Daily Mashriq

امریکی الزامات اور چند تاریخی حقائق

امریکی الزامات اور چند تاریخی حقائق

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا بجا اور درست ہے کہ ’’امریکہ سے اُلجھنا مقصد نہیں، ریکارڈ درست کرنا ضروری ہے ہمیں جذبات میں بہنے کی بجائے نپی تلی بات کرنی چاہئے‘‘۔ ریکارڈ کی درستگی تو تب کارآمد ہوتی جب امریکہ حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ فی الوقت تو صورتحال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اگلے روز بھی سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے تکرار کیساتھ وہی کچھ کہا جس کے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ اپنی ناکامیوں پر ہمیں قربانی کا بکرا نہ بنائیں۔ پاکستان امریکی جنگ کی بھاری قیمت ادا کر چکا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت سے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل کا اظہا کیا۔ پی پی پی کے رہنما سینیٹر رضاربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کی کالونی نہیں۔ سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا ہم نے امریکہ کیلئے جو کچھ کیا اس کی قیمت اب تک اپنے خون سے چکا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی مفادات کیلئے ہم نے نئے مسلک ایجاد کئے۔صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات پر حکومت اور اپوزیشن کا ردعمل عوامی اُمنگوں کی ترجمانی ہے۔ یہاں کوئی بھی اس امر کا خواہش مند نہیں کہ امریکہ سے کٹی کر لی جائے۔ آئینہ دکھانا اور اس کی کج ادائیوں کی تاریخ کے اوراق اُلٹنا بہرطور ضروری ہے۔ جناب وزیراعظم نے امریکی جنگ میں شرکت کی بدولت ہوئے 123ارب ڈالر کے نقصان کا بھی ذکر کیا اس ضمن میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ123ارب ڈالر کا معاشی نقصان9/11 کے بعد امریکی ہمنوائی کی بدولت ہوا۔ افغان انقلاب ثور کے بعد امریکہ سے تعاون اور اس جنگ میں شرکت کی جو پالیسی اپنائی گئی تب سے اب تک کے 40برسوں کے دوران پاکستانی معیشت کو 3سو ارب ڈالر کا مجموعی نقصان پہنچا۔ 9/11 کے بعد امریکیوں نے مجموعی طور پر20ارب ڈالر دیئے۔ امریکی دعویٰ 30ارب ڈالر سے زائد کا ہے اس کی صداقت جانچنے کیلئے 9/11 کے وقت پاکستان کے اقتدار پر قابض اشرافیہ کو زبان کھولنا ہوگی۔امریکیوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی کو دوست نہیں سمجھتے ان کے خیال (ظاہری صورت یہی ہے) میں دنیا ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے کرائے کے سپاہی اور دیہاڑی دار مزدور کے طور پر کام کرتی ہے اور مقصد صرف ڈالر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ تاثر اسلئے بھی پختہ ہوا کہ پچھلے 40برسوں کے دوران پاکستان کی حکومتی اشرافیہ کے دو فوجی حکمرانوں نے ملکی مفادات اور طویل المدتی مقاصد پر مبنی پیشگی شرائط پر تعاون کا راستہ اپنانے کی بجائے اپنے اپنے اقتدار کے دوام کیلئے امریکیوںکی جی حضوری اور ان کی جنگ میں شرکت کو قومی مفاد قرار دیا۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی اپوزیشن ہر دو کا یہ مؤقف درست ہے کہ پاکستان کے نزدیک اپنا تشخص، وقار اور مفادات اہم ترین ہیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ الزام تراشی میں صدر ٹرمپ کا کوئی ثانی نہیں اپنی داخلی پسپائیوں اور عالمی سیاست میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے کردار سے بوکھلائی امریکی قیادت کو غصہ کمزور دوستوں پر نکالنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس موقع پر ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ ایک قومی کمیشن بنایا جائے جو اس امر کی تحقیقات کرے کہ افغان انقلاب ثور سے اب تک کے 40برسوں کے دوران کتنی امریکی امداد آئی اور کہاں خرچ ہوئی اور کیسے سائیکل نہ خرید سکنے کی حیثیت رکھنے والے مختلف طبقات کے لوگ ارب پتی ہوگئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی الزام تراشیوں کے جواب میں حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف سوفیصد درست ہے اور اسی کو لیکر آگے بڑھنے کی ضرورت بھی ہے۔ مکرر عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی درست کہتے ہیں۔ ’’امریکہ سے الجھنا نہیں ریکارڈ درست کرنا ضروی ہے‘‘۔ اسی تناظر میں باردیگر یہ سوال سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغان سرزمین پر لڑی گئی امریکہ سوویت جنگ ہو یا پھر 9/11 کے بعد کی جنگ دونوں مرحلوں میں امریکہ کا عمومی کردار کیا ہے؟۔ سوویت یونین کیخلاف جنگجوؤں کی مختلف الخیال تنظیمیں کس نے بنوائیں۔ بعدازاں طالبان کی داغ بیل کس نے ڈالی۔ اب داعش کو افغانستان میں کون منظم کر رہا ہے۔ ان سوالات سے اہم ترسوال یہ ہے کہ سوویت یونین کیخلاف جنگ کے اختتام پر ہونے والے جنیوا معاہدے کے بعد پتلی گلی سے نکلتے وقت اس وقت کی امریکی قیادت نے افغانستان اور پاکستان میں موجود غیر ملکی جنگجوؤںکو ان کے ممالک واپس بھجوانے کے وعدے سے منہ موڑ کر جو پالیسی اپنائی اس سے جنم لینے والی افغان خانہ جنگی میں مارے گئے 10لاکھ افغانوں کا خون کس کی گردن پر ہے؟ ثانیاً یہ کہ عرب ازبک،چیچن، تاجک اور دوسرے غیرملکی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بسانے کی پالیسی امریکہ نے پاکستان پر کیوں مسلط کی۔ اصولی طور پر ان جنگجوؤں کو ان کے ممالک واپس بھجوانا امریکہ کی ذمہ داری تھی لیکن اپنے عرب اتحادیوں اور دوسرے دوستوں کے ایما پر جنگجو پاکستان کے گلے ڈال دیئے گئے بعد کے برسوں میں یہی جنگجو منہ زور ہوئے تو دہشتگرد قرار پائے اور امریکی منہ بھر کے یہ کہتے دکھائی دیئے کہ پاکستان دہشتگردوں کی محفوظ جنت ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت ایک پارلیمانی کمیشن قائم کرے جو پچھلے 40سالوں پر پھیلی امریکہ نواز پالیسی کے فوائد اور نقصانات کو سامنے لانے کی ذمہ داری نبھانے کیساتھ ساتھ اس معاملے کے دوسرے تمام پہلوؤں کے حوالوں سے بھی حقائق کو سامنے لائے تاکہ پاکستان کے عوام یہ جان سکیں کہ ان کی حکمران اشرافیہ نے آخر عوام اور ملک کے مفادات سے صرف نظر کیوں کیا؟۔

متعلقہ خبریں