Daily Mashriq

ریاستیں سیکیورٹی مسائل اقتصادی تعلقات سے حل کرسکتی ہیں، وزیر خارجہ

ریاستیں سیکیورٹی مسائل اقتصادی تعلقات سے حل کرسکتی ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ نے اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا.

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےدنیا کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے سیکیورٹی مسائل کے متحرک حل تلاش کرنے کے بجائے ممالک کے درمیان باہمی انحصار کو فروغ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) میں 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’عالمی اور خطے کی طاقتوں کی جانب سے ایشیا کے حوالے سے فوج اور سیکیورٹی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دور رس نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور اس کا مرکزی منصوبہ مثلاً پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اس بات کی امید جگاتے ہیں کہ جامع اور اجتماعی حل ہماری دنیا کو مزید محفوظ اور خوشحال بنائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکیورٹی مسائل حرکی طریقوں کے بجائے معاشی شراکت داری سے حل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس لیے ہمیں سیکیورٹی مسائل سے منسلک ایجنڈے سے اپنی توجہ باہمی انحصار اور رابطوں پر مرکوز کرنے کی ٹھوس کوششیں کرنی ہوں گی۔

وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین کے بی آر آئی منصوبے اور اس سے منسلک سی پیک کے ذریعے بھی اپروچ میں خاظر خواہ تبدیلی آئے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے کو جن 4 بڑے مسائل کا سامنا ہے اس میں امریکا اور چین کی مسابقت خصوصاً تجارتی معاملات، امریکا ایران کشیدگی، افغانستان میں عدم استحکام اور ہندو توا کے غلبے کے زیر اثر بھارت شامل ہیں۔

دوسری جانب تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اعزاز احمد چوہدری نے علاقائی صورتحال میں تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتوں کی چپقلش عالمگیریت کے پرانے نظریے کو ختم اور ایک نئی پروچ کا سبب بن سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک منصوبہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں