Daily Mashriq

کسی کو این آر او ملے گا نہ مک مکا ہوگا،شور مچانے والوں کو جیل جانے کا ڈر ہے،وزیراعظم عمران خان

کسی کو این آر او ملے گا نہ مک مکا ہوگا،شور مچانے والوں کو جیل جانے کا ڈر ہے،وزیراعظم عمران خان

ویب ڈیسک:ملائشیاکے دارالحکومت کولالمپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری اپوزیشن جلدی میں ہے کہ حکومت گر جائے  اور جو زیادہ  شور مچارہے ہیں انہیں پتا ہے کہ انہوں نے جیلوں میں جانا ہے کیونکہ ہم کوئی این آر او نہیں دیں گے اور نہ ہی چارٹر آف ڈیموکریسی پر مک مکا کریں گے۔

کوالالمپور میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اپوزیشن کو جلدی ہے کہ حکومت گرجائےان کو تو اتنی جلدی ہے کہ  پہلے دن ہی کہہ دیا کہ حکومت ناکام ہوگئی، کم از کم حکومت کو 90 دن تو دے دیتے، انہوں نے تو نئے وزیراعظم کو پہلی تقریر بھی نہیں کرنے دی، شور مچانے والوں کو پتہ ہے کہ انہوں نے جیل میں جانا ہے، اپوزیشن کی تمام جماعتیں  ’جمہوریت‘ بچانے لیےاکٹھی ہورہی ہیں یہ لوگ’ جمہوریت‘ بچانے کے لیےنہیں اپنی چوری چھپانے کے لیے اکٹھے ہورہے ہیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو این آر او دے گی نہ کوئی میثاق جمہوریت کرے گی، کوئی مک مکا نہیں ہوگا سب کو جیل میں ڈالیں گے، جب میں کہتا ہوں چوروں کو جیل میں ڈالنا ہے تو اپوزیشن کھڑی ہوجاتی ہے، حالانکہ میں نے کسی کا نام بھی نہیں لیا اور نہ ابھی تک ہم نے کوئی نیب  کیس  بنایا ہے، ان لوگوں پر نیب کے سب کیس پچھلی  حکومت میں بنے ہیں ، ابھی ہم نے کیس کرنے ہیں لیکن یہ لوگ ابھی سے ڈرے ہوئے ہیں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات بڑھانےکیلئے پورا زور لگائیں گے، سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے گورننس بہتر کرنے کی ضرورت ہے جب کہ سرمایہ کاروں کو پیسہ کمانے میں بھرپور مدد کریں گے وہ وقت دور نہیں جب ہم دوسرے ممالک کو قرضے دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی قانونی راستے سے پیسہ بھجیں، وزیر خزانہ اس سلسلے میں ان کے لیے  سہولیات  پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اس وقت باہر سے پاکستانی 20 ارب ڈالر بھیجتے ہیں جب کہ مزید 10 سے 15 ارب ڈالر آسکتے ہیں.

وزیراعظم نے منی لانڈرنگ روکنے کے لیے قوانین سخت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ سالانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جسے روکنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا جارہا ہے، منی لانڈرنگ کی تفصیلات آنا شروع ہوگئی ہیں اور پتہ لگایا جارہا ہے کہ کس کس ناجائز طریقے سے پیسہ باہر بھیجا گیا۔

متعلقہ خبریں