Daily Mashriq

کیا سیاست بساط کو خطرہ ہے

کیا سیاست بساط کو خطرہ ہے

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ کا کہنا ہے کہ سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو فوج اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ میرا اس جمہوریت سے کیا واسطہ جس میں خود میری حکومت مجھے دہشت گرد کہے، جس میں عوام کے مسائل حل نہ ہوں اور جن کے بیرون ملک اکائونٹ ہیں انہیں شہری کے حقوق حاصل ہوں اور وہ جرائم بھی کریں تو پروٹوکول کے ساتھ پھریں۔ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی افواہوں کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹس ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتے، لوگ ٹیکنوکریٹس کی باتیں ملک کی بقا کے لیے کرتے ہیں اور اس میں حقیقت بھی ہے کیونکہ اس وقت ملک کے حالات ایسے ہیں کہ لوگ ذہنی انتشار کا شکار ہیں، کوئی ادارہ ڈیلیور نہیں کر پارہا اور سیاستدانوں نے عوام کو مایوس کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اور سیاستدان عوامی مسائل حل نہ کر سکتے تو فوج کے کردار ادا کرنے پر کسی کو کیا گلہ ہوگا، پھر جو خون دیتا ہے ملک کی حفاظت بھی وہی کرے گا، تاہم یہ ایڈونچر کبھی نہیں ہوگا کیونکہ موجودہ آرمی چیف پارلیمنٹ و نظام کی عزت و احترام کرنے والے ہیں، وہ اپنے ادارے کو ایسے ایڈونچر میں کبھی نہیں ڈالیں گے لیکن اگر پارلیمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو فوج و عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔مسائل کے حل کے لیے سیاستدانوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ رکاوٹ خود سیاستدان ہیں، ہم خود احتسابی کا عمل نہیں اپناتے اور اپنے کردار کو نہیں دیکھتے لیکن اپنے آپ کو حاکم بھی بنانا چاہتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں نے نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ جب طوفان آئے تو بیٹھ جانا چاہیے اور دانائی و عقلمندی سے کام لینا چاہیے، جبکہ انہیں ہٹ دھرمی نہیں دکھانی چاہیے۔واضح رہے کہ ریاض پیرزادہ نے گزشتہ روز اپنی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ نواز شریف مقدمات سے نمٹیں اور شہباز شریف پارٹی قیادت سنبھالیں ۔ گو کہ مسلم لیگ (ن) ایک سخت کٹھن اور بحران آمیز حالات سے تو نکل چکی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ خدشات و تحفظات کی بناء پر ایک اصلی جعلی خط کے ذریعے جن لوگوں کو وقتی طور پر قیادت کے تابع رہنے پر مجبور کیا گیا تھا اب وہ گروپ ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ بصیرت کا ماتھا تو اسی روز ٹھنکا تھا جب ریاض پیر زادہ وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی کے دوران احتجاجاً واک آئوٹ کر گئے تھے ۔ کیا معمول کے حالات میں ایسا ممکن ہے کہ ایک وفاقی وزیر وزیراعظم کی موجودگی میں اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کر جائے اور وہ شاکی بھی کسی اورسے نہ ہوںخود حکومتی ادارے سے ہوں ۔ قطع نظر اس کے کہ سینتیس اراکین پارلیمنٹ کے دہشت گردوں سے رابطے کی فہرست اصلی تھی یا جعلی اسے اصلی اس لئے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ آئی بی کے سربراہ نے خود اس کی تردید کی ہے ۔ اس فہرست کی جعلی تیاری کی ضرورت کیا تھی اورکیا مقصد تھا اس کے پس پردہ اس حولے سے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن اگر ریاض پیرزادہ کے کچھ نئے ساتھی سامنے آتے ہیں تو صورتحال کو سمجھنے کا کوئی اشارہ ملے۔ فی الوقت چونکہ بطور وزیر ریاض پیرزادہ ہی زیادہ متاثر شخص تھے اس لئے ان کا لب ولہجہ فطری ردعمل ہے۔ سیاسی دنیا میں تجربہ کار عناصر بغیر کسی منصوبہ بندی کے کوئی کام کم ہی کرتے ہیں کسی منصوبہ بندی اور سکیم کا کچھ نہ کچھ پس منظر اور پیش بندی مقصد ضرورہوتا ہے۔ اس لئے اس صورتحال میں بھی اس کا امکان یکسر نا ممکن نہیں ۔ ماضی میں سیاسی جماعتوں کے درون خانہ عناصر دیگر سیاسی مخالفین کے آمیز ے سے چورن تیار ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ چورن کے اجزاء درون خانہ ملنے کے تو اشارے سامنے آرہے ہیں مگر مخالفین میں چورن میںملانے کیلئے اجزاء کا ملنا فی الوقت دور از کا ر نظر آتا ہے۔ یہ وقت بھی ایسا ہے کہ اس میں انفرادی طور پر تو فیصلے لینے میں حرج نہیں لیکن کسی ایسے منظر نامے کیلئے جو بڑے پیمانے پر تبدیلی کا ہوا س لئے موزوں وقت نظر نہیں آتا کہ عام انتخابات میں وقت کم رہ گیا ہے۔ بہرحال سیاست اور محبت میں سب جائز ہے کی گنجائش سے انکار نہیں قطع نظر اس سے جمہوریت کے حوالے سے اب جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اس میں ایک وفاقی وزیر کی خود جمہوریت پر انگشت نمائی اور اپنی ہی قیادت پر نیم براہ راست تنقید بے سبب نہیں اگر معمول کے حالات ہوتے تو ان سے فوری استعفیٰ لے لیا جاتا مگر اب ایسا کرکے حالات کو مزید گمبھیرکرنے سے احراز نظر آتا ہے لیکن رفتہ رفتہ جب براہ راست انگشت کی حدیں پار ہوں گی اور اس کے بعد کاجو منظر نامہ ممکن ہے اس میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی مڈ بھیڑ کا خطرہ ہے۔ اس وقت آنکھیں دکھانے اور انگشت نمائی کے ماحول کی گرما گرم صورتحال جاری ہے ۔ ریاض پیر زادہ کے انداز گفتگو سے واضح طور پر اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ اب جاری صورتحال میں تبدیلی کا مرحلہ آسکتا ہے جس کا خود اندرونی عناصر کا ساتھ دینا ممکن نہیں ۔ انہوں نے تو پارلیمنٹ کی ناکامی اور دو اداروں کے حوالے سے کردار کی ادائیگی کا سوال اٹھا کر صورتحال بھی خاصی واضح کر دی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر معاملات طے نہ ہوئے تو سیاسی تبدیلی یا پھر سیاسی انتشار کی کیفیت نوشتہ دیوار ہے جو ملک و قوم کیلئے کوئی اچھی صورت نہ ہوگی جس سے بچنے کا راستہ اختیار کرنا ہی بہتر ہوگا ۔

اداریہ