Daily Mashriq

وزیر توانائی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی نوید سنادی

وزیر توانائی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی نوید سنادی

ایک مرتبہ پھر انہوں مسلم لیگ (ن) پر مہنگی بجلی سسٹم میں شامل کرنے کا الزام لگایا .

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے مستقبل قریب میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی نوید سنادی۔

اسلام آباد میں متبال توانائی ترقیاتی بورڈ کے ای سی او ڈاکٹر رانا عبدالمجید اور وزیراعظم کے معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں عمر ایوب نے کہا کہ ’بجلی کی قیمتیں مستقبل قریب میں نیچے آنا شروع ہوجائیں گی‘۔

ایک مرتبہ پھر انہوں مسلم لیگ (ن) پر مہنگی بجلی سسٹم میں شامل کرنے کا الزام لگایا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے جو مہنگی بجلی سسٹم میں ڈالی اس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بجلی کے سستے متبادل ذرائع سے 2025 تک 8 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے جس کی بدولت بجلی سستی ہونے سے کاروبار میں وسعت اور روزگار میں اضافہ ہوگا۔

عمر ایوب نے پیشگوئی کی کہ 2023 تک متبادل توانائی کے ذرائع سے 30 ہزار میگا واٹ سستی بجلی بنائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شعبہ توانائی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مقابلے میں حکومتی ریونیو میں 229 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔

وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان کے شعبہ توانائی میں بہتری آرہی ہے جبکہ تقریباً 80 فیصد فیڈرز کو بجلی کی چوری سے پاک کردیے گئے۔

عمر ایوب نے کہا کہ سرمایہ کاری سے متعلق بارش کے پہلے قطرے آنا شروع ہوگئے۔

خیال رہے کہ رواں برس 5 نومبر کو ہی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا فیصلہ کیا تھا۔

مذکورہ فیصلے کے تحت بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیاں 18 پیسے فی یونٹ اضافے سے 17 ارب 20 کروڑ روپے کی اضافی آمدن حاصل کرسکیں گے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے رواں ماہ کے اواخر میں منظوری کے بعد بجلی کی قیمت موجودہ 13روپے 51 پیسے سے بڑھ کر 13 روپے 69 پیسے ہوجائے گی جس میں جنرل سیلز ٹیکس شامل نہیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر نے بتایا کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کی جانب سے متبادل ذرائع توانائی پالیسی کی منظوری کا ڈرافٹ تیار کرکے 6 ماہ تک مختلف پبلک فورمز، متعلقہ صوبوں کے حکام اور انٹرنیشنل ایجنسیوں سے مشاورت کی۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں جو مفید مشورے سامنے آئے انہیں بھی پالیسی میں شامل کرلیا گیا لیکن ماضی کی پالیسی میں مشاورت کی کمی تھی۔

ندیم بابر نے کہا کہ کوشش ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی مشینری پاکستان میں بنے۔

متعلقہ خبریں