Daily Mashriq

اُردو زبان میں نعت گوئی کی روایات

اُردو زبان میں نعت گوئی کی روایات

ارتقائے بشر کا نشاں آپؐ ہیں

نقش پا جن کے ہیں کہکشاں آپؐ ہیں

آپؐ کا اک پتہ مجھ کو معلوم ہے

علم ودانش جہاں ہے وہاں آپؐ ہیں

اُردو زبان وادب میں حمد ونعت کی روایات عربی اور فارسی زبانوں سے آئی ہیں اور ادب وشعر کا قرینہ عربی زبان کا عطا ہے، فخر موجودات حضرت محمدؐ سے دنیا میں تشریف آوری سے پہلے عربی زبان میں مختلف قبائل کے درمیان زبان دانی کا سلسلہ یوں تھا کہ ان کے شعراء فی البدیہہ ہزارہا اشعار کے قصیدے پڑھتے تھے، ان کی مجلسی زندگی پر بھی یہی کیفیت طاری تھی اور مخالف قبیلوں کیخلاف اپنے قبیلے کے جوانوں کا خون گرم کرنے کیلئے یا تو اپنے اسلاف کے کارناموں کے قصیدے پڑھے جاتے یا پھر دشمن قبیلے کی ہجوکی جاتی یعنی ان کیخلاف ہرزہ سرائی عام بات تھی مگر ہادی برحقؐ کی بعثت کے بعد ان کی شان اقدس میں ایک نئی صنف شاعری طلوع ہوئی جو عقیدے سے ہوتے ہوئے نعت گوئی میں ڈھل گئی۔

آپ کی ذات ہے نور صبح ازل

اس جگہ روشنی ہے جہاں آپؐ ہیں

آنحضرتؐ کی مبارک زندگی پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو آپؐ کے مکتوبات، آپؐ کے خطبات اور وعظ وارشاد کے اعلیٰ ترین نمونوں کا انتہائی بلند ہے، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں کے ادب میں کسی شخصیت کا اتنا بلند، پراثر، تاریخ ساز اور دائمی اثر نہیں ہے جو آپؐ کی ذات گرامی کا ہے، آپؐ نے تمام زندگی لوگوں کو ادب اور عبودیت کا درس اتنے دلنشیں اور خوبصورت پیرائے میں دیا کہ آپ کی امت نے پہلی امتوں کی نسبت رطب ویابس سے کنارہ کشی کر کے دنیا کو عظمت کردار سے متاثر کیا۔ ظہور قدسی سے جہاں عربی زبان کی حیثیت بدل گئی، مزاج ومحاورہ بدل گیا۔ الفاظ وتراکیب میں تبدیلیاں رونما ہوئیں، اسلوب وانداز بیان تبدیل ہوگیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپؐ کے طفیل عربی زبان کو نہ صرف یہ کہ متفرق قبائل کے لہجوں سے نکل کر ایک متحدہ اور زندہ جاوید زبان بننے کا شرف حاصل ہوا بلکہ ادبیات سے ایک وسیع و وقیع ذخیرہ بھی میسر آگیا۔ عربی زبان وادب کی یہی روایات آگے چل کر فارسی اور بعد میں اُردو زبان میں شامل ہوئیں اور انہی روایات کے تحت حمد وثناء اور نعت گوئی کی اساس قرار پائیں۔

ہے آپؐکا رتبہ ورفعنا لک ذکرک

قرآں کا ہے کہنا ورفعنا لک ذکرک

بس ایک قدم ایک قدم عرش بریں ہے

ہے کس کا یہ رتبہ ورفعنا لک ذکرک

خوشبو سے عبارت ہیں سخن ہائے تو ایسے

عنبر ہو کہ نافہ ورفعنا لک ذکرک

معروف ادیب اور نقاد اُردو نعتیہ شاعری میں ہیئت کے تجربے کے عنوان سے تحریر کردہ اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں، ’’اُردو کی نعتیہ شاعری میں بھی ہیئت کے تجربوں کا رجحان ملتا ہے، ابتداء میں تو مثنوی اور غزل کی ہیئت میں کثرت سے نعتیں لکھی گئیں، دکنی دور کی مثنویات میں حمد کے بعد نعت ضرور شامل کی جاتی تھی، دوہے اور گیت کے انداز کی نعتیں بھی اُردو کے لسانی ارتقاء کے دوران مختلف مرحلوں میں نظر آتی ہیں۔ نعتیہ قصائد کے بعد مسدس حالی کا وہ حصہ جس میں نعت رسول مقبولؐ کا انداز ملتا ہے بعد کے شعراء کیلئے خاص دلچسپی کا باعث بنا، علامہ اقبال نے اپنی طویل نظموں میں ہیئت کا ایک خاص التزام رکھا، ذوق وشوق میں اس کی ایک مثال وہ قطعہ ہے جس کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے

لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

اُردو کی عمومی شاعری میں نظم معرا اور نظم آزاد کی مقبولیت کے بعد ان دونوں ہیتوں میں نعتیں کہی گئی ہیں، جدید دور میں قمرہاشمی نے ایک طویل نظم مرسل آخرؐ لکھی ہے جس کے کئی حصے آزاد ہیئت میں ہیں، اسی طرح ڈاکٹر ابوالخیر کشفی نے قصیدہ بردہ شریف کا ایک عمدہ ترجمہ کیا ہے جس میں آزاد نظم کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں راقم نے بھی اگرچہ کئی نعتیں اُردو اور ہندکو زبان میں کہی ہیں تاہم تازہ ترین کاوش آزاد نظم کی صورت میں 9ربیع الاول کی نعت ہے جسے گزشتہ روز یعنی 19نومبر2018ء کے ایک نعتیہ مشاعرے منعقدہ اباسین آرٹس کونسل پشاور میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، ملاخط فرمایئے۔

مکہ کاچاند چمکا

فارس کا شمس ڈوبا

کنگرے تھے ریزہ ریزہ

آتش کدہ۔ زمستاں

کعبہ تھا شاد وفرحاں

لات ومنات لرزاں

کنکر بھی لب کشا تھے

بے ساختہ پکارے

تو شاہ دوجہاں ہے

میر پیمبراں ہے

توؐ آخرالزماں ہے

تیرے ہی دم سے دنیا

تو آخرت کا ملجا

تو عاصیوں کا ماویٰ

کی جس نے بھی غلامی

وہ بن گیا شہنشاہ

نظر کرم ہو آقاؐ

ہو پار اپنا بیڑہ

متعلقہ خبریں