Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکوہ

مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکوہ

عاصمہ جہانگیر کی یاد میں لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی'' انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے عوامی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوںکی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے' ہندوستان کشمیر میں انسانیت سوز سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے جو جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 77واں روز ہے' نہتے کشمیری بے بسی کی تصویر بنے اہل پاکستان اور عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن مقام افسوس ہے کہ عالمی برادری کشمیریوں کی مشکلات سے باخبر ہونے کے باوجود کوئی پرامن حل تلاش کرنے سے قاصر رہی ہے۔ پاکستان اگرچہ ہر سطح پر سفارتکاری اورکشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے بعد کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کیلئے کوئی ٹھوس پروگرام سامنے نہیں آیا ہے۔ دریں حالات یہ جملے زباں زدعام ہیں کہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حق میں تقریر کیا ہمارے کمان کا آخری تیر تھا؟ کشمیریوںکی مظلومانہ زندگی کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑے' عالمی میڈیا کی کشمیر تک رسائی یقینی بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی جائے' اس مقصد کی تکمیل کیلئے عرب ممالک کیساتھ ساتھ ایران' ترکی کی حمایت حاصل کر کے مشترکہ اور توانا آواز کے ذریعے کشمیر کے اصل حقائق دنیا کو دکھانے کی کوشش کی جائے، اگر پاکستان بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب اُتارنے اور اہل کشمیر کے حقیقی حالات سے دنیا کو آگاہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہو۔

وزیراعظم معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن!

وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک سال کے اندر اندر معیشت کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 111.5فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ غیرملکی نجی سرمایہ کاری میں 194فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف گورنر سٹیٹ بینک نے معیشت کی سست رفتاری کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان اس اعداد وشمار کو بیان کر رہے ہیں جو مشیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کے دوران کہے تھے۔ وزیراعظم کے بقول ملکی معیشت میں اگر واقعی بہتری آرہی ہے تو عوام کی بڑی تعداد مہنگائی کا رونا کیوں رو رہے ہیں' ملک میں ہوشربا مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں؟ اگر معیشت میں بہتری آئی ہے تو پاکستان اس بہتری کے ثمرات سے محروم کیوں ہیں؟ وزیراعظم عمران خان دراصل معیشت میں جس بہتری کی بات کررہے ہیں اس بہتری کا تعلق حقیقت سے نہیں بلکہ گزشتہ سال کیساتھ ہے یعنی گزشتہ سال بحران زیادہ تھا اور اس سال بحران گزشتہ سال کی نسبت کم ہے۔ اگر یہ مہنگائی مصنوعی ہے تو اس کی جواب دہ بھی حکومت ہے کیونکہ ریاست کی رٹ کو قائم کرنا اور شہریوں کو طے شدہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کا کام ہے۔ وزیراعظم عمران خان جس مہنگائی کو ''مصنوعی مہنگائی'' کا نام دے رہے ہیں اس مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ عام شہری قطعی طور پر اس بات سے بے خبر ہے کہ حقیقی اور مصنوعی مہنگائی میںکیا فرق ہوتا ہے۔ عام شہری تو محض اتنا جانتا ہے کہ موجودہ حالات میں اس کیلئے گھر کا راشن خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کو جھوٹی تسلیاں دینے کی بجائے ان کے سامنے حقیقت بیان کی جائے اور عوام کے تعاون سے مشکل کی اس گھڑی سے نکلنے کی سبیل تلاش کی جائے کیونکہ الفاظ کے ہیرپھیر سے حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

بیرونی سرمایہ کاروں کو رعایت دینے کا احسن فیصلہ

حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر خصوصی رعایت کا عندیہ دیا ہے اور غیرملکی کمپنیوں کو مکمل ملکیت سمیت متعدد ٹیکس دینے سے استثناء کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔ سی پیک کی صورت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا بڑا دروازہ کھلنے والا ہے' اس ضمن میں دیکھا جائے تو بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان لانے کیلئے حکومت نے انتہائی اہم قدم اُٹھایا ہے کیونکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو کوئی پرکشش پیکیج یا مراعات نظر آئیں گی تو تبھی وہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہوں گے۔ ابتدائی طور پر سرمایہ کاروںکو جو مجوزہ مراعات دی جائیںگی ان میں اگرچہ انکم ٹیکس سے استثنائ' غیر رہائشیوں پر ٹیکس چھوٹ اور تارکین وطن کو انکم ٹیکس استثناء 2040ء تک شامل ہے لیکن ہم سمجھتے ہیںکہ سرمایہ کاری کیلئے دو نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک ویزہ کا آسان حصول، دوسرا امن وامان کا قیام ۔ حکومت اپنے تئیں سرمایہ کاروں کو لاکھ مراعات فراہم کر دے لیکن اگر بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے ویزہ کا حصول مشکل رہتا ہے یا قیام امن میںمسائل درپیش ہوتے ہیں تو بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رُخ نہیں کریںگے۔ اس ضمن میں پاکستان کو دبئی اور سنگاپور سے سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دبئی پورٹ پر تاجروں کو ہر قسم کی مراعات حاصل ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی تاجروں سمیت دنیا بھر کے تاجر دبئی کی بندرگاہ کو ہی ترجیح دیتے ہیں، ہم دبئی سے زیادہ یا کم ازکم ان کے برابر مراعات دے کر ہی تاجر برادری کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں گے، حکام کو اس سلسلے میں انتہائی غور وخوض کرنے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں