Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت احیر م ؓ (عمر و بن ثابت) نے اپنے دل میں اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا ، لیکن ان کا سودی لین دین کا کاروبار تھا ، اس لیے یہ چاہتے تھے کہ پہلے اپنا قرض وصول کرلیں ، تب اسلام کا اعلان کریں ۔ اسی دوران قریش مکہ نے مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا ، تمام شیدائیان رسول ؐ ان کے مقابل کے لیے احد کے دامن میں جاپہنچے ۔ احیرم ؓ باہر گئے ہوئے تھے ۔ واپس آئے تو دیکھا کہ ان کا پورا محلہ خالی پڑا ہے ۔ سب طرف سناٹا ہے ۔ انہوں نے پوچھا آج خاندان عبدالاشہل کے لوگ کہاں گئے ہیں ؟ عورتوں نے بتایا : وہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ میدان احد گئے ہیں ۔ یہ سن کر انہیں اپنے اسلام لانے کی تاخیر کا بڑا افسوس ہوا سو چا تمام خاندان تو اس محبوب دو جہاں ؐ کی حفاظت کے لیے میدان جنگ میں جا پہنچا اور میں بزدلوں کی طرح یہاں موجود ہوں ۔ اس خیال کے ساتھ ہی زور سے کلمہ طیبہ پڑھا ۔ پھر زرہ خود پہنا ، ہتھیار لگائے اور احد کی طرف روانہ ہوگئے ۔ میدان کارز ار گرم تھا ۔ آپ فوراً جنگ کی آگ میںکود پڑے ، نہایت بہادری سے لڑتے رہے ۔ کفار کی صفوں کو تہ و بالا کر ڈالا ۔ آخرشدید زخمی ہو کر گر پڑے ۔ بنو عبدالاشہل جب اپنے شہیدوں کی لاشیں تلاش کرنے نکلے تو دیکھا کہ احیرم ؓ بھی مردوں میں پڑے ہیں ، کچھ سانس چل رہی ہے ۔ پوچھا : ’’تم یہاں کیسے ؟ شاید قومی حمیت کھینچ لائی ؟ ‘‘ کہا : ’’ نہیں ، رسول اکرم ؐ کی محبت کھینچ لائی ، میں مسلمان ہوگیا ۔ ‘‘ زخمی حالت میں ان کو گھر لایا گیا ۔ ان کی بہن نے ایمان لانے کا تمام قصہ سنایا ۔اسی وقت انتقال ہوگیا ۔ رسول اکرم ؐ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا : ’’انہوں نے عمل تھوڑا کیا ، لیکن اجر کثیر پایا ، وہ بے شک جنتی ہیں ‘‘۔ (صحیح بخاری ، کتاب الرجال ، ابودائود ، صحیح مسلم ، نسائی )

منذر بن سعیدؒ اپنے دینی امور میں بہت سخت تھے‘ خلیفہ وقت ناصر بھی ان کی بڑی عزت و تکریم کرتا تھا لیکن اس کے باوجود منذر بن سعیدؒ خلیفہ کو اس کی دینی کوتاہیوں پر سرزنش کرتے رہتے تھے۔ جب اس نے قصر زہرا تعمیر کیا تو حضرت مندر بن سعدؒ کو ناصر کی یہ دنیاوی مشغولیت پسند نہ آئی‘ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبہ میں جبکہ ناصر بھی موجود تھا۔ آپ نے اپنا خطبہ قرآن مجید کی اس آیت سے شروع فرمایا:(ترجمہ)’’ آپ فرما دیجئے دنیاوی فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت خیر ہی خیر ہے ان لوگوں کیلئے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔‘‘اسکے بعد منذر بن سعیدؒ نے دنیاوی لذتوں میں مصروف رہنے والوں اور آخرت سے بے خبری برتنے والوں پر ایک پر اثر وعظ کہا‘ دنیاوی معاملات میں زہد کی تعلیم دی اور موت جیسی حقیقت کو یاد دلایا۔ راوی کا بیان ہے کہ پورا مجمع فرط خوف سے زار و قطار رو رہا تھا اور خود ناصر بھی اشکبار تھا اور چہرے پر ندامت کے آثار تھے۔ (معجم الادباء ج 7صفحہ نمبر182)

اچھی اور بھلائی کی باتیں ان پر ہی اثر کرتی ہیں جس کے دل نرم ہوں اور نیکی کی طرف رغبت رکھتے ہوں ۔ جن کے دل سخت ہوتے ہیں ان پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا وہ اپنے غلط عمل کیلئے تاویلیں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں