Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میرے پڑوس میں ایک شخص رہتا تھا' وہ بہت گنہگار تھا' پڑوسیوں کو اس سے بہت تکلیف تھی۔ میں نے اس سے ایک دن کہا کہ اس شہر سے نکل جا اور کہیں اور رہنا شروع کر دے۔ وہ کہنے لگا کہ میں اپنے ذاتی مکان میں رہتا ہوں اسے چھوڑ کر کیوں جاؤں؟ پھر میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ سے تیرے حق میں بد دعا کرتا ہوں۔ کہنے لگا کہ خدا تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور مجھے اپنے رب پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ مجھے معاف فرما دیں گے۔مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ اس کے حق میں بد دعا کروں لیکن پھر میرے دل میں الہام ہوا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس آدمی نے خدا کی رحمت کو سہارا بنا یا ہے اور رب تعالیٰ معاف کرنے کیلئے ایک سہارا بھی کافی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ میں واپس اس شخص کے پاس آیا اور اپنے دل کا حال اس سے بیان کیا۔اس نے ساری بات سنی اور پھر بے اختیار رونے لگا' کہنے لگا کہ میرا رب مجھے رحمت کی چادر میں ڈھانپنا چاہتا ہے اور میری یہ حالت ہے کہ گناہ پر گناہ کر رہا ہوں اور اپنے پڑوسیوں کو بھی تکلیف دیتا رہتا ہوں چنانچہ اس نے اپنے برے اعمال سے توبہ کرلی۔ (مخزن اخلاق)

ایوب شجاع نے اپنے غلام کو عبداللہ اعرابی کے پاس انہیں بلانے کیلئے بھیجا۔ غلام نے واپس آکر کہا: میں نے انہیں اطلاع تو کر دی لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں ان سے فارغ ہو کر آتا ہوں حالانکہ وہ کتابوں کے مطالعہ میں مصروف تھے کتابوں کے سوا وہاں کوئی نہ تھا۔کچھ دیر بعد عبداللہ آئے تو ایوب نے ان سے پوچھا: تمہارے پاس تو کوئی نہ تھا ۔ انہوں نے جواب دیا' چند عقلمند ہم نشین ایسے ہیں جن کی باتوں سے ہم نہیں اُکتاتے' ان کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں ہم ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں' وہ ہمیں گزرے ہوئے لوگوں کے علم' عقل وادب اور صحت رائے کا فائدہ دیتے ہیں انہیں مردہ کہنے کی صورت میں آپ کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا اور اگر آپ انہیں زندہ کہیں تب بھی آپ کو غلط اور بے عقل نہیں کہا جاسکتا۔ (کتابوں کی درسگاہ میں)

فضیل بن عیاض دوسری صدی ہجری کے مشہور بزرگ اور عالم ہیں۔ بڑی عجیب اور حیرت ناک بات یہ ہے کہ یہ پہلے مشہور زمانہ ڈاکو تھے ایک واقعہ ان کی زندگی تبدیلی کا باعث بن گیا۔ہوا یہ کہ وہ ایک عورت کی محبت میں گرفتار ہوگئے چنانچہ اس سے ملنے اس کے گھر پہنچے' ابھی داخل ہو ہی رہے تھے کہ قرآن کریم کی یہ آیت ان کے کانوں میں پڑی' ترجمہ: ''کیا ایمان والوں کیلئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کیلئے جھک جائیں''۔فضیل نے سنا تو کہا: ہاں میرے رب! کیوں نہیں۔ قرآن کریم کی اس آیت نے ان کے دل کی ساری کثافتوں کو دھو ڈالا' توبہ کی اور ایسی توبہ کہ امام اور محدث ہونے کیساتھ ساتھ ولایت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوئے' بعد میں جب وہ قرآن کریم پڑھتے تو اس قدر روتے کہ لوگوں کو ان پر رشک آنے لگتا۔ (تہذیب التہذیب صفحہ نمبر294)

متعلقہ خبریں