Daily Mashriq

باغبان

باغبان

کسان کازمین کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے ۔ زمین اسے نیست سے ہست کے کرشمے دکھاتی ہے ۔ بظاہر ایک بے جان سا ، ننھاسا تخم زمین کی کوکھ میں جاکر اپنے امکانات کو ظاہر کرتے کرتے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔زیست کا سب سے خوبصورت حوالہ یہی تو ہے کہ تخلیق کے عمل کا حصہ بنا جائے ۔ گزشتہ چند برسوں سے کچن گارڈننگ کا شوق پال رکھا ہے ۔ اپنے ہاتھوں سے بیج بونا اور پھر انتظار کرنا کہ کب بیج پھوٹے گا اور کب بار آور ہوگا ، کب پھل دے گا ۔یہ سارا پراسس مختلف کیفیات لیے ہوتا ہے،ایک عجیب دلچسپی لیے ہوتا ہے۔ہر روز ایک نئی کیفیت ایک نیا نظارادیکھنے کو ملتا ۔بحیثیت باغبان مجھے بھی ان ننھے پودوںکے ساتھ لمحہ لمحہ جینا پڑتا ہے ۔ کسی بھی کسان، باغبان کے لیے اس سارے عمل میں دو مقامات انتہائی خوشی کے ہوتے ہیں ۔پہلا وہ جب بیج پھوٹ کر کونپل کی صورت زمین سے اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے اور دوسر ا موقع وہ جب بارآورپودے سے پھل توڑا جاتا ہے ۔ میں بحیثیت کچن کسان ایسے کئی خوشگوار لمحوں سے گزرا ہوں۔یقین کیجئے اس خوشی کا کوئی مول نہیں ۔زندگی بھی کبھی کبھی باغبانی کی طرح ہوجاتی ہے جیسے ایک باپ ایک ماں اپنے ننھے شیر خوار بچے کو گود میں کھلا کر پالتے ہیں ۔ اس بچے کی ناتوانی میں اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔یوں کہیں جاکر وہ بچہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے اور ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے ۔ دنیا کی سب سے مشکل باغبانی یہی تصور کی جاسکتی ہے ۔ اسی نسبت سے اس کا پھل بھی اتنا ہی میٹھا ہے ۔بحیثیت استاد میں باغبانی کے دلفریب لمحوں سے گزرا ہوں ،ایسی ایسی لذتیں میسر آئیں کہ اللہ ہی جانتا ہے اور جو بیان سے باہر ہیں ۔بہت سے شاگردوں کو کامیاب و کامران دیکھتا ہوں تو دل خوش ہوجاتا ہے کہ ان کی کامیابی و کامرانی میں میرا بھی تھوڑا سا حصہ موجود ہے ۔ گزشتہ روزایسی ہی ایک سرشاری کی کیفیت سے گزرا ہوں ۔گورنمنٹ کالج پشاور کے شعبہ اردو نے صوبے میں جاری چار سالہ بی ایس پروگرام کے تحت صوبے کے پہلے بی ایس اردو تھیسس کا وائیوا کروایا اور دو گروپس کو کامیاب قرار دیا گیا ۔عام طور پر صوبے میں جاری بی ایس پروگرام پر لوگ تحفظات کا اظہار کرتے ہیں لیکن میں اس کو ایک مکمل تعلیمی سسٹم سمجھتا ہوں ، کیونکہ اس میں سیکھنے اور سکھانے کے بہت سے امکانات موجود ہیں ۔ مجھے نہیں یاد کہ میں خود کبھی بی ایس کی کلاس میں بغیر لیکچر تیار کیے کلاس روم میں داخل ہونے کی ہمت بھی کرسکا ہوں ورنہ ایف اے ایف ایس سی اور بی اے کے کورس تو پڑھا پڑھا کرلیکچر تیار کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ۔بی ایس سسٹم نے استاد کو پڑھنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ بغیر پڑھے استاد بھی اس سسٹم میں ایکسپوز ہوسکتا ہے ۔چار سال اُدھر جب گورنمنٹ کالج میں بی ایس اردو کا آغاز کیا تھا شعبہ کے تمام رفقاء نے خوشی اور دلچسپی سے اس چیلنج کو قبول کیا تھا ۔ ایک نئے سسٹم میں آنے والی بہت سی مشکلات و مسائل کوبرداشت کرتے اور حل کرتے۔پہلا بیچ اسی سال فارغ کیا گیا ۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب گورنمنٹ کالج پشاور میں بی ایس اردو کا آغاز کیا تو صوبہ خیبر پختونخوا کی کسی یونیورسٹی میں یہ بی ایس نہیںپڑھایا جارہا تھا جبکہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے بھی بی ایس اردو ہم سے دو برس بعد شروع کیا تھا ۔ اس حوالے سے بہت سے ابتدائی کام شعبہ اردو گورنمنٹ کالج کو خود کرنے پڑے۔بحیثیت صدر شعبہ (اس وقت کے ) میرا بھرم اس لیے رہ گیا تھا کہ شعبہ میں ایک بہترین ٹیم کا ساتھ میسر تھا ۔میری ٹیم میں ڈاکٹر تاج الدین ، تنویراحمد ، اختر جان ،سیف اللہ خان ، ملک عمران ، جمیل الرؤف ، شاہ سعود ،عبدالحمید آفریدی ،نوید علی محمد عمران ، ساجد علی اور عبدالرشاد شامل تھے لیکن ہم سب میں سید ولی شعبہ کا رونالڈو تھا جو سب سے آگے کھیلا اور اب بھی سٹار ہے ۔گزشتہ روزشعبہ اردو میں بی ایس اردو کے فائنل سمسٹر کے طلباء کو دیے گئے3 تحقیقی مقالوں میں سے دومقالوں کازبانی امتحان تھا ۔ جس کے لیے شاگرد رشید ڈاکٹر سید شیر اورنئی نسل کے بہت اچھے شاعر ڈاکٹر اسحاق وردگ بیرونی ممتحن کی حیثیت سے آئے تھے ۔ پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین تاجورجو آج کل گورنمنٹ کالج پشاور کے قائمقام پرنسپل ہیں ، ان ہی کی نگرانی میں لکھے گئے دو مقالوں کا VIVA تھا ۔1:’’اردو پر فارسی کے اثرات ‘‘پر کام طالب علم عبدالماجد اور بختیار شاہ نے کیا جبکہ ’’آب گم کا تنقیدی جائزہ‘‘پرعدنان خان ، سہیل خان اور فواد خان نے کام کیاہے۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر تنویر احمدکی زیر نگرانی ’’ اردو خاکہ نگاری میں البم کا مقام ‘‘کے موضوع پر قیصر خان ،ثاقب وعلی اور محمد عباس نے کام مکمل کرلیا ہے اور یونیورسٹی کی جانب سے جلد ہی اس کے وائیوا کی تاریخ دی جائے گی ۔ میرے لیے خوشی کی بات یہ تھی کہ آج میں اس فصل کا پھل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ پروفیسر تنویر احمد کی صدارت میں شعبہ اردو اس پھل کو درخت سے اتار رہا تھا ۔ ڈاکٹر تاج الدین بھی خوش تھے کہ ان کی آرزو پوری ہوئی ۔ طالب علموں کی آنکھوں میں کامیابی کی جوچمک تھی اس پر میں اپنے اس عجز کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ بیان سے باہر ہے ۔اور اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ میرے اور شعبہ اردو کے بچے اس زبانی امتحان میں صاف اور شستہ اردو بول رہے تھے ،مجھے خوشی اس لیے بھی کہ مجھے ان بچوں کا وہ پہلا دن بھی یاد تھا کہ جب وہ شعبہ میں آئے تھے تو اردوبولنا ان کے لیے بہت ہی مشکل تھا۔میری اس خوشی کو ایک استادہی سمجھ سکتا ہے یا پھر کوئی باغبان کہ جو فصل اگانے کا فن جانتا ہے ۔