اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

سوال جیسا بھی ہو آپ کو کچھ نہ کچھ سکھا ہی دیتا ہے کل ہمیں سیل فون پر ایک برقی سوالنامہ موصول ہوا ،جناب اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی کا مطلب کیا ہے؟زندگی کی ترقی تو مادیت سے منسلک ہے من میں ڈوب کر کوئی کیا کرے گا ؟کیا کوئی نئی ٹیکنالوجی دریافت کرے گا؟آخر من میں ایسا کیا کچھ ہے کہ اس میں ڈوبنے کی بات کی جاتی ہے؟آپ ہی انصاف کیجیے اب ہم اس کا کیا جواب دیتے ذہن میں چند خیال ضرور آئے جو آپ کی عدالت میں پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اللہ کو پہچان لیا ہم اپنے حوالے سے بہت کم غور کرتے ہیں لیکن ہمیں دوسروں کی بڑی فکر ہوتی ہے انسان کی نظر سب سے پہلے اپنے عیبوں پر پڑنی چاہیے اگر کبھی کبھار اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا جائے تو کتنا اچھاہو اپنی حقیقت اپنی اصلیت پر بھی غور کر لیا جائے تو شاید دوسرے کچھ بہتر نظر آئیں زرا سا مقام و مرتبہ مل جانے پر لوگ اپنی حقیقت بھول جاتے ہیںمتکبر بن جاتے ہیں دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اپنی اصلیت اور مقام کو جاننے کے لیے اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانا کتنا ضروری ہے اپنی اصلیت کو یاد رکھنا ہی اصل دانش مندی ہے بڑا عہدہ مل جائے یا دولت کی فراوانی ہوجائے تو ہم فرعون بن جاتے ہیں۔ ایاز محمود غزنوی کے مقرب درباریوں میں شامل تھا بادشاہ اس کی بہت قدر کرتا تھا اور اسے بہت سے اختیارات حاصل تھے ایاز نے ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنی گدڑی اور پرانی پوستین لٹکا رکھی تھی اور اس کمرے کو ہر وقت مقفل رکھتا تھا تاکہ اس کے سوا اس کمرے میں کوئی داخل نہ ہوسکے ۔وہ اس کمرے میں کبھی کبھی چلا جاتا اور اپنی پھٹی پرانی گدڑی اور پرانی پوستین کو دیکھ کر رویا کرتا اور کہتا کہ اے اللہ!میں ایک غریب خاندان کا فرد تھا میری کوئی حیثیت نہیں تھی پھٹا پرانا لباس میرا کل اثاثہ تھالیکن تیرے فضل و کرم سے آج میں محمود غزنوی کا ایک اہم درباری ہوں اس کے بعد وہ اپنے آپ کو سمجھاتا کہ اے ایاز! تو اب مقرب بارگاہ سلطان ہے اس شان و شوکت پر ناز نہ کرنا کہ تیری اصل حقیقت یہی پوستین اور گدڑی ہے۔ جب درباری امراء ایاز کو اپنے کمرے میں جاتے دیکھتے تو دل میں سوچتے کہ ایاز نے اس کمرے میں کوئی بہت بڑا خزانہ چھپا رکھا ہے اگر اس راز سے بادشاہ کو آگاہ کردیا جائے تو اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو یہ کہ ایاز بادشاہ کی نظروں سے گر جائے گا اور دوسرا یہ کہ بادشاہ کو جب اپنی چوری شدہ دولت مل جائے گی تو یقینا ہمیں بھی انعام و اکرام سے نواز جائے گا۔ وہ سب ایک وفد کی صورت میں بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے اور اس سے کہا کہ ایاز نے ایک کمرے میں بہت سا مال ودولت سونا چاندی چھپا رکھا ہے اور وہ اپنے کمرے میںکسی کوجانے کی اجازت بھی نہیں دیتا اس کے دروازے پر ہمیشہ ایک قفل لگا رہتا ہے بادشاہ نے ان کی بات سن کر کہا کہ اچھا آج آدھی رات کو ہم اس کمرے کا معائنہ کریں گے ۔ 

بادشاہ کو ایاز کی مخلصانہ محبت اور وفاداری پر مکمل اعتماد تھاوہ ایاز کی پاک دامنی سے باخبر تھا صرف حاسدین کی اصلاح کے لیے اس نے تلاشی کا ڈھونگ رچایا تھاجب آدھی رات کو وہ کمرا کھولا گیا تو اراکین سلطنت کو وہاں کچھ بھی نہ ملا تو کہنے لگے کہ زمین کے اندر خزانہ چھپایا گیا ہوگا لہٰذا کمرے کے فرش کی کھدائی کی گئی تو پھر بھی کچھ نہ نکلا، اب سب لوگ حیران تھے کہ بادشاہ کو کیا جواب دیں ہم نے تو بدگمانی کی تھی اب اس الزام تراشی سے کیسے جان چھڑائیں ۔بادشاہ سے کہنے لگے کہ بادشاہ سلامت ہم نے بدگمانی کی تھی ایاز کے حوالے سے جو ہم نے سوچا تھا وہ غلط تھا آپ ہمیں جو سزا بھی دیں ہم اس کے مستحق ہیں لیکن ہمیں معاف کردیں تو آپ کی مہربانی ہو گی۔ بادشاہ نے کہا کہ اب تمہارے بارے میں جو فیصلہ ایاز کرے گا وہی فیصلہ میرا بھی ہوگا کیونکہ تم لوگوں نے اس کی عزت و ناموس کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایاز نے بادشاہ کی بات سن کر کہا کہ اے بادشاہ حکمرانی آپ کو زیبا ہے آپ کی مہربانی ہے جو ایاز کو یہ عزت بخشی گئی ہے ورنہ غلام تو غلام ہی ہے آفتاب کے سامنے ستارے کی کیا مجال ہے جو کوئی فیصلہ کرے یہ سب آپ ہی کی صحبت کا فیضان ہے ورنہ میں درحقیقت وہی گھٹیا درجہ کا غلام ہوں جو کہ ابتداء میں پھٹی پرانی گدڑی اور پرانی پوستین میں حاضر ہوا تھا۔جو حق کے طالب ہیں انہیں ہمیشہ اپنے آپ پر نظر رکھنی چاہیے ایک بزرگ سڑک سے گزر رہے تھے کہ ایک متکبر کے ساتھ غلطی سے ٹکرا گئے کیونکہ زیادہ عمر کے سبب ان کی بینائی کچھ کمزور ہو گئی تھی اس مغرور انسان نے اکڑ کر کہا او اندھے! تجھے نظر نہیں آتا کہ میں کون ہوں؟ بزرگ نے ارشاد فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو کون ہے اگر تو کہے تو میں تجھے بھی بتا سکتا ہوں اس نے کہا اچھا بتا ئو کہ میں کون ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہر زندگی تین زمانوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ ماضی ، حال اور مستقبل، میں تیرے تینوں زمانے بتلائے دیتا ہوں ماضی میں تو ایک ناپاک نطفہ تھا حال میں تیرے پیٹ کے اندر گندگی اور پیشاب بھرا ہوا ہے اور مستقبل میں تو قبرستان میں ایک گلی سڑی لاش ہوگا ۔تکبر ہمیشہ بے وقوف ہی کرتا ہے اگر انسان اپنے من میں ڈوب کر اپنی حقیقت پر غور کرلے تو کبھی بھی ٹھوکر نہیں کھائے گااگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے گریبان میں جھانک لے، اپنی حقیقت اپنی اصلیت اپنی پیدائش پر غور کرلے تو اسے سارا حال معلوم ہوجائے گا کہ اس کا آغاز کیا ہے اور انجام کیا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں