Daily Mashriq

کے پی اسمبلی میں عوام کے مقابلے میں پولیس کی سرپرستی

کے پی اسمبلی میں عوام کے مقابلے میں پولیس کی سرپرستی

خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس کا تین کمسن بچوں پر بہیمانہ تشدد کے معاملے پر حکومتی رکن صوبائی اسمبلی کو بولنے کا موقع نہ دینا اور ان کو اپنی ہی حکومت کیخلاف احتجاج پر مجبور کرنا افسوسناک طرزعمل ہے جس پر سینئر وزیر اور وزیراعلیٰ کے ترجمان کا یہ استدلال کہ اس واقعہ کو اسمبلی فلور پر لانے سے نہ صرف پولیس بلکہ حکومت کی بدنامی ہوگی بلی کی جانب سے رفع حاجت کے بعد اس پر پنجوں سے مٹی ڈال کر چھپانے کے مترادف ہے۔ متعلقین کو اگر حکومت کی بدنامی کا اتنا ہی احساس تھا تو اپنی ہی جماعت کے ممبر صوبائی اسمبلی کی اس امر پر مجبور ہونے سے قبل ہی نہ صرف بات سنی جاتی بلکہ کمسن بچوں پر تشدد کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کیخلاف فوری کارروائی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے۔ مظلومین کی دادرسی کا ان کو خیال رکھنے اور عملی طور پر ان کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ان کا یہ اقدام پولیس کی سرپرستی کے مترادف ہے۔ ان کے روکنے سے فاضل ممبر اسمبلی ایوان میں دل کی بھڑاس تو نہ نکال سکے مگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کرکے اپنا حق ادا کر دیا۔ حکومتی عناصر کو پولیس کی سرپرستی کی بجائے عوام کی سرپرستی کرنی چاہئے اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کی بجائے اس کیلئے جدوجہد کو فریضہ جان کر نبھانا چاہئے۔

وزیراعلیٰ کیلئے توجہ طلب مسائل

ہمارے نمائندے کے مطابق خیبر پختونخوا کے آٹھویں بڑے تدریسی ہسپتال قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کے آپریشن تھیٹرز میں انستھیزیا یعنی معطلی وبحالی حواس کی ادویہ اور سامان کی عدم دستیابی پر مسائل سنگین ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں یکم اکتوبر کو درخواست میں 8اکتوبر تک سامان موجود ہونے کی نشاندہی کی گئی مگر سامان فراہم نہ کیا جاسکا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ کے آبائی شہر سوات میں نوازشریف کڈنی ہسپتال کے ٹائٹل سے قائم گردوں کے مریضوں کا اہم سنٹر شدید مالی بحران سے دوچار ہو گیا ہے۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے ہسپتال کیلئے مطلوبہ فنڈز فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہسپتال میں تمام سہولیات معطل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اگلے ہفتے تک فنڈز نہیں دیئے تو ہسپتال کو تالے لگا کر بند کر دیا جائیگا۔ واضح رہے کہ پنجاب ہاسپٹل ٹرسٹ کی جانب سے سوات میں کڈنی ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے جس کی تعمیر اور اس کو فعال بنانے تک تمام اخراجات پنجاب حکومت نے برداشت کئے ہیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے پنجاب ہاسپٹل ٹرسٹ نے اس مد میں مزید فنڈز کا اجراء بند کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتال کا انتظام چلانے کیلئے محکمہ صحت نے محکمہ خزانہ سے ساڑھے نو کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے جواب میں محکمہ خزانہ نے صرف ایک کروڑ روپے جاری کئے ہیں جس سے اس ہسپتال میں سہولیات کی مزید فراہمی ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا کے آٹھویں بڑے تدریسی ہسپتال کو فنڈز کی عدم فراہمی صرف ایک ہسپتال کو فنڈز کی عدم فراہمی نہیں بلکہ سابقہ وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیردفاع و حکمران خاندان کے علاقے کے ہسپتال کی حالت زار ہر لحاظ سے قابل توجہ امر ہے جبکہ دوسری جانب سوات میں نواز شریف کڈنی ہسپتال کے حوالے سے پنجاب ٹرسٹ اور اس کی خیبر پختونخوا حکومت کو منتقلی کا کیا معاملہ ہے اس سے قطع نظر ان دونوں ہسپتالوں میں مقامی مریضوں کا علاج ہوتا ہے جن میں علاج معالجہ کی سہولتوں میں تعطل یا پھر خدانخواستہ بندش کی نوبت آنا صوبے کی حکومت اور محکمہ صحت کیلئے شرم کا مقام ہوگا۔ صوبے کے عوام کو علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی پنجاب ٹرسٹ یا حکومت پنجاب کی ذمہ داری نہیں۔ بہرحال یہ کس کی ذمہ داری ہے یہ معاملہ الگ سے بحث کا متقاضی ہے فی الوقت ان دونوں ہسپتالوں کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنا کر علاج معالجے کی سہولتوں کو بند ہونے سے بچانا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ اپنے علاقے کے عوام کے مفاد کی خاطر محض نام اور ٹرسٹ کی بناء پر ہسپتال کی بندش کی نوبت آنے نہیں دیں گے اور ساتھ ہی ساتھ وزیردفاع کے حلقے میں ایک مرحوم قومی رہنما کے نام سے منسوب ہسپتال میں ضروری ادویات اور طبی سامان کی فراہمی یقینی بنا کر عوام کو علاج کی سہولت یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں