تجاوزات کیخلاف مئوثر مہم چلائی جائے

تجاوزات کیخلاف مئوثر مہم چلائی جائے

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بی آر ٹی روٹ کے متبادل راستوں پر ٹریفک کی روانی کیلئے سعی کے طور پر تجاوزات مافیا کے خلاف آپریشن کا حکم دے کر احسن اقدام ضرور کیا ہے لیکن اگر اس پر عملدر آمد اور تسلسل سے نگرانی کے ذریعے تجاوزات کے دوبارہ قیام کی روک تھام کی سعی نہ کی گئی تو اس طرح کے حکم کا ہوا میں اڑجانا فطری امر ہوگا ۔ سڑکوں پر تجاوزات ہمیشہ سے پشاور کے شہریوں کیلئے بلائے جان رہے ہیں۔ ان کے خلاف ابتدامیں حکومت نے سنجیدہ اور سخت قدم اٹھا یا جس کا شہریوں کی جانب سے بھر پور خیر مقدم بھی کیا گیا مگر ایسا لگتا ہے کہ دیگر حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی مصلحت اور دبائو کا شکار ہوگئی یا پھر سیاسی مفادات آڑے آئے۔ حکومتی چشم پوشی کے بعد ان علاقوں اور مقامات پر تجاوزات دوبارہ قائم کی گئیں اور شہر کا بدلتا حلیہ پھر بگڑ گیا۔ بہر حال اب جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کی اکلوتی بڑی سڑک ریپڈ بس منصوبے کے بنانے کیلئے بند اور متاثر ہونے جارہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تمام متبادل راستوں کو تجاوزات سے مکمل طور پر پاک کرے ۔ ہشتنگری ، فقیر آباد ، رنگ روڈ ، پشتہ خرہ چوک سے لیکر پرانا کسٹم چوک تا کینٹ چیک پوسٹ اور بورڈ بازار سے جب تک تجاوزات کا مکمل طور پر خاتمہ نہ کیا جائے عوام کو پیدل گزرنے کا راستہ نہیں ملے گا بورڈ بازار اور کسٹم چوک پر تجاوزات کے باعث لوگوں کو جس صورتحال کا سامنا ہے افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کی موبائل کھڑی ہونے اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود بورڈ سٹاپ اور بازار میں تجاوزات کے باعث کھوے سے کھوا چھلتا ہے ۔ پشتہ خرہ سے کسٹم چوک تا آرمی چیک پوسٹ بھی یہی صورتحال ہے۔ کسٹم چوک پر ٹریفک اہلکاروں کی ڈیوٹی نہ ہونے سے ٹریفک جام رہتا ہے۔ ہمارے تئیں گوکہ ٹریفک کے بڑھتے دبائو کا حل سڑکیں کشادہ کرنا ہے پولیس کی تقرری نہیں لیکن کم از کم موجودہ سڑکیں بھی اگر تجاوزات سے پاک کی جائیں تو قدرے بہتری ہوگی ۔ پشتہ خرہ چوک سے آرمی چیک پوسٹ کے درمیان بنی باڑ ہ روڈ کے اطراف میں تجاوزات کو ہٹانے کے باوجود سڑک کی تعمیر اور فٹ پاتھ کی تعمیر کا کام مکمل نہ کیا جا نا افسوسناک امر ہے۔ اس کی بار بار نشاندہی کے باوجود حکام نے توجہ نہ دی جبکہ تعمیر شدہ سڑک کے معیار کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو معائنہ ٹیم بھجوانی چاہیئے تاکہ اصل صورتحال سے آگاہی ہو سکے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ جہاں شہری حکومت سے تعاون کریں گے وہاں حکومتی ادارے بھی حتی المقدور عوام کو مشکلات کا شکار ہونے سے بچا نے کیلئے اپنا کردار نبھائیں گے ۔
بند دکانیں کھولنے کا احسن اقدام
جمرود کارخانومارکیٹ وزیر ڈھنڈ میں تین سال سے بند منشیات مارکیٹ کی دکانوں کو مباح کاروبار کی شرط پر کھولنے کا پولٹیکل انتظامیہ کا اقدام احسن ہوگا جس کے بعد متاثرہ دکانداروں کو حرام کاروبار کی بجائے حلال کاروبا شروع کرنے کا موقع ملے گا جس کا احترام اور قدر کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔پولیٹیکل انتظامیہ نے ایک عرصے تک منشیات کی دکانوں سے کوئی تعرض نہ کیا کیونکہ ان دکانوں میں عرصہ دراز سے ہی دھند ہ جاری تھا۔ بہر حال تین سال قبل کا اقدام اور اب مارکیٹ کو کھولنے کا اقدام دونوں ہی احسن اقدام کے زمرے میں آتے ہیں ۔ مارکیٹ کے کھلنے کے بعد جہاں دکاندار وں کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیئے وہاں پولیٹیکل انتظامیہ کو بھی اس امر پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی کہ عاقبت نا اندیش عناصر چوری چھپے پھر سے مکروہ دھندا شروع نہ کریں ۔ہمارے تئیں اگر پولیٹیکل انتظامیہ کڑی نظر رکھے تو کسی دکاندار کی جرأت نہیں ہو سکتی کہ وہ کوئی مکروہ دھندا کر سکے ۔ چونکہ تین سال سے دکانوں کی بندش سے ان دکانداروں کا متاثرہونا فطری امر ہے اس لئے اگر پولیٹیکل انتظامیہ ان دکانداروں کی حلال روزی کمانے میں ان کی کوئی مدد کر سکتی ہے تو اس میں تاخیر نہ کی جائے ۔ ہمارے تئیں اگر اس علاقے کو بعض مصنوعات کی منڈی بنادیا جائے اور یہاں ہول سیل اشیاء فروخت کی جا ئیں تو دکانداروں کو کاروبار میں آسانی مل سکتی ہے اور وہ جلد اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ بہرحال کاروباری افراد کاروبار کے طریقوں سے خود ہی بہتر واقف ہوتے ہیں اور ان کو مواقع کی بھی سمجھ ہے اس لئے اگر ان کی جانب سے کوئی تجویز آجائے تو پولیٹیکل انتظامیہ کو اس ضمن میں اقدامات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے ۔ یہاں پر جس چیز کی بھی تجارت ہو کم از کم ا س امر کا امکان معدوم کر دیا جائے کہ منشیات اور ممنوعات کیلئے کوئی یہاں کا رخ کرے ۔

اداریہ