Daily Mashriq

دین مبین اسلام کی ترویج وترقی کا عزم

دین مبین اسلام کی ترویج وترقی کا عزم

مملکت خداداد پاکستان دنیا بھر کی وہ واحد ریاست ہے جو اسلامی نظریہ کیساتھ معرض وجود میں آئی، انگریز سامراج کی غلامی سے آزاد اور ہندو بنئے سے الگ ہونے کیلئے مسلمانان برصغیر کا پہلا نعرہ یہی بلند ہوا تھا کہ بٹ کے رہے گا ہندوستان بن کے رہے گا پاکستان، اور یہ کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ، کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں نے اپنی مذہبی اور دینی آزادی کیلئے یہ اسلامی ریاست قائم کی، جہاں آج ہم پوری آزادی کیساتھ دین مبین اسلام کی ترویج واشاعت اور تبلیغ کیلئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں اور انشاء اللہ تاقیامت اس عزم اور ولولہ کیساتھ پرچم اسلام بلند رکھیں گے، وطن پاک میں یوں تو روزاول سے دین مبین کی سربلندی کیلئے ہمارے علماء کرام اور مشائخ عظام نے اپنی بھرپور خدمات انجام دی ہیں اور آگے بھی اُن کا یہ سفر پوری آب وتاب کیساتھ جاری رہے گا۔ ملت اسلامیہ بخوبی جانتی ہے کہ حضوراکرمﷺ کے دور سے مرتدین، منافقین اور جھوٹی افواہیں پھیلانے والے چلے آرہے ہیں لہٰذا ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنا ضروری ہے، سوشل میڈیا جو بلاشبہ دو دھاری تلوار ہے جو اچھے کاموں کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے اور کسی کا گلا کاٹنے کیلئے بھی، اگر خبر سوفیصد سچی اور کھری ہے تو فائدہ مند اور اگر وہ محض افواہ ہے، بے بنیاد اور جھوٹی ہے تو زہرقاتل، اسلئے سوشل میڈیا کا پوری احتیاط کیساتھ بہتر استعمال ضروری ہے، پاکستان اس وقت سنگین حالات سے دوچار ہے، ہمارے دشمن آئے روز منفی پروپیگنڈہ کرکے ہمیں گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں، ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں، افواہوں اور بے پرکی اُڑاتی ہوئی ناقص معلومات پر ہرگز کان نہیں دھرنے چاہئیں۔پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی سیرت النبیﷺ کانفرنس کا نہ صرف انعقاد کیا ہے بلکہ ’’ختم نبوتﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں، تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں‘‘ جیسا جامع موضوع رکھ کر نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ تمام مسلم اُمہ کے دل جیت لئے ہیں، بلاشبہ ہم نے اقوام عالم کو اپنا پیغام دیا ہے کہ ہادی برحق، رہبرکامل، رحمت عالم سیدنا حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبیﷺ ہیں۔ ان کے بعد تاقیامت کوئی اور نبی نہیں آئے گا، قران مجید فرقان حمید اللہ کی آخری کتاب ہے، ہم ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کیلئے اپنی جانیں تو قربان کر سکتے ہیں مگر کسی ملعون ومردود کو یہ اجازت ہرگز نہیں دے سکتے کہ وہ توہین رسالتﷺ کا مرتکب ہو، واضح رہے کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی رحمت صرف اپنوں پر ہی نہیں تھی بلکہ سب کیلئے عام تھی، آپؐ برے لوگوں سے بھی اچھا سلوک فرماتے تھے، راہ میں کانٹے بچھانے والوں کی عیادت کرتے تھے، پتھروں سے زخمی کرنے والوں کے حق میں دُعا فرماتے تھے، آپؐ نے غیرمسلموں کے حقوق، اُن کی مذہبی، قانونی اور عدالتی آزادی کو میثاق مدینہ کی صورت اُس وقت تسلیم کیا تھا جب اس طرح کے حقوق کو تسلیم کرنے کا سرے سے کوئی رواج ہی نہ تھا اسلام انسانی مزاج کے قریب تر دین ہے، اس میں آسانی اور رواداری کی بھرپور تعلیم دی گئی ہے اور تنگی وانتہا پسندی سے اجتناب برتنے کا حکم دیا گیا ہے، مملکت خداداد کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس مملکت میں ہم سب خواہ کسی بھی مذہب اور علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں، ایک قوم کی کی مانند رہیں گے لیکن یہ سفر اتنا آسان بھی نہیں تاہم پرامن بقائے باہمی ہی میں ہماری ترقی وخوشحالی کا راز پوشدہ ہے۔ مسلمانوں کی اہم ذمہ داریاں اب یہ ہیں کہ ہم نہ صرف ملت اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت کو تعلیمات نبویؐ سے آگاہ کریں تاکہ دُنیا کے بھٹکے ہوئے لوگ راہ راست پر آکر اللہ کی وحدانیت پر یقین کریں اور اقوام عالم خواہ وہ کسی بھی مذہب اور دین سے تعلق رکھتی ہوں خود اس بات کا اقرار کرتی نظر آئیں کہ حضورﷺ ہی اللہ کے آخری نبیؐ اور محبوب کبریا ہیں جو امام الانبیاء ہیں جو رحمت اللعالمین ہیں جو رہبر کامل ہیں جو فخر موجودات، سرورکائنات اور سرکاردوعالم ہیں، اقوام عالم یعنی پوری انسانیت کی اصلاح اور تطہیر تب ہی ممکن ہے کہ جب تمام مسلمانان عالم اپنے اخلاق اور کردار کو اس قدر بلند وبالا کردیں کہ وہ نظر آئیں کہ واقعی وہ قوم رسولؐ ہاشمی کا حصہ ہیں، اس وقت تعلیمات محمدیؐ کو عام کرنے کی ضرورت ہے، انسانیت کو توحید اور رسالتؐ کے عالمگیر پیغام سے آگاہ کرنا ہم پر لازم ہے، مستقبل قریب میں جب موجودہ حکومت تمام شعبہ ہائے زندگی میں بہتری لانے میں کامیاب ہو جائے گی تب ملکی معیشت کے استحکام، غربت کے خاتمہ، انسانی حقوق کی پاسداری اور ایک خالصتًا اسلامی فلاحی معاشرہ کو تشکیل دینے کا اپنا ہدف پورا کرے گی تب یہاں اسلامی معاشرت کیساتھ ساتھ یہ ریاست اسلامیہ یقینا ریاست مدینہ کی یاد تازہ کر دیگی۔

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

متعلقہ خبریں