گھر کو سجانا اور سنوارنا

گھر کو سجانا اور سنوارنا

گھروں کو سجانا اور سنوارنا لڑکیوں کا اولین شوق ہو تاہے۔شادی سے پہلے لڑکیاں جائنٹ فیملی میں رہتی ہیں تو ہلکی پھلکی سجاوٹ گھروں میں کر لیتی ہیں لیکن جب شادی کے بعد عملی زندگی میںقدم رکھتی ہیں تو یہ شوق اور بڑھ جاتا ہے۔وہ خود کو سجانے اور سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر پر بھی توجہ دیتی ہیں۔سگھڑ خواتین کم سے کم خرچہ میں گھر کو سجانا سنوارنا بخوبی جانتی ہیں۔اگراپنی شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ گھر پربھی اتنی ہی توجہ دی جائے تو گھرمیں بیٹھے ہوئے افراد بھی اچھے لگتے ہیںاور یہ صاف ستھرا اور چمکتا ہوا گہوارہ عورت کی شخصیت کواجاگر کر کے چار چاند لگا دیتا ہے ۔پہلے گھر کوتوجہ پھر وہی چمکتا ہوا آنگن اپنے مکینوں کو پر سکون نیند سے بہلاتا ہے ۔جن خواتین کو گھروں کی سجاوٹ میں زیادہ دل چسپی نہیں ہوتی یا وہ جاب کرنے والی لیڈیز ہوتی ہیں تو ان کے پاس گھر کو توجہ دینے کاٹائم نہیں ہوتاپھر وہ ہر ویک اینڈ میں اپنا ہوم سویٹ ہوم بنا سکتی ہیں۔گھر کے اندر کی آرائش اور گھر کے اندر کی زیبائش انسان کی زندگی میں مثبت پہلو سے اثر انداز ہوتی ہے۔پھر اس گھر کے رہنے والوں کا موڈ بھی خوشگوار رہتا ہے۔بعض خواتین کو لاؤنچ سجانے کابھی بہت شوق ہوتا ہے۔اگر ان کے گھر بڑے نہ ہوں تو وہ گھر کے صحن میں چھوٹے بڑے گملے رکھ کر طرح طرح کی کیاریاں سجا کر پھولوں کے بیج ڈال کر اپنے صحن کو رنگین اور سرسبز اور خوبصورت بناتی ہیں۔گھروں کے اندر اچھے طریقے سے صفائی رکھنا، کچن کو مین ٹین رکھنا، برتن صاف اور شفاف طریقہ سے دھونا، باتھ روم صاف رکھنا، اپنے کمروں کے اندر طرح طرح کی چیزیں سجانا اور نوکروں پر زیادہ انحصار نہ کرنا عورت کی اپنے گھر کے ساتھ ذاتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ پھر اس طرح مرد حضرات کا دل بھی اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی دیکھ کر گھر کی طرف کچھنے لگتا ہے۔گھر چھوٹا ہو یا بڑا کچا ہویا پکا اپنا مکان ہو یا کرایہ کا ہمیشہ صاف ستھرا اور سجا ہوا ہی رکھنے سے جاذبِ نظر ہوتا ہے ۔گندگی نہ ہونے کی وجہ سے ہم کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ہم اپنے گھر کو وقت دیں گے پھر جا کر گھر بھی ہمیں پرسکون زندگی مہیا کرے گا۔ کہتے ہیںکہ دیواروں کے بھی کان ہو تے ہیں بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ دیواروں کے کان تو کیا دماغ اور دل بھی ہوتا ہے۔گھر کی دیواروں کی سوکھی اینٹیںبھی پیار محبت اور توجہ کا پانی مانگتی ہیں۔پھر جاکر اس میں مزید زندگی گزارنے کا مزا اور لطف آتا ہے ۔اگر اپنی ہی رہائش گاہ اچھی اور پرسکون ہو تو پھر گھر سے باہر نکلنے کو بھی دل نہیں کرتا۔جس طرح ایک انسان توجہ مانگتا ہے بالکل اسی طرح گھر بھی صفائی ستھرائی کا اپنا حق مانگتا ہے۔گھر انسانوں سے بنتا ہے مکینوں کے بغیر گھر گھر نہیں صرف ایک مکان کہلایا جاتا ہے ۔ان خالی دیواروں والے مکانوں میں انسان ہی رہ کر گھر بنا کر آبادکرتے ہیں۔پھر اگر ان چادر اور چار دیواری کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں پیار ومحبت سے ایک دوسرے کی غلطیوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوجے کے کام آتے ہوئے صدقِ دل سے قربانی دی جائے تو سونے پہ سہاگا ہو جاتاہے ۔پھر اگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے پروان چڑھتے ہوئے معصوم بچوں کی بھی اصلاح کی جائے اور اپنے ساتھ امورِ خانہ داری میں ان کو شامل کیا جائے تو کیا ہی بات ہے۔گھروں میںلڑائی جھگڑے ہونے سے بھی گھر کی دیواروں تک پہ بھی منفی اثر پڑتا ہے۔جتنی محبت ہم اپنے گھروں سے کریں گے تو گھر بھی ہم سے اسی طرح پیارو محبت اور وفا کریں گے۔پھر ہمیں ان گھروں کی دہلیزوں میں تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی طرح جس محلے میں ہم بستے ہیں تو وہ گلی بھی ہمارے ہی گھرکا ایک حصہ بن جاتی ہے ہمیں اپنے پڑوسیوں کا اور ان کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔ اگر آج ہم کسی کے کام آئیں گے تو کل کو ہمارے ہمسائے بھی ہمارا سایہ بن کر اچھے برے وقت میںہمارے ساتھ ساتھ ہوں گے۔اس طرح کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر زندگی بڑے اچھے طریقہ سے بسر ہو سکتی ہے۔بہت سی خواتین کا مختلف قسم کے جانور پالنے کا شوق ہوتا ہے جن میں اکثرتعداد کبوتر، بلی، مرغی اور کتا وغیرہ کی ہوتی ہے۔اگر شوق مہنگا ہوتو نایاب النسل موراور تیتر اور دوسرے پرندے بھی پاس رکھتی ہیں۔ پھر ان کی نسل کشی کر کے انہیںاچھے داموں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح خواتین کا شوق کاروبار میںبدل جاتا ہے۔'' ہمت کرے انساں تو کیا ہونہیں سکتا'' ۔عورتیں زندگی کے ہر موڑ پر زیادہ سے زیادہ کام کر کے مردوں سے آگے نکل سکتی ہیں۔آج بھی مرد عورت ذات کے بنا ادھورا ہے ۔اگر اس نے اپنی شرٹ کی ٹائی تک بھی لگانی ہے تو اُس کے لئے بھی اپنی بیوی ہی کو آواز دے گا۔اسی طرح دنیا کے اور امورمیں بھی عورتوںنے اپنا نام خوب طریقے سے کمایا ہے۔ وہ آج بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ تو کیا مردوں سے آگے آگے ہیں۔اس میں کاموں کے علاوہ شوقیہ کھیل بھی سرِ فہرست ہیں۔مثلاً کرکٹ ٹینس پھر ہاکی اور دیگر گیمیں ۔یہ سب کرنا ہی ایک عورت کے لئے ایک فن ہے ۔اگر وہ اس کو بہ خوبی سرانجام دیتی ہیں تو بہت نام کما سکتی ہیں آج بھی گینیز بک میں کتنی ہی خواتین کے نام مختلف شعبوں میں سرِفہرست ہیں۔ دنیا کاکوئی ایسا کام نہیں جس میں عورت نے مرد کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو انجام نہ دیا ہو۔ دریا سے گھڑے میں پانی بھرکر لانے سے لے کر سمندر کے اندرجا کر سمندری دنیا پر ریسرچ کرنے تک عورت پیش پیش ہے۔

اداریہ