موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں میں فرق

موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں میں فرق

وطن عزیز میں جب بھی کوئی یو نیورسٹی ، کالج، روڈ یا عمارت تعمیر ہوتی ہے تو ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ جیسا کہ وہ ہم پر احسان کر رہے ہیں ۔ راستے اور گلیاں پکی کرکے ایم این اے ، ایم پی اے سینیٹر حضرات اپنے نام کی تختی لگا دیتے ہیں ۔بد قسمتی سے ہم بھی ایسی غلام قوم ہیں کہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہمارے مُنتخب نمائندے ہمارے اوپر احسان کر رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان کے ٢٠ کروڑ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے نہ صرف ہمارے یہ حکمران مزے کر رہے ہیں بلکہ جو کچھ تعمیر کرتے ہیں وہ بھی اس دھرتی کے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی کمائی کے پیسوں سے کرتے ہیں۔ ہمارے یہ حکمران اس ملک کے وسائل لوٹ کر دوسرے ملکوں کے بینکوں میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں انکو روز قیامت کا کوئی ڈر نہیں۔ہمارے حکمران جائز اور ناجائز دونوں طریقوں سے جائیدادیں اور بینک بیلنس بنارہے ہیں ۔اگر ہم قُر آن مجید فُرقان حمید، سیرت نبوی ۖ، خلفائے راشدین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں آسانی سے اندازہ لگ جائے گا کہ ہمارے خلفائے راشدین کس طرح اسلام کے بنیادی اصولوں پرسختی سے کاربند ہوتے ۔سورة ص میں ارشاد خداوندی ہے ''اے دائود ہم نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنا دیا ۔ تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیر وی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں راہ الٰہی سے بھٹکا دے گی، یقینًا جو لوگ راہ الٰہی سے بھٹک جاتے ہیں اُ نکے لئے سخت غذاب ہیں''۔ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ فر ماتے ہیں'' تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم سے ہر ایک شخص سے اپنی رعیت کے متعلق پو چھا جائے گا''۔ابو ہریرہ سے روایت منقول ہے کہ حضور ۖ نے فر مایا'' اگر حاکم اللہ کے حکم کی تعمیل اور انصاف کر تا ہے تو اسے اسکا اجر ملے گا اور اگر وہ بے انصافی کر تا ہے تو اسکا وبال اس پر ہو گا''۔معقل سے روایت ہے کہ میں نے نبی ۖ کو سنا ، فر ماتے ہیں ''کوئی شخص جسے اللہ کسی رعیت کا حاکم بنائے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اسکی نگہبانی نہ کرے وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا''۔حدیث میں ارشاد ہے'' سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اسکے مقرب وہ با د شاہ ہو نگے ،جو عادل ہو ں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے زیادہ عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم ہوں''۔جب حضرت ابو بکر کی رحلت کا وقت قریب آیا تو اپنے ورثاء کو جو وصیت نامہ دیا اسے پڑھ کر آج کے دور کے حکمرانوں کی آنکھیں کھلنی چاہئیں، آپ نے فر ما یا''میرے کفن کے لئے نیا کپڑا خریدنے کی ضرورت نہیں, کیونکہ زندہ لوگ مردوں کے مقابلے میں نئے کپڑوں کے زیادہ حق دار ہیں, جو لباس میں نے پہنا اسی کو دھو کر مُجھے دفنادیا جائے''۔ ''میں نے اپنے عرصہ خلافت کے دوران چھ ہزار درہم وظیفہ حا صل کیا ہے, میں اسکا بو جھ اُٹھا کر قبر میں نہیں جا نا چاہتا میری مملوکہ زمین فروخت کر دی جائے اور چھ ہزار در ہم کی رقم بیت المال میں جمع کرا دی جائے''۔حضرت ابو بکر نہ صرف ایک حکمران تھے بلکہ وہ اپنے دور کے ایک بُہت بڑے تاجر بھی تھے۔ایک روز اہلیہ محترمہ نے میٹھا پکانے کی خواہش ظاہر کی ، حضرت ابو بکر نے فر مایا'' میرے پاس تو اس کے لئے زائد رقم نہیں''۔ اہلیہ کہنے لگی کہ اس نے روزمرہ کے اخراجات سے بچت کر کے کچھ رقم جمع کی ہوئی ہے، اس سے انتظام ہو جائے گا''۔ حضرت ابو بکر نے اسی وقت فر ما یاکہ ہم بیت المال سے جو وظیفہ وصول کر رہے ہیں وہ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے ''۔ آپ نے اپنی زوجہ محترمہ سے وہ رقم لیکر بیت المال میں جمع کرا دی اور حکم جاری کیا کہ انکے وظیفہ سے اتنی رقم کم کر دی جائے ، تاکہ کسی صورت میں اس میں سے پس انداز کر نا ممکن نہ ہو۔ ایک دفعہ حضرت عمربیمار پڑ گئے تو معالجوں نے علاج کے لئے شہد تجویز کیا۔ بیت المال میں شہد موجود تھا لیکن بلا اجازت نہیں لے سکتے تھے۔ مسجد نبویۖ میں جاکر لوگوں سے کہا '' اگر اجازت دیں تو بیت المال سے تھوڑا شہد لے لوں''۔حضرت عمر جس وقت اپنے حاکموں کو دوسرے شہر بھیجتے تو ان پر یہ شرط عائد کر تے کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوں اور میدہ نہ کھائیں اور باریک کپڑا نہ پہنیں اور لوگوں کی حا جتوں کے وقت اپنے دروازے بند نہ کریں۔اگر تم ان باتوں میں سے کوئی بات کروگے تو سزا کے مستحق ہو گے۔حضرت سیدنا حضرت عثمان نے اپنے بارہ سالہ دور خلافت میں اپنی ذات کے لئے بیت المال سے ایک پیسہ بھی وصول نہ کیا۔ جو وظیفہ حضرت صدیق اکبریا فا روق اعظم وصول کر تے تھے وہ بھی وصول نہ کیا۔ بلکہ اُنہوں نے کم وبیش 60 ہزار در ہم کی رقم بیت المال میں مسلمانوں کے لئے چھو ڑی۔ایک دفعہ کسی متمول شخص نے حضرت اما م حسن و امام حسین کو دو چادریں ہد یہ کے طور پر دیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، جمعتہ المبارک کا خطبہ ار شاد فر ما رہے تھے کہ ان چا دروں پر نگا ہ پڑی ، تو دریافت فر مایا'' یہ کہاں سے لیں''؟۔ انہوں نے واقعہ بتا یا تو ان سے چا دریں لیکر بیت المال میں جمع کرادیں۔سیدنا حضرت علی کی دیانت کا یہ حال تھا کہ ایک مر تبہ آپ کے پا س اصفہان سے کچھ مال آیا جس میں روٹی بھی تھی ۔ آپ نے مال کے ساتھ روٹی کے بھی ٹکڑے کئے اور ہر حصہ پر ایک روٹی کا ٹکڑا رکھاپھر قُرعہ ڈال کر تقسیم کیا۔ ہمارے اکابرین کبھی ریاستی وسائل کو اپنی ذات کے لئے استعمال نہیں کرتے تھے۔ جب حضرت ابوبکر خلیفہ مقرر ہوئے تو صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کو مشورہ دیا کہ وہ تجارت چھو ڑ دیں ۔ اُنہو ں نے تجا رت چھوڑ دی اور پو ری توجہ ریاستی معاملات کی طرف مر کو ز کی۔

اداریہ