Daily Mashriq

بعداز خدا توئی قصہ مختصر

بعداز خدا توئی قصہ مختصر

نامدار ختم المرسلین حضرت محمدؐ کو بعد رب ذوالجلال سب سے محبوب رکھنا ہمارے عقیدے عقیدت اور ایمان کا جزو ہے مگر آج اس محبت کے تقاضوں کو بھی ہم مسلمان وجہ نزاع بنانے کی جو غلطی کرتے ہیں اس یوم ولادت رسول اکرمؐ پر ہم سب کو اپنے اپنے اس کردار وعمل کا تعلیمات نبویؐ کی روشنی میںجائزہ لینا چاہئے۔ اہل ایمان کو رسول خداؐ سے محبت وعقیدت کیوں نہ ہو کہ خود رب کائنات نے اپنی اور فرشتوں کی طرف سے حضرت محمدؐ پر درود وسلام کا قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔ مدح رسولؐکے جداگانہ انداز اور عقیدت کے مظاہرکی تو گنجائش ہے لیکن اس کیلئے بھی شرط ان حدود قیود کی ہے جس کا تعین قرآن وحدیث میں ہے۔ آج ہم عاشقان رسولؐ خود ہی اپنے کردار وعمل کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ آج جس کا بھی کردار وعمل دیکھو اس ہستی کی تعلیمات سے موافق دکھائی نہیں دیتا ہم یہ تسلیم بھی کرتے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ وہی ہستی مکرم ہمارے جان ومال اور اولاد سے زیادہ محبوب اور اس کی محبت تکمیل ایمان کا سبب ہے مگر عملی طور پر ہمارا ایمان کس قدر پختہ اور حب رسول کریمﷺ سے ہم آہنگ ہے ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے اور اپنے قلب ودماغ سے اس کا جواب مانگنا چاہئے کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج ہم سب زبانی کلامی تو اللہ رب العزت کے محبوبﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہیں مگر ہمارے اذہان وقلوب شک سے نہیں تو کم عملی سے ضرور ڈھکے ہوئے ہیں۔ سرور کائناتﷺ، جہالت وتعصبات‘ کینہ پروری‘ زورازوری اور نفاق کو ختم کرنے کیلئے تشریف لائے‘ مگر ہم میں یہ سارے امراض چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اتحاد واتفاق کی فراوانی کی جگہ نفرت وتنگ نظری کا دور دورہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے یہ درس ہی بھلا دیا ہے کہ ’’بہترین مومن وہ ہے جو اپنے لئے پسندیدہ چیز اپنے بھائی کیلئے بھی پسند کرے۔‘‘ ہم خود تو سب کچھ کی خواہش پالتے پوستے آگے بڑھ رہے ہیں مگر بھائی کے تن پر اُجلا لباس بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ آپؐ نے فرمایا تھا‘ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ، زبان اور عمل سے دوسرے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے کچھ بھی محفوظ نہیں۔ آقائے نامدارﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اختلاف رائے میں قدرت کی رحمت پوشیدہ ہے۔ ہم نے اختلاف رائے کو انکار اور انکار کو کفرکا درجہ دیدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحصیل علم کے دروازے بند کر بیٹھے۔ مکالمہ تو خالصتاً زندیقیت کے زمرے میں ڈال لیا ہے۔ ہم اب بھی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں‘ انہیں نورعلم کا زیور تو ہم پہنانے سے رہے اُلٹا ان کے وہ حقوق بھی دینے پر تیار نہیں جو آپؐ نے بحکم خدا بتلائے تھے۔ اپنے سماج کی اس نصف آبادی (عورتوں) کیلئے ہماری سوچ آج بھی انقلاب محمدؐ سے قبل کے زمانے والی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے شرعی حقوق دینے کی بجائے ہزار عذر نکال لیتے ہیں۔ بہانہ سازی میں فی الوقت ہماری مثال کوئی نہیں۔ ہم تو زکواۃ صدقات اور چندات دیتے وقت بھی اس ارشاد گرامی کو سامنے نہیں رکھتے کہ ’’ایک ہاتھ سے ایسے دو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلنے پائے‘‘۔ ایسے ہر موقع پرہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ پورا محلہ‘ گاؤں اور شہر ہماری دریا دلی سے کاملاً آگاہ ہو۔ اس سے بڑھ کر انحطاط کا عالم کیا ہوگا کہ آج ہم بھائیوں کا گوشت کھانے والا سماج بن کر رہ گئے ہیں۔ صدیوں سے لگی اس لذت دہن کی وجہ سے اب ہمیں اور کوئی غذا مرغوب بھی نہیں۔ ہم بھائیوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی بجائے ان عیوب پر ڈھول پیٹنے کو برا بھی خیال نہیں کرتے۔ گردن تک نفس پرستی میں دھنسے ہم حیات ابدی کا حقیقی سامان کرنے سے محروم ہیں۔ذرا غور کیجئے تو آج سیرت مصطفی ؐ کا ذکر اور اسوحسنہ کی پیروی کی ترغیب تو بہت ملتی ہے، درود وسلام کی بابرکت محافل کا انعقاد بھی پورے اہتمام سے ہوتا ہے مگر محبوب خدا سے محبت کا جو عملی تقاضا ہے اس کسوٹی پر ہم پر کھے جائیں تو یقینا پورا نہیں اتریں گے ۔انسان کے خطاکار اور کمزور ہونے میں شک نہیں اور ہم قرون اولیٰ و قرون وسطیٰ کے دور کے بھی نہیں لیکن یہ سوچ اور یہ پیمانہ معیار عقیدت و معیار ایمان نہیں ۔ اسوہ حسنہ کی پیروی کی ہمیں کم از کم اپنی پوری کوشش تو کرلینی چاہیئے کیا ہم ایسا کر رہے ہیں یقینا نہیں خطرناک امر تو یہ ہے کہ ہم تضادات وانتشار کے مواقع خود اپنے عقیدے و عقیدت کے محور کے حوالے سے تلاش کرنے لگے ہیں۔ ہمیں حضور پاک ؐ سے عقیدت ہے اگر اس سے ہمیں انکار نہیں تو پھر ہم اس عقیدت کے حقیقی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے اور اسوہ حسنہ سے سبق و رہنمائی حاصل کرنے کی سعی کیوں نہیں کرتے ۔ حضور بنی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدت اور ان کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ امت مسلمہ ان کی تعلیمات اور ان کے طریقے کو اپنائے دنیا میں بھی یہی کامیابی کا راستہ ہے اور آخرت میں بھی فلاح اسی ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔دین اسلام عمل کا متقاضی ہے اور حسن عمل ہمارے آخری نبی ﷺ کا راستہ اور ان کی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے جب تک ہم اسے نہیں اپناتے ہم بھٹکتے ہوئے ہی کہلائیں گے اور راستہ بھٹکنے والا مسافر جب تک اپنی سمت کا تعین دوبارہ سے درست نہیں کرتا کبھی اپنے منزل کو نہیںپہنچ سکتا ۔

متعلقہ خبریں