Daily Mashriq

یہ ترجیحات کی بات ہے

یہ ترجیحات کی بات ہے

پاکستان کے ذمہ داروں کو 1990ء میں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ملک کی ضروریات کے لیے پانی کم ہو رہا ہے ۔ 2005ء میں پاکستان کو خشک سالی کے خطرے سے آگاہ کیاجا چکا تھا۔ 2015ء میں اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا تھا کہ 2025ء میں پانی کا بحران شروع ہو جائے گا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے اس آگاہی کے باوجود پانی کی کمی سے عہدہ برآء ہونے کے لیے جو کچھ کیا وہ اس وقت ناکافی ہے کہ قابل ذکر نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان میں ثاقب نثار نے پانی کے موضوع پر ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے اس کم کوشی بلکہ ناکردگی کو غفلت مجرمانہ قرار دیا ہے۔لیکن بحران تو سر پر آن پہنچا ہے اس کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے چار چھ ماہ پہلے دریاؤں کا پانی ذخیرہ کرنے کی خاطر دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بنانے کے لیے فنڈ قائم کر دیا جو بعد از اں پرائم منسٹر چیف جسٹس فنڈ فار دیامر بھاشا اینڈ مہمند ڈیم کہلایا۔ جس سمپوزیم کا ذکر ہو رہا ہے اس کا اہتمام بھی سپریم کورٹ نے ہی کیا اور اس کا اجلاس بھی سپریم کورٹ کی عمارت میں ہوا۔ یہ جو 1990اور 2005اور 2017ء میں پانی کی قلت سے آگاہی فراہم کرنے کی بات ہے یہ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اس سمپوزیم میں جو تقریر کی اس سے لی گئی ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نہ صرف ڈیمز بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور اس کے پانی کی تقسیم کے بارے میں اختلاف کم کرنے پر روشنی ڈالی بلکہ پانی کے باکفایت استعمال کے طریقوں پر زور دیا جن سے پانی ضائع نہ ہو اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے پانی کی بچت' پانی کے آڈٹ کے طریقے' پانی کی قیمت کا تعین کرنے ' پانی کی پیداواریت ' پانی کا دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ ' پانی منصفانہ تقسیم کے لیے سیٹلائٹ والے ٹیلی میٹری نظام اختیار کرنے اور آبپاشی کے لیے فواروں کی شکل میں پانی کی فراہمی کے طریقے اختیار کرنے کے حوالے سے چشم کشا باتیں کیں۔ صدر مملکت نے جو اہم نکات اٹھائے وہ کب کابینہ کی مشاورت اور پارلیمنٹ کی بحث کا موضوع بنتے ہیں۔ کب ان پر لاگت کے تخمینے لگائے جاتے ہیں اور کب ان کے قابل عمل ہونے کی رپورٹیں مرتب ہوتی ہیں اور کب منصوبے بنتے ہیں' یہ ابھی دیکھنا ہے۔اگر غفلت مجرمانہ جاری رہی تو یہ آواز بھی تحلیل ہو جائے گی اور اگر معاشرے کے ذمہ دار اس غفلت سے دستبردار ہو گئے تو شاید کوئی شروعات ہو جائیں۔ سیٹلائٹ ٹیلی میٹری کا ذکر یونہی تو نہیں آ گیا ۔ اس کی وجہ محسوس کی جا سکتی ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے ابھی قابل عمل اعتماد چندہ بھی حاصل نہیں ہوا اور ان پر ابھی کام بھی شروع نہیں ہوا کہ ملک میںآئندہ تعمیر ہونے والے ڈیموں کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے صوبوں کے حقوق کا سوال سامنے آنے لگاہے۔ ایسا ہی سوال کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی تجویز کے حوالے سے بھی سامنے آیا تھا اور اس پر سیاست ایسی چلی کہ لوگوں نے کہا ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا ۔جوش سیاست میں تین صوبوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی ' قراردادیں منظور کر لیں۔ آج بھی جب اس ڈیم کی بات آتی ہے تو یہ قراردادیں سامنے کر دی جاتی ہیں۔ گویا یہ حرف آخر ہیں ۔جن مسائل کو بنیاد بنا کر یہ قراردادیں منظور کی گئی تھیں ان کا انسان کے پاس کوئی حل نہیں ہے اور نہ ہوگا۔ سیٹلائٹ 90کی دہائی میں بھی زمین کے مدار میں گردش کرتے تھے اور سیٹلائٹ ٹیلی میٹری اس وقت بھی ممکن تھی لیکن اس کا ذکر نہیں آیا اور اس خدشے کی بنا پر کہ سندھ کا پانی لے جائے گا کالا باغ ڈیم منصوبہ لپیٹ دیا گیا۔ آج پانی کمی واضح نظر آ رہی ہے اور بھارت کے وزیر نریندر مودی کی یہ بڑھک بار بار آتی ہے کہ ہم پاکستان کو بوند بوند پانی کے لیے ترسا دیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چالیس سال کے دوران پانی کے ذخائر تعمیر کرنے اور پانی کے انتظام کی طرف توجہ نہ دے کر غفلت مجرمانہ ہوئی ہے۔ لیکن یہ غفلت آج بھی جاری ہے۔ پانی کا بحران شروع ہو چکا ہے ' زیر زمین پانی کھینچنے کے لیے جو کھدائی کرائی جاتی ہے اب وہ چند سال پہلے کے ایک سو فٹ کی بجائے چھ سو فٹ تک جاتی ہے۔ اس طرح اس کی لاگت تو زیادہ ہو ہی گئی ہے لیکن اس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مزید کم ہو گئی ہے اور زمین سوکھنے لگی ہے اور ہم جنہیں پانی کی کمی صاف نظر آ رہی ہے دانتوں میں برش کرتے ہوئے آٹھ دس لیٹر پانی ضائع کر دیتے ہیں۔ کاروں کی دھلائی کے لیے پائپوں کے ذریعے تیز رفتار پانی کی دھار استعمال کرتے ہیں۔ ہر شہر میں لاتعداد کار واش کے اڈے ہیں۔ مساجد میں وضو کا پانی دوبارہ کہیں اور استعمال کرنے پر توجہ کسی کی نہیں ہے۔اس کے باوجود کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی اسی فیصد آبادی کو آج بھی ایسا پانی میسر ہے جو انسانی استعمال کے لیے مضر ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق ایسے پانی کے استعمال کے باعث بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما متاثر ہو رہی ہے۔ سمپوزیم ہو گیا ، علمی اور معلوماتی مقالے پڑھے جا چکے لیکن اس سے ''غفلت مجرمانہ'' میں کتنی کمی آئی۔ اس کا عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اب کی بار خریف کی فصل کے لیے ضرورت کی نسبت آدھا پانی میسر ہو گا۔ پیداوار کتنی آئے گی اس کا تخمینہ کوئی نہیں بنایا۔ سیاسی جماعتوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ حکومت میں ہوں تو عوام کے اہم مسائل کے حل کے لیے کام کریں ' اپوزیشن میںہوں تو حکومت کو عوام کی ضروریات پر متوجہ رکھیں۔ کیا حکومت اور اپوزیشن غفلت چھوڑ کر پانی کی کمی پر کماحقہ متوجہ ہیں؟کیا 2025ء میں یہ کہاجائے گا کہ ہم باون سال تک غفلت مجرمانہ کے مرتکب رہے ۔ کون کہے گا اور کون سنے گا؟(چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پانی کے بارے میں چالیس سال تک غفلت مجرمانہ ہوئی)

متعلقہ خبریں