Daily Mashriq

حکومت کا امتحان

حکومت کا امتحان

وقت اگر ایک بڑی عدالت اور مورخ ہے تو پاکستانی سیاست کے مسٹر اور مولانا دونوں اس عدالت میں کھڑے ہوگئے ہیں۔مسٹر عمران خان اور مولانا فضل الرحمان دونوں کوتنی ہوئی رسی کا سفر درپیش ہے ۔عمران خان روایتی سیاست اور سیاست کاروں کی مخالف قوتوں کی آنکھ کا تارہ ہیں تو مولانا فضل الرحمان اس نئے اسلوبِ سیاست کے سب مخالفین کے لاڈلے ہیں ۔ عمران خان کومنظر سے ہٹانے اور موجودہ سسٹم کو دریابرد کرنے کے وہ سب ارمان جو دلوں میں مچل مچل کر دم توڑتے رہے مولانا کی شخصیت کو دیکھ کر ان دلوں میں دوبارہ تڑپنے لگے ہیں ۔جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھے اور حالات زمانہ کے ہاتھوں غیر متعلق ہوجانے والے ہر دو طرح کے بہت سے سیاست دان سب مولانا کے پیچھے کھڑے ہوگئے ہیں۔ عمران خان اپنے سیاسی سفر میں اس سے بھی مشکل مراحل سے گزرتے رہے ہیں مگر مولانا کی سیاست کو اس سے کڑا وقت پہلے کبھی درپیش نہیں رہا ۔جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اسلامی وضع قطع اپنائے ہوئے تھااور مولانا فضل الرحمان ایم آر ڈی کا حصہ تھے مگر جنرل ضیاء الحق کے لئے وہ حضرت مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے تھے جو پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا مرکزی کردار بھی تھے اور افغان جہاد کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے بھی تھے ۔یہ دونوں باتیں جنرل ضیاء الحق کی کمزوریاں تھیں۔ضیاء الحق عقیدے کی حد تک افغانستان کی جنگ کو جہاد سمجھتے تھے اور بھٹو نہ ہٹتے تو جنرل ضیاء الحق کو تاریخ کے اہم ترین موڑ پر منظر پر اُبھرنے کا موقع کیسے ملتا؟۔حقیقت میں جنرل ضیاء الحق کی مخاصمت ایم آر ڈی کی ایک ہی جماعت سے تھی اور رہی اس کانام پیپلزپارٹی تھا ۔پیپلزپارٹی ان کی حقیقی مخالف بھی تھی اور منطقی طور پر مارشل لاء کا تختہ مشق بھی ۔کچھ یہی رشتہ وپیوند مولانا کاجنرل پرویزمشرف کے نیم مارشل لاء سے بھی رہا ۔یہی وہ مارشل لاء تھا جس کے سائے میں انہیں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کا منصب بھی حاصل ہوا ۔اس لئے مولانا کی سیاست کو پہلی بار حقیقی امتحان درپیش ہے ۔ایسے میںحکمران جماعت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وزیر داخلہ پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے ۔کمیٹی کے باقی ارکان کی نامزدگی کا اختیار پرویز خٹک کو سونپا گیا ہے ۔کمیٹی کو اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کا اختیار بھی ہوگا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ خود ان کا موقف تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے استعفے کے بعد ہی مذاکرات ہو ں گی ۔ پرویز خٹک نے مذاکرات کے لئے اپنا ذہن بھی پوری طرح تیار نہ کیا ہوتا کہ عمران خان نے کنونشن سینٹر میں خطاب کے دوران یہ کہہ کر ایک بار پھر اپنا روایتی انداز اپناتے ہوئے روایتی تیر مولانا کی طرف اُچھال دیا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ۔مذاکرات کی کامیابی کا تو پہلے ہی بہت کم امکان تھا کہ وزیر اعظم کے اس انداز گفتگو نے انہیں مزید معدوم کر دیا ۔مولانا اب اپنے احتجاج کا گراف بیانات کے ذریعے جس مقام پر لے جا چکے ہیں وہاں آسانی سے واپسی ممکن نہیں ۔نہ حکومت کی روکھی سوکھی مذاکراتی پیشکش مولانا کو راضی کر سکتی ہے ۔مولانا خاکسار تحریک کی طرز پر اپنے خاکی لباس میں ملبوس لٹھ برداروں کی نمائش کرکے حکومت کے اوسان خطا کرنے کی اپنی سی کو شش کر چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل وزیر ستان میں خار کمر چیک پوسٹ پر مظاہرین کے احتجاج کے دورن گولی چلنے سے کئی سیکورٹی اہلکار او ر مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے ۔مظاہرین کے نمائندے آج تک اپنی جانب سے گولی چلنے کی تردید کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج کے جوان بھی گولی چلنے کی تردید کر چکے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مظاہرین کے اندر چھپے ہوئے کسی خفیہ ہاتھ نے یہ واردات ڈال دی تھی ۔ ہرپرامن احتجاج اور عوامی ہجوم کے اندر سے کوئی ناخوش گوار واقعہ اُبھرنے کے امکان کی طرح مولانا کا آزادی مارچ بھی اس خطرے سے خالی نہیں ۔ایسے میں جبکہ ان کے پیروکار پوری طرح لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں نکلنے کو تیار ہیں۔ حکومت نے مذاکرات کی ضرورت اور اہمیت کو اس وقت تسلیم کیا جب مولانا کے احتجاج میں دو ہفتے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے ۔ ایک اُڑتی ہوئی خبر یہ بھی ہے کہ عسکری ادارے بھی حکومت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر احتجاج سے نمٹنے کا کہہ چکی ہے ۔گویا کہ فیض آباد دھرنے کی طرح اس بار فوج کسی سیاسی تنازعے میں اُلجھنے اور سہولت کار بننے کیلئے تیا ر نہیں۔عدلیہ اور فوج کی طرف سے معاملے سے الگ تھلگ رہنے کے بعد حکومت کی سیاسی بصیرت اور انتظامی مہارت کا امتحان شروع ہو چکا ہے ۔مولانا کو بھڑاس نکالنے کا موقع بھی فراہم ہو اور خون خرابہ بھی نہ ہو اور حکومت بھی قائم رہے یہ تینوں بوجھ حکومت کے کندھے پر منتقل ہو چکے ہیں۔ایسے میں حکومت کو مذاکرات کی نیم دلانہ کوشش کی بجائے مذاکرات کی سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی ۔مولانا کو بھی یہ بات فراموش نہیں کر نی چاہئے کہ ان کے پاس دینی مدارس کے طلبہ کی سٹریٹ اور احتجاجی پاور شوکرنے اور اس فورس کی دہشت برقرار رکھنے کا یہ آخری موقع ہے ۔یہ بھرم ٹوٹ گیا تو ریاست اس فورس کے سٹریٹ پاور کے طور پر استعمال ہونے کے امکانات اور اسباب محدود بلکہ ختم کرنے کی تدابیر سوچنے پر مجبور ہو جائی گی۔ ریاست پھر ریاست ہی ہوتی ہے اسے ڈنگ نکالنے کے سو ڈھنگ آتے ہیں۔حکومت کے ساتھ ساتھ مولانا کا بھی یہ امتحان ہے کہ وہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں اور اپنی فور س کا بھرم اور رومانس بھی قائم رہنے دیں۔

متعلقہ خبریں