Daily Mashriq


بجلی کے بعد اب سوئی گیس لوڈ شیڈنگ

بجلی کے بعد اب سوئی گیس لوڈ شیڈنگ

سردیاں شروع ہوتے ہی گیس لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہوگئی ہے ۔پہلے تاروں سے بجلی غائب تھی اور اب سوئی گیس کے پائپوں سے گیس غائب ہے۔ پہلے گھنٹوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو تی تھی اور اب بجلی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ گیس لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی جا ری ہے۔مو جودہ حکومت لوگوں کو دھڑا دھڑ بجلی اور گیس کنکشن دے رہی ہے ۔ مگر گیس اور بجلی کے جو پہلے صا رفین ہیں ان کو بجلی اور گیس نہیں ملتی اور حکومت کو ان صا رفین کو گیس اور بجلی دینے میں مشکلات ہیں ، مزید صا رفین کو بجلی اور گیس کنکشن دینے کی کیا ضرورت تھی۔بات وسائل کی کمی کی نہیں بد نظمی اور خراب حکمرانی کی ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار کو دیکھیں تو خیبر پختون خوا میں گیس کے کُل ذ خائر 19 ٹریلین مکعب فٹ ہے اور تیل کے کُل ذخائر 600 ملین بیرل ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تیل پیدا کرنے کی صلا حیت 93 ہزار بیرل یو میہ ہے۔ جس میں خیبر پختون خوا سے تیل پیدا کرنے کی صلا حیت تقریباً 53 ہزار بیرل یومیہ ہے جو پاکستان کی کل پیداوار کا 54 فی صد ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں کل قد رتی گیس اور ایل پی جی پیدا کرنے کی صلا حیت بالترتیب 17 اور 25 فی صد ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ او جی ڈی سی کے مطابق اس ادارے نے خیبر پختون خوا میںگزشتہ 17 سالوں میں 523 ارب روپے کا تیل اور گیس نکالی ہے جو سالانہ 31 ارب روپے بنتے ہیں۔ اسی طر ح پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت تقریباً 6444 میگا واٹ ہے جس میں صرف خیبر پختون خوا سے 4200 میگا واٹ بنتی ہے جو پانی سے بجلی پیدا کرنے کا 65فی صد ہے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ خیبر پختون خوا میں گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ کا لامتناہی سلسلہ کیوںہے ۔ سوئی گیس صارفین پھر روایتی طریقہ کار کے مطابق لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں۔ وفاقی حکومت خیبر پختون خوا کے وسائل کو لوٹ رہا ہے جبکہ اسکے بر عکس نہ صرف اس کو بہت کم سبسڈی دی جا رہی ہے بلکہ سخت لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔ مسئلہ صرف بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ تک ہی محدود نہیں ۔خیبر پختون خوا میں واپڈا اور سوئی گیس بل تقسیم کرنے والا عملہ سوئی گیس اور بجلی کے بل صارفین کے گھروں تک نہیں پہنچاتے بلکہ کریانے، موچی، درزی ، نان بائی، مُرغی فروشوں اور نائی کی دکانوںمیں چھو ڑ جاتے ہیں اور پھر یہ صا رف کی قسمت کہ اسے بجلی یا گیس کابل ملتا ہے یا نہیں ۔اکثر بل صارفین کو مقررہ وقت پر نہیں پہنچ پاتے نتیجتاًصارفین واپڈا یا سوئی گیس کی طرف سے عائد جُرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔میرا خود سوئی گیس بل گزشتہ کئی مہینوں سے وقت پر نہیں ملا ۔ پاکستان پیپلز پا رٹی کے دور حکومت میں جب بین الاقوامی ما رکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تھیں اُس وقت بجلی کا ریٹ موجودہ دور کے ریٹس سے آدھا تھا مگر اب جبکہ ما رکیٹ میں تیل کی قیمت 36 ڈالر ہے تو اس وقت ایک یو نٹ کی قیمت 31 روپے فی یو نٹ ہے۔ مُجھے خیبر پختونخوا اور بالخصوص صوابی سے ہزاروں ای میلز اور میسجز موصول ہوئے ہیں جس میں گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شکایت کی گئی ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کون کے پی کے کے لوگوں کے خلاف اس سازش میں ملوث ہے ۔اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خیبر پختون خوا کے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرے ۔ ہمیں نہیں پتہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کیا سازش کرتی ہے مگر کسی سے جواب طلبی اور اپنے لوگوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا آپکی ذمہ داری ہے اگر آپ کسی سے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی بات نہیں کر سکتے تو حکومت پر آپ کا حق نہیں بنتا۔آپ ہمیں کب تک یہ کہتے رہیں گے کہ بجلی اور گیس وفاقی معاملات ہیں ۔ خیبر پختون خوا کے واپڈا اور سوئی گیس کے اعلیٰ حکام کو چا ہیئے کہ وہ بھی کم ازکم اپنے اداروں کی بہتری کے لئے کام کریں۔ میں اداروں کی نجکاری کا ہمیشہ مخالف رہا ہوں اور میں نے ہمیشہ اداروں اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کے حق میں قلم اُٹھا یا ہے مگر ابھی اداروں کی ناگُفتہ بہ حالت دیکھ کر مُجھے بھی احساس ہوگیا کہ اداروں کی نجکاری ضروری ہے۔ اوراداروں کی نجکاری میں خود غرض حاکموں کے علاوہ ان اداروں کے ملازمین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اگر ان اداروں کے ملازمین بے لوث طریقے سے اداروں اور لوگوں کی خدمت کریں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی حکومت اداروں کی نجکاری کرے۔ اس وقت پاکستانی لوگ اُن اداروں سے سخت نالاں ہیں جو ادارے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔اس وقت پاکستان میں کرپٹ ترین اداروں میں واپڈا اور سوئی گیس صف اول میں کھڑے ہیں۔ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے جاتے ہیں مگر پاکستان میں عوام ان اداروں سے پریشان ہیں۔مشترکہ خاندان میں بجلی اور سوئی گیس بل اب لڑائی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق اکثر جائنٹ فیملی میں سوئی گیس اور بجلی گیس پر لڑائی ہوتی ہے۔میرا تعلق صوابی سے ہے اورصوابی میں گزشتہ تین ماہ سے گھریلو صا رفین کے لئے گیس نایاب ہے۔

متعلقہ خبریں