہوتی ہو تو کیا اس کے بعد یہ مطالبہ کرنا بے جا او رغلط ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے اُن کو سزا دی جائے۔ اس جرم کی سزا کسی شخص کو منصب سے بے دخل کرنا بھی ہو سکتی ہے اور شاید یہ اقدام کسی حد تک تحریک لبیک سمیت اُن تمام لوگوں کے اطمینان کا باعث بن جائے جو سمجھ رہے ہیں کہ چند حکومتی ذمہ داران نے جان بوجھ کر ختم نبوتؐ کے قانون میں ردوبدل کیا ہے۔ رسالت محمدیؐ کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہی ہمارا اثاثہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس پر کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا ہے۔ حکومت ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے اپنی صفوں میں سے اُن لوگوں کو نکال باہر کرے جو قوم میں بے چینی پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔

لوح بھی تُو قلم بھی تُو تیرا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب

متعلقہ خبریں