Daily Mashriq

نیب و پی ڈی اے کی کارروائی اور عوامی شکایات

نیب و پی ڈی اے کی کارروائی اور عوامی شکایات

مقام اطمینان ہے کہ خدمت خلق کے کالم میں سامنے آنے والی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانے لگا ہے جو شکایات کی اصابت اور متعلقہ حکام کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ یقیناً بہت سی شکایات ایسی ہوں گی جن کا نوٹس لیکر حل کیا گیا ہوگا فی الوقت الحرم ٹاؤن رنگ روڈ، حیات آباد میں پی ڈی اے کے اقدامات اور رنگ روڈ پر خراب سولر سسٹم کی درستگی کی جوابی اطلاعات آئی ہیں۔ نیب نے کالم کے اشاعت کے بعد الحرم ٹاؤن شپ کے معاملے پر مالکان کو گرفتار کر کے کارروائی کی تو معلوم ہوا کہ الحرم ٹاؤن شب بغیر این او سی کے قائم کیا گیا تھا جس کا افتتاح چونکہ اس وقت کے سینئر وزیر بلدیات بشیر بلور مرحوم نے کیا تھا اس لئے شاید چھان بین کی ضرورت محسوس نہ کی گئی اور لوگوں نے آنکھیں بند کر کے پلاٹ لے لئے مگر جب رہائش کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ جو خواب دکھائے گئے تھے وہ سب جھوٹے تھے۔ نیب کی جانب سے کارروائی قابل اطمینان اور قانون کا تقاضا تھا جسے بحسن وخوبی پورا کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود الحرم ٹاؤن شپ کے مکینوں کی فریاد ابھی باقی ہے۔ ان کو اس امر کی فکر کھائے جارہی ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی جو ایک چھوٹے اور چند گھروں کی ضروریات کے مطابق تھی ٹاؤن شپ کی توسیع کے بعد اب وہ بالکل بھی ناکافی ہو چکی ہے۔ دیگر مسائل اور مشکلات بھی ہیں ان کے حل کیلئے حکومتی ادارے علاقے کے نمائندوںکی شکایات کا ازالہ کرنے پر کب توجہ دیں گے۔ ٹاؤن شپ کے رہائشیوں کے خدشات اور توقعات اپنی جگہ ان کو اس امر کا اطمینان بہرحال ہونا چاہئے کہ ان کی سنی گئی ہے اور مالکان کو گرفتار کر کے جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جو یقیناً نتیجہ خیز بھی ہوں گی اور ان کی شکایات کا ازالہ بھی ہوگا۔ بجلی، گیس، پانی اور سیوریج کی خدمات و ضروریات کی فراہمی کرنے والے اداروں نے اگر ابتداً ارتکاب غفلت کا مظاہرہ کیا تھا اس سے قطع نظر اب چونکہ صارفین ان کو بل اور واجبات کی باقاعدگی سے ادائیگی کر رہے ہیں اس لئے ٹرانسفارمر کی مرمت کیلئے صارفین سے چندہ اکھٹا کرنے کی بجائے ازخود واپڈا کی ذمہ داری ہے جبکہ گیس پریشر میں اضافہ پانی وصفائی کا انتظام ایس این جی پی ایل اور شہری انتظامات کرنے والے ادارے اور عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہئیں۔ اس ضمن میں نیب حکام یقیناً سوسائٹی مالکان کی ذمہ داریوں اورغفلت ولاپرواہی اور فراڈ کا ازالہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ حیات آباد میں خالی پلاٹوں پر پارکنگ اور نواب مارکیٹ کے سامنے گرین بیلٹ پر تجاوزات کے ضمن میں پی ڈی اے کے اقدامات پر پہلی مرتبہ وہاں کے رہائشیوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پیغامات ارسال کئے ہیں جوکہ خوش آئند اور حوصلہ افزا ہیں۔ پی ڈی اے کے گرین بیلٹ منصوبے کی صرف تحسین کافی نہیں یہ علاقے کے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی گرین بیلٹ کی صفائی اور حفاظت میں اپنا کردار ادا کرکے ممد ومعان ثابت ہوں اور خود کو ذمہ دار ومہذب شہری ثابت کریں۔ رنگ روڈ پر سولر لائٹس کی تبدیلی ومرمت پر متعلقہ حکام کے مشکور ہیں بہتر ہوگا کہ شہر میں جہاں جہاں بھی اس قسم کے مسائل ہیں ان کو بھی یکے بعد دیگرے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ پشاور کے طالب علم عبدالرحمن نے سیاست وحکومت اور حکمرانوں بارے اپنے خیالات کے اظہار کے بعد پشاور میں فرانزک لیب نہ ہونے سے مریضوں کی مشکلات اور ان کو لاہور جانے کی زحمت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ علاج معالجے میں سہولت کے حوالے سے مجھے زیادہ علم نہیں البتہ ان دنوں فرانزک لیب کی جرائم کی روک تھام اور مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کا بڑا چرچا ہے۔ بہرحال جدید لیبارٹریز کا علاج ہو یا اس کا دیگر استعمال اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ابھی خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں بنیادی علاج اور تشخیصی آلات کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے اس قسم کی جدیدیت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ آپ جیسے نوجوان انجینئرنگ اور طب کی تعلیم مکمل کر کے آگے آئیں گے تو ان معاملات کے حل میں یقیناً کردار ادا کریں گے۔ بس آپ عہد کریں کہ آپ جب میدان عمل میں آئیں تو خود ایمانداری سے فرائض انجام دیں گے۔ ہمارا ہر نوجوان اگر یہ عہد کرے اور اس پر قائم رہے تو تبدیلی کیلئے سیاستدانوں کے نعروں اور دعوؤں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ ہمیں اپنی حالت آپ بدلنے کا عہد کرنا اور اسے نبھانا ہے۔ بنوں سے حامد خان اس امر کی شکایت کرتے ہیں کہ یہاں کے ہسپتالوں میں صفائی کا فقدان ہے۔ صفائی کا مسئلہ میرے نزدیک یکطرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ ہے۔ اس میں ہسپتال انتظامیہ کی غفلت، سستی اور کاہلی کا عمل دخل ضرور ہے لیکن دوسری جانب یہ ہم شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم صفائی ونظامت کا خیال خود بھی رکھیں۔ جگہ جگہ نسوار پھینکنے کی عادت تو خیبر پختونخوا کے شہریوں کیلئے طعنہ سا بن چکا ہے، علاوہ ازیں بھی صفائی کا خیال نہ رکھنا ایک مجموعی المیہ ہے۔ شہر، گلیاں، گھر اور ہسپتالیں تبھی صاف ستھری ہوسکتی ہیں جب ہر شہری اپنی ذمہ داری نبھائے اور عملہ صفائی کام چوری چھوڑ کر صفائی کے کام میں جت جائے۔ بہت سارے برقی پیغامات میں یہ استفسار کیا جاتا ہے کہ یہ آپ ہی ہیں، بہت سارے پیغامات میں مسئلہ لکھے بغیر کہا جاتا ہے کہ ہمارے مسائل وشکایات بھی شامل کر دیں۔ اس قسم کے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مسائل وشکایات اس یقین کیساتھ ارسال کریں کہ ان کی باری پر ان کے مسائل وشکایات کو جگہ دی جائے گی۔ مزید وضاحت یہ کہ اس نمبر پر صرف تحریری شکایت ہی وصول کی جاتی ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں