Daily Mashriq


''جانے کی باتیں جانے دو''

''جانے کی باتیں جانے دو''

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں اخبار نویسوں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نہ جائے۔ اس کے بعد دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اسی مؤقف کا اعادہ کچھ اس انداز سے کیا کہ امریکہ افغانستان میں استحکام تک انخلاء نہ کرے۔ میجر جنرل آصف غفور کا بیان خطے کی طاقتور فوج کا مؤقف ہے وہ فوج جو خطے میں کم وبیش دو عشروں سے زیادہ عرصے سے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مصروف ہے اور پے درپے فوجی آپریشنوں کے ذریعے تاریخی اعتبار سے خطرناک ترین علاقوں میں دہشتگردی کو شکست دے کر ایک ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا ایک جملہ سیاق وسباق سے ہٹ کر رپورٹ ہوا ہے تو اب اسے سیاق وسباق کیساتھ پیش کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ان کا مقصد یہی ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوج نہ نکالے تو اس کی منطق کیا ہے اس بات کی وضاحت ہونی چاہئے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد طالبان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے مکمل فوجی انخلاء پر بات چیت کرنے پر آمادہ ہوا ہے۔ اس بیان کی امریکہ کی جانب سے کوئی تردید نہیں ہوئی۔ اس طرح یہ بات بڑی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ اب افغانستان میں فتح مند ہونے کا خواب دیکھنا چھوڑ چکا ہے۔ پاکستان میں عمومی طور پر یہ تاثر رہا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میںآمد نے افغان مسئلے کو حل کرنے کی بجائے پیچیدہ تر کیا۔ اس پیچیدگی کا ایک ثبوت افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ اور بھارتی قونصل خانوں کے نام پر پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی سرپرستی ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر بھی رہا کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ چین کیلئے خطرہ ہے۔ طالبان اور پاکستان کے مؤقف میں نقطۂ اتصال غیر ملکی فوج کا انخلاء ہی تھا گوکہ پاکستان نے کبھی کھل کر یہ بات نہیں کی اور اس کیلئے افغان سیاسی مفاہمت کا لفظ ہی استعمال کیا۔ اب جبکہ اچانک امریکہ کی طرف سے انخلا کے اشارے ملنا شروع ہوگئے تو پاکستان نے امریکہ سے افغانستان سے نہ نکلنے کی درخواستیں کردیں۔ یہ طالبان کی سترہ سالہ قربانیوں اور جدوجہد پر پانی پھیرنے والی بات ہے۔ اس سے پاکستان دوبارہ وہی غلطی کر رہا ہے جو سوویت یونین کے انخلاء کے وقت امریکی ایماء پر کی گئی تھی۔ جب پاکستان نے اپنے افغانستان کے بڑے جہادی گروپوں پر مشتمل حکومت قائم کرنے کی بجائے امریکی دباؤ پر نئے تجربات کی ٹھان لی تھی۔ اس سے افغانستان میں خانہ جنگی کا لاوہ پھٹ پڑا تھا اور پھر یہ لاوہ کبھی کنٹرول نہ ہو سکا۔ عین ممکن ہے پاکستان کے ذمہ دار یہ کہنا چاہتے ہوں کہ افغانستان میں مضبوط سیاسی حکومت اور نظام قائم کئے بغیر امریکہ افغانستان سے فرار کا راستہ نہ اپنائے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے، سوویت یونین نے افغانستان کو جوں کا توں چھوڑ کر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ سوویت فوج کے خلاء کو کابل حکومت پُر کرنے میں ناکام ہوئی تھی۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ سوویت یونین جنگ کا مرکزی کردار تھا۔ سوویت فوج کی آمد نے ہی افغانستان میں عسکریت کو مضبوط بنیاد اور جواز فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے سوویت یونین کے تنازعہ حل کرنے کی صلاحیت محدود اور کمزور تھی۔ آج کے افغانستان میں کچھ یہی پوزیشن امریکہ کی ہے۔ اب امریکہ نے افغانستان سے رخصتی کا فیصلہ کیا ہے تو اسے ابھی سے ایک مستحکم سیاسی نظام اور قومی اتفاق رائے کی حکومت کے قیام کی کوششیں توکرنی چاہئے مگر امریکہ تنہا یہ کام نہیں کر سکتا۔ افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور اتحادی افواج کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنے کا کام کسی اور کو سونپنا ہوگا۔ اقوام متحدہ امن فوج کے ذریعے اس کام کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس کام میں پاکستان، سعودی عرب، ایران اور وسط ایشیائی ممالک سے مدد لینی چاہئے۔ امریکی فوج یونہی افغانستان سے بھاگ کھڑی ہوگی تو اس خلاء کو طاقت کے ذریعے پر کرنے کی کوششیں ہوں گی، یوں افغانستان میں امن کے قیام کی منزل دور ہوتی چلی جائے گی۔ اس مرحلے پر پاکستان کو یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ وہ افغانستان میں مزید کچھ عرصے کیلئے امریکی فوج کی موجودگی چاہتا ہے تو کیوں؟۔ یہ ایک عجیب مخمصہ ہے کہ ایک طرف آپ ان طالبان کو مارنے کی بجائے حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے اور ان کے عسکری کردار کو سیاسی کردار دے کر مسئلہ حل کرنے کی حمایت کرتے رہے جو غیر ملکی افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ دوسری طرف آپ مکمل انخلاء کی مخالفت کرکے خود اپنے مؤقف کے تضاد کو واضح اور گہرا کر رہے ہیں۔ یہ تو صریح ''وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت ِقیام آیا'' والی بات ہوئی۔ یہ سترہ سالہ تاریخ کے اہم ترین موڑ پر وقت، حالات اور تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔ افغانستان کے ستر فیصد علاقے پر کنٹرول رکھنے والی ایک لہر کو خواہ مخواہ اپنے مدمقابل کھڑا کرنے کی حکمت عملی ہے۔ ماضی میں سوویت انخلاء کے وقت ہمارے مخمصوں اور مصلحتوں نے ہمیں رفتہ رفتہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا کیا تھا۔ ہم دو اہم جماعتوں کو ملا کر مخلوط حکومت قائم کرنے کا مطالبہ چھوڑ کر ٹیسٹ ٹیوب لیڈروں کی تلاش اور تراش خراش کے کام میں جُت گئے تھے اور یوں حالات کی باگیں ہمارے ہاتھوں سے چھوٹتی چلی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں