Daily Mashriq

فاٹا کی حالتِ زار میں بہتری کی ضرورت

فاٹا کی حالتِ زار میں بہتری کی ضرورت

اس وقت تقریباً 43 ملین پختون آبادی امن اور انتہاپسندی اور جدیدیت اور روایتی طرزِ زندگی کے درمیان معلق ہے اور یہ اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا ہے جس کی یہ سزا مل رہی ہے۔ فیڈرلی ایڈمنسٹرڈ ٹرائیبل ایریا (فاٹا) وہ علاقہ ہے جسے افغانستان پر سویت یونین کے حملے کے بعد بفرزون کا درجہ دے دیا تھا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، اس علاقے میں رہنے والے پختونوں کی زندگی نارمل نہیں رہی۔ فاٹا میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے آغاز سے پہلے اس علاقے کا انتظام پولیٹیکل ایجنٹس، ملکوں اور قبائلی عمائدین پر مشتمل تھا جس میں قبائلی سردار اور عمائدین عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کام کرتے تھے۔ جیسے ہی اس علاقے میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ ملا، ملک کی اہمیت اور اختیارات ختم ہوتے چلے گئے۔ 1997ء میں فاٹا میں بالغ رائے دہی کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے بعد علاقے کے 37,000 ملک اپنا اثرورسوخ کھو بیٹھے اور مذہبی قائدین ایک نئی قوت بن کر سامنے آئے۔شہری علاقوں کی طرف بے تحاشہ منتقلی، ذرائع ابلاغ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ اور انتہاپسندی کے آغاز سے حجرے کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ۔ حجرہ اور جرگہ مقامی حالات کے مطابق تنازعات کا حل نکالنے میںانتہائی موثر سمجھے جاتے تھے لیکن فاٹا میں شوریٰ کے تعارف کے بعد نہ صرف فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی اہمیت کم ہوئی بلکہ جرگے کے نظام کو بھی نقصان پہنچا ۔ اس کے علاوہ فاٹا کے کچھ علاقوںمیںلشکر کا نظام بھی دوبارہ نافذ ہونا شروع ہوگیا تھا جس کے بعد دہشت گردوں نے لشکرکے اراکین کو ہدف بنانا شروع کردیا۔ مڈل ایسٹ میںرہنے والے پختونوں کی جانب سے بھیجے جانے والے پیسے اور عرب ثقافت نے علاقے کی شناخت اور سماجیات کو تبدیل کردیا اور علاقے میں ’عرب بائزیشن‘ نے فروغ پانا شروع کردیا جس کا آغاز مڈل ایسٹ سے علاقے کی مساجد کو ملنے والی فنڈنگ سے ہوا۔ 9/11 کے بعد پختون آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی اور خیبر پختونخوا، جو پہلے ہی افغان مہاجرین کی میزبانی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، کو آئی ڈی پیز کا بوجھ بھی اٹھاناپڑا۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پختونوں کی ایک بڑی تعداد ذریعہ معاش کی تلاش میں ہجرت کرتی رہی ہے لیکن فاٹا میں بدامنی نے اس ہجرت کی رفتار اور مہاجرین کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کردیا اور دہشت گردی نے ہجرت کی وجہ کے طور پر ذریعہ معاش کی جگہ لے لی۔اس وقت اگر ہم صرف خیبر پختونخواکے ایک ضلع کی بات کریں تو ہنگو خیبر پختونخوا کا وہ ضلع ہے جس کی آبادی کی اکثریت کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے ہے۔ ہنگو میں فاٹا سے آنے والے مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے ضلع کا انتخابی منظر نامہ تبدیل کردیا اور مقامی بنگش عمائدین کو سیاسی حلقوں میں غیر موثر کردیا ہے۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں وزیر، محسود اور بھٹانیوں نے بڑے بڑ ے رقبے خریدے ہیں اور پشاور میں مہمند ، آفریدیوںاور شنواریوں نے بڑے پیمانے پر پراپرٹی خرید کر مقامی ہندکو بولنے والے پشاوریوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دوسری جانب پختونوں کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کا رخ بھی کیا ہے جس کی وجہ سے کراچی اس وقت دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں پر پختونوں کی آبادی تقریباً 70 لاکھ ہے۔مالاکنڈ اور فاٹا سے آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی کا نقشہ بھی تبدیل کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس ہجرت سے اسلام آباد میں اہلِ تشیع افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو سے بہت سے شیعہ خاندانوں نے اسلام آباد ہجرت کی ہے۔ فاٹا میں جہاں 25لاکھ مہاجرین کی وجہ سے معیشت اور معاشرت میں تبدیلیاں آئی ہیں وہیں پر افغان جنگ اور 9/11 کی وجہ سے مذہبی حلقوں کے اثرورسوخ میں اضافے کے باعث ’’خان ازم‘‘ میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔علاقے میں دہشت گردی کی وجہ سے لوگوں کی فلاح وبہبود کے کام تقریباً ختم ہوگئے ہیں کیونکہ انتظامیہ کی پوری توجہ انسدادِ دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام پر ہے۔ایک طویل عرصے سے بند پڑے ہوئے پولیس اسٹیشنز کی وجہ سے عام لوگوں کی انصاف تک رسائی ممکن نہیں رہی ۔ لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے خیبرپختونخوا پولیس نے پولیس ایکسیس سروس اور پولیس اسسٹنس لائنز متعارف کروائی ہیں جن کے تحت سال2015 ء سے لے کر اب تک 368,849شہریوں کی معاونت کی گئی ہے اور 14,169 شکایات پر ایکشن لیا گیا ہے۔9/11 سے پہلے پولیس کو ٹارگٹ کلنگ، آئی ای ڈی، خود کش حملوں اوربھتہ لینے جیسے جرائم سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی جاتی تھی لیکن اس کے بعد پولیس کاکائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ تشکیل دے کر ان جرائم سے نمٹنے کی تربیت شروع کردی گئی۔خیبر پختونخوا اور فاٹا کے علاقوں میں ہتھیاروں تک باآسانی رسائی کی وجہ سے ان دونوں علاقوں میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے بلکہ عدم برداشت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب گمشدہ افراد کی ایک بڑی تعداد بھی انتہائی پریشان کُن ہے اور 2009ء سے لے کر اب تک تقریباً 1000 سے زائد افراد گُم ہوچکے ہیں جن میں سے 560 افراد کا سراغ مل پایا ہے جبکہ باقی ماندہ افراد کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے افغانستان میں عسکری گروہوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے پختونوں کی حالتِ زاربدلنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے جن میں دہشت گردی کا خاتمہ سرِ فہرست ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں