Daily Mashriq

مسائل اور آسان حل

مسائل اور آسان حل

قوموں کی تاریخ میں ترقی اور احتساب کا عمل یکساں چلتا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ترقی کی وجہ سے احتساب رک گیا ہو یا احتساب کی وجہ سے ترقی رک گئی ہو، اس کے برعکس پاکستان میں مگر گزشتہ دو سالوں سے ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ چونکہ سیاستدانوں اور سابقہ حکمرانوں کا احتساب ہو رہا ہے اسلئے ترقی اور معیشت پر کوئی کام نہیں ہو سکا ہے۔ احتساب اور معیشت بحالی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی پی ٹی آئی کی موجودہ کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو یہ تاثر اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان کی طرف سے احتساب کے نام پر شروع کیا گیا کھیل اب صرف ایک خاندان تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور احتساب کے اس کھیل میں ترقی اور معیشت بہت پیچھے چلی گئی ہیں۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہے، یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ پی ٹی آئی کی اب تک کی سیاست اور حکومت شریف خاندان کی مخالفت سے آگے نہ بڑھ سکی ہے۔ اس ساری نوراکشتی میں نقصان پاکستان اور عوام کا ہو رہا ہے' وہ عوام جو منتظر تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو چشم زدن میں ان کے مسائل حل ہو جائیں گے' آج وہ منتظر ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے کب عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔ دھیرے دھیرے یہ بات عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے پاس ملک چلانے کا تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی پروگرام۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو سیکھنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں' کیا معلوم وہ سیکھ پائیں گے بھی یا نہیں، اور اگر وہ سیکھنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو تب تک ملک وقوم کا کتنا نقصان ہو چکا ہو، بڑھتی ہوئی مہنگائی، مایوسی اور گومگوکی صورتحال، گزرتے لمحات میں پاکستانی عوام کیلئے مشکلات کی بھیانک خبر لیکر آرہے ہیں، موجودہ مشکل حالات میں کاشتکاروں' کارخانہ داروں' دکانداروں' عام آدمی سمیت محنت مزدوری کرنے والا مزدور تک تلملا اٹھا ہے، میں کئی ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جنہوں نے سنہری مستقبل کیلئے حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا تھا لیکن اب وہ بھی پی ٹی آئی سے شکوہ کناں ہیں۔

قومی اسمبلی سے منتخب ہونے کے بعد جب عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے تو مجھے پوری امید ہو چلی تھی کہ شکر ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سابقہ حکومتوں کے برعکس اپنی تمام تر توانائی عوامی مسائل کے حل پر صرف کرے گی۔ لیکن اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے سابقہ حکومتوں کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور دو ماہ کا عرصہ بیتنے کے باوجود حکومت ن لیگ کے مخمصے سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں نے حالات کے جبر سے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔ عظیم عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے کل ملا کر تین عشرے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں، طویل قید کے بعد جب انہیں جیل سے باہر نکالا گیا تو ان کے مخالفین نے نیلسن منڈیلا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ نیلسن منڈیلا نے مخالفین کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کو فوری قبول کر لیا۔ نیلسن منڈیلا کے حامیوں اور ساتھیوں نے کہا کہ موجودہ حالات ہمارے موافق ہیں' پوری قوم آپ کے استقبال کیلئے کھڑی ہے' مذاکرات کرنا مخالفین کی مجبوری ہے لہٰذا آپ آگے بڑھئے کیونکہ مخالفین سے بدلہ لینے کا یہی بہترین وقت ہے۔ نیلسن منڈیلا مگر اپنی بات پر قائم رہے اور اپنے حامیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میری قوم اور میرے ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ مزید محاذ آرائی سے گریز کیا جائے اور مخالفین کیساتھ ملکر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

ہمارے سیاستدانوں کو اندازہ بھی ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں ملک وقوم کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔ کیا ہر دور کے حکمران یہ کہہ کر گلوخلاصی کرا سکتے ہیں کہ انہیں کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ 15سال قبل ہماری سیاسی جماعتوں کو یہ شکوہ تھا کہ ملک میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا گیا، لیکن یہ تیسری حکومت ہے جو باقاعدہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے۔ اس کے باوجود حالات کا بد سے بدتر ہونا اور جمہوری حکومتوں کی طرف سے اس کی ذمہ داری نہ لینا ایسا امر ہے کہ ملک کی پسماندگی اور تباہ حالی کا ذمہ دار ہمارے سیاستدانوں کے علاوہ کوئی اور طبقہ نہیں ہے، سیاستدانوں کی اکثریت ہر دور میں حکومت میں رہتی ہے۔ کبھی وفاق میں' کبھی صوبائی سطح پر اور کبھی وفاق اور صوبوں دونوں میں۔ اگر کبھی مختصر عرصہ کیلئے حکومت سے جدا بھی ہوں تو بڑی تعداد ایسوں کی ہوتی ہے جو پارٹی بدل کر منتخب حکومت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ مشکل حالات سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سیاستدان نیلسن منڈیلا کی طرح ملک وقوم کے فائدے کو مدِنظر رکھ کر سوچیں۔ حکومت چونکہ پی ٹی آئی کی ہے اس لئے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کو بھی ملک کے وسیع تر مفادات کو مدِنظر رکھ کر سوچنا چاہئے اور ملک وقوم کی خاطر اگر انہیں مخالف کیساتھ بیٹھنا بھی پڑتا ہے تو اسے ''انا'' کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں