Daily Mashriq

زندگی تجھ سے بھی رفتار زیادہ تھی کبھی

زندگی تجھ سے بھی رفتار زیادہ تھی کبھی

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو چکی ہے جس میں آنے والے دور میں دوبئی کی فضاؤں میں اُڑن ٹیکسیاں چلنے کے حوالے سے تھری ڈی اینی میشن کے ذریعے صورتحال کی وضاحت کی گئی ہے کیونکہ دوبئی میں ان دنوں ٹریفک کی جو صورتحال ہے اس میں بروقت کہیں پہنچنا کارے دارد بن چکا ہے۔ اسی طرح ایک اور خبر کے مطابق جاپان میں فضائی ٹیکسیوں کے روٹس مقرر کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے کیونکہ فضائی ٹیکسیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی وجہ سے آسمان میں ان ٹیکسیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو تصادم کے خطرات بڑھتے رہیں گے۔ یعنی ایک جانب وہ قومیں ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے کہاں سے کہاں جا پہنچی ہیں یا پھر مستقبل میں اپنے لئے نئی راہیں متعین کر رہی ہیں مگر دوسری جانب ہم جیسے پسماندہ ممالک کے باشندے ہیں جو آج بھی بی آر ٹی جیسے منصوبوں کے کھڈوں' گڑھوں اور بارش کے بعد تالابوں میں تبدیل ہونے والی سرنگوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے پر مجبور ہیں۔ مصطفی زیدی نے شاید ایسی ہی صورتحال کو ذہن میں رکھ کر پیشگوئی کی تھی کہ

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

اگرچہ ہمارے ایک کرم فرما پروفیسر صبیح احمد بقول مرزا غالب دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے اپنی موٹر سائیکل کو اڑن کھٹولہ سے تشبیہہ دے کر فیس بک پر اس اڑن کھٹولہ کیلئے کوئی اچھا سا نام تجویز کرنے کی دہائی دیتے پھر رہے ہیں یعنی

میں نے رکھا ہے محبت اپنے افسانے کا نام

تم بھی کچھ اچھا سا رکھ لو اپنے دیوانے کا نام

تاہم لگتا ہے کہ ابھی تک انہیں اپنے اڑن کھٹولے کیلئے کوئی اچھا سا نام نہیں ملا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنے اڑن کھٹولے یعنی سکوٹر کو ان دنوں بوجوہ خود سے الگ کرکے راکٹوں اور جیٹ جہازوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس سے آپ یہ نتائج اخذ نہ کریں کہ ہمارے اکاؤنٹ میں بھی کہیں سے کوئی پراسرار طور پر کروڑوں اربوں آگئے ہیں اور ہم نے کوئی چھوٹا موٹا جیٹ جہاز خرید لیا ہے بلکہ ہم تو اپنے آپ کو کوس رہے ہیں کہ پڑھ لکھ کر قلم سے ناتا جوڑنے کے بجائے کہیں گنے کا رس بیچتے یا پھر دہی بھلے کی ریڑھی ہی لگا لیتے تو کسی نہ کسی منی لانڈرر کو ہم پر ترس آجاتا اور وہ ہمارے اکاؤنٹ میں بھی اربوں کھربوں ڈال کر ہمیں راتوں رات مالامال کر دیتا مگر ہم تو آج بھی ٹوٹے پھوٹے سکوٹر کو گھر میں کھڑا کرکے خوش ہیں کہ الحمدللہ ساری زندگی حق حلال کی کمائی سے گھر چلایا ہے ورنہ اتنے اچھے عہدوں پر کام کرنے کے باوجود تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا کے مصداق صرف سکوٹر پر گزارا نہ کرتے اور اب جو اسے بھی منقار زیر پر رکھنے پر ہم نے مجبور کر رکھا ہے اور گھر کے صحن میں کھڑے کھڑے اس پر اتنی مٹی پڑ چکی ہے کہ بے چارہ اپنی حالت پر سو سو آنسو بہا رہا ہوگا۔ مگر ہماری بھی مجبوری یہ ہے کہ گزشتہ دو تین مہینوں سے ہماری کمر میں درد اُمڈ آنے کے بعد ایک ماہر ڈاکٹر کے مشورے پر ہم نے نشست کیلئے Ring cussion کا استعمال شروع کر رکھا ہے جس سے اب کافی افاقہ ہے۔ البتہ ہم نے کہیں آنے جانے کیلئے جیٹ جہاز اور راکٹ کے استعمال کی ہے تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں چلنے والے رکشے نہ تو کسی جیٹ جہاز سے کم ہیں اور اگر سونے پر سہاگہ رکشہ ڈرائیور بھی ذرا جوشیلا ہو تو وہ اسی جیٹ جہاز کو راکٹ میں ڈھال لیتا ہے یعنی سڑک پر موجودہ ٹریفک صورتحال کے باوجود اُڑاتا ہوا لیکر جاتا ہے کہ خوف سے کبھی کبھی ہم اپنی آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ جس طرح وہ برق رفتاری سے اپنا جیٹ جہاز چلاتے ہوئے کبھی دائیں، کبھی بائیں، کبھی ترچھا ہو کر ساتھ چلنے والی ٹریفک کو پیچھے چھوڑتا جاتا ہے تو اگر اس کھیل کو کھلی آنکھ سے دیکھنے کا کسی کو یارا ہو تو ہمیں یقین ہے کہ کسی نہ کسی موقع پر خوف سے اس کی یا تو چیخیں نکل سکتی ہیں یا پھر اس کی گھگھی بندھ سکتی ہے یا پھر شاید یہ ہمارا ہی خیال ہو کہ ہم نے ہمیشہ اپنا اڑن کھٹولا چلاتے ہوئے حد رفتار کو شہنشاہی دور کے ''حد ادب گستاخ'' کے صیغے سے منصف کرتے ہوئے کبھی 25میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے نہیں بڑھنے دیا اور آج ہم یہ بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید ہمارا سکوٹر بے چارہ اتنی طویل رفاقت کے دوران ہم سے کبھی خوش نہیں رہا ہوگا کیونکہ اس کی تیز رفتاری پر قدغن لگا کر ہم نے اس کیساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا کہ ناصر علی سید نے ایسے موقعوں کیلئے کہا تھا

اب تو دوچار قدم چلتے ہیں تھک جاتے ہیں

زندگی تجھ سے بھی رفتار زیادہ تھی کبھی

ہم تو خیر شہر میں چلنے والے رکشوں اور سکوٹر موٹر سائیکل والے اڑن کھٹولوں کی بات کر رہے ہیں جن کو اڑن کھٹولے سے تشبیہہ دینا شعراء وادباء کا ہی خاصا ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو موٹر سائیکل ہی کو نئے روپ میں ڈھال کر یہ جو چنگ چی رکشوں کی صورت دی گئی ہے وہ واقعی اڑن کھٹولے ہی لگتے ہیں کیونکہ ان کو چلانے والے تو جیسے ہوا کے گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں موجود سپیڈ بریکرز پر سے یہ ڈرائیور جس طرح سے ان رکشوں کو گزارتے ہیں ان سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے پل صراط پر سے گزر رہے ہیں کیونکہ سپیڈ بریکروں کے طفیل جس انداز میں چنگ چی رکشے اچھلتے ہیں کبھی ہوا میں معلق ہو جاتے ہیں اور کبھی دائیں بائیں جھک کر سواریوں کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں اس پر صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ

شنیدہ کے بود مانند دیدہ

متعلقہ خبریں