Daily Mashriq

وزیراعظم کا ٹرمپ کو ترکی بہ ترکی جواب

وزیراعظم کا ٹرمپ کو ترکی بہ ترکی جواب

وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے پاکستان کبھی بھی نائن الیون میں ملوث نہیں رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان نے 75,000 افراد کی قربانی دی اور123 ارب ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کیا جبکہ اس بارے میں امریکی امداد صرف20 ارب ڈالر کی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس جنگ نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی امریکی افواج کو اپنے زمینی اور فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کا تازہ بیان ان پاکستانی رہنماؤں کیلئے سبق ہونا چاہئے جو نائن الیون حملوں کے بعد سے امریکہ کو خوش رکھنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ اگرچہ مصلحت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وزیراعظم ترکی بہ ترکی کی بجائے اعتدال سے کام لیتے لیکن بہرحال اعلیٰ ترین سطح پر امریکی صدر کو ترکی بہ ترکی جواب دینا اس لئے بھی ضروری تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ سال رواں کے شروع سے اب تک توپوں کا رخ مسلسل پاکستان کی طرف کئے ہوئے ہے۔ ان کا لب ولہجہ اور طرزعمل سفارتی آداب کے منافی ہے۔ ان کو حقائق یاد دلانا شاید ضروری تھا۔ امریکہ کو امداد کی بندش کے بعد ہمارے حوالے سے اس قدر تندوتیز لب ولہجہ اختیار کرتے وقت یہ ضرور سوچ لینا چاہئے تھا کہ اس کے ترکی بہ ترکی جواب سے امریکہ ہی کو خفت ہوگی۔ ان بیانات سے قطع نظر معاملات کا جائزہ لیا جائے تو حالات کسی طور بھی پاکستان کے حق میں نہیں، پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے امریکہ کو اس کا بخوبی علم ہے اور ہماری یہ کمزوری ہی دوسروں کو اس بات کا موقع دیتی ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے نہ تو مثبت رائے کا اظہار کریں اور نہ ہی ہمیں وہ اہمیت دی جائے جس کے ہم بطور آزاد اور خودمختار مملکت کے حقدار ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں امریکی افواج کو پاکستان کے فضائی اور زمینی راستوں کے استعمال کا جو حوالہ دیا ہے یہی ایک وہ مجبوری ہے جو امریکہ کے گلے میں پھانسی بن کر بری طرح سے چبھ رہی ہے۔ یہ مجبوری نہ ہوتی تو شاید امریکہ کا لب ولہجہ اور بھی مختلف ہوتا۔ دنیا کے ممالک میں تعلقات کی نوعیت وقت اور حالات ومفادات کی بنا پر تبدیل ہونا کوئی انوکھی بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے معاشی واقتصادی مسائل سمیت اپنے داخلی معاملات پر کیسے قابو پاتا ہے اور اس قابل ہوتا ہے کہ کوئی بھی ملک اور اس کا سربراہ پاکستان کے بارے میں کوئی بات کرتے ہوئے اس کو تولنے کی زحمت کرے۔ ہم بطور قوم امریکہ کو الفاظ میں تو سخت سے سخت جواب دے سکتے ہیں مگر عملی طور پر کیا ہم اس قابل ہیں کہ ہم امریکہ کو للکار سکیں۔

قول وفعل کا یہ کھلا تضاد؟

خیبر پختونخوا میں پانچ قائم کمیٹیوں کی تشکیل میں حزب اختلاف کی شمولیت ومشاورت اور رضامندی شامل ہے تو معترض ہونے کی گنجائش نہیں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی شخصیت وماضی کے باعث ان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اور دیگر کمیٹیوں میں شامل کرنے پر بھی اعتراض مناسب نہیں۔ سوائے اس کے کہ تحریک انصاف جو فارمولہ دوسروں کیلئے طے کرتی ہے اپنی باری پر وہ قول وفعل کے تضاد میں ذرا بھی نہیں چوکتی۔ ان کی قیادت کی یوٹرن کی تازہ تشریح کے بعد تو اعتراض کی بھی گنجائش نہیں لیکن بہرحال ایک سیاسی جماعت اور انصاف واصول کی پاسداری کے دعویداری کے باعث سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت کے مالی معاملات کی چھان بین کی کمیٹی کی سربراہی کرسکتے ہیں تو قومی اسمبلی میں روایات کے مطابق قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو یہ عہدہ دینے سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے۔ ہمارے تئیں کمیٹی کے سربراہ کی بہرحال اپنی اہمیت ہے لیکن کمیٹی کے ممبران میں حکمران جماعت کی تعداد زیادہ ہونے کیساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں اس لئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا مطلب کسی طور بھی بندر کے ہاتھ میں استرا دینے کا نہیں۔ بہتر ہوتا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف یہ روایت بد قائم نہ کرتی اور یہ عہدہ کسی اور کو دیا جاتا اب جبکہ اس بدعت کی ابتداء ہو ہی چکی تو قومی اسمبلی میں بھی اسی کا اعادہ ہونا ہی انصاف اور میرٹ ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں