Daily Mashriq

کوک اسٹوڈیو کیلئے گایا گیا صنم ماروی کا صوفیانہ کلام بھی چوری کا نکلا

کوک اسٹوڈیو کیلئے گایا گیا صنم ماروی کا صوفیانہ کلام بھی چوری کا نکلا

رواں برس اکتوبر میں شروع ہونے والے کوک اسٹوڈیو کے 12 ویں سیزن کو اگر چند سال بعد روحیل حیات پروڈیوس کر رہے ہیں اور شائقین ان کی واپسی پر بڑے خوش تھے۔

تاہم ان کے آنے کے باوجود اس بار کوک اسٹوڈیو کو کاپی رائٹس کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور 12 ویں سیزن کی ایک اور ویڈیو کو کاپی رائٹس مسائل کی وجہ سے ہٹا دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے 17 نومبر کو جاری ہونے والی کوک اسٹوڈیو 12 کی چوتھی قسط میں موجود صوفیانہ کلام گلوکارہ صنم ماروی کے کلام ’حیراں ہوا‘ کو بھی کاپی رائٹس کی وجہ سے ہٹا دیا گیا۔

کوک اسٹوڈیو کی پہلی قسط کے گانے سنیں

صنم ماروی کے ’حیراں ہوا‘ سے پہلے بھی کوک اسٹوڈیو نے دوسری قسط کے ابرار الحق کے گانے ’بلو‘ اور ریچل وکاجی اور شجاع حیدر کے ’سیاں‘ کو بھی کاپی رائٹس کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابرار الحق کے اپنے ہی گائے گئے گانے ’بلو‘ کو ایک نجی انٹرٹینمنٹ کمپنی کے دعوے کے بعد ہٹایا گیا تھا۔ اسی طرح ریچل وکاجی اور شجاع حیدر کے گانے کو بھی کاپی رائٹس کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

مذکورہ دونوں گانوں کے بعد اب چوتھی قسط میں شامل صنم ماروی کے صوفیانہ کلام ’حیراں ہوا‘ کو بھی ہٹادیا گیا۔

صنم ماروی کا مذکورہ کلام ’جگر مراد آبادی، سچل سرمست اور دیگر شعرا‘ کی شاعری اور بولوں پر مبنی تھا۔

کوک اسٹوڈیو کی دوسری قسط کے گانے سنیں

’حیراں ہوا‘ کلام شائقین کی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، تاہم اب کوک اسٹوڈیو نے اسی کلام کو اپنے یوٹیوب چینل سے ہٹادیا۔

کوک اسٹوڈیو کے یوٹیوب چینل پر اگر صنم ماروی کے ’حیراں ہوا‘ گانے کو کلک کیا جاتا ہے تو ویڈیو نہیں چلتی اور کمپنی کی جانب سے ایک پیغام سامنے آتا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ گانے کو صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کے دعوے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

کوک اسٹوڈیو کی تیسری قسط کے گانے سنیں

اگرچہ کوک اسٹوڈیو کی جانب سے آفیشلی اس معاملے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم عابدہ پروین کی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جانب سے کاپی رائٹس کا دعویٰ دائر کیےجانے کی وجہ سے ہی صنم ماروی کی ویڈیو ہٹائی گئی ہے۔

 عابدہ پروین کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ صوفی گلوکارہ اس وقت ملک سے باہر ہیں، تاہم ان کی جانب سے کاپی رائٹس کا کیا گیا دعویٰ درست ہے۔

متعلقہ خبریں