Daily Mashriq

مولانا کی سیاسی قلابازی

مولانا کی سیاسی قلابازی

سیاست میں کوئی بات حرف ِ آخر نہیں ہوتی ،کون کب کس سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرے گا اور کوئی سیاسی دشمنی دیرینہ نہیں ہوتی ۔سیاست میں مخالف کے ساتھ ساتھ حمایت کی کوئی وجہ ہونی بھی ضروری نہیں۔ ایک ہی وقت میں کسی ایک صوبہ میں اتحاد کرکے حکومت میں بیٹھ سکتے ہیں اور عین اسی وقت وفاق میں اختلاف کرتے رہنا بھی سیاست ہی ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال گزشتہ دنوں لاڑکانہ میں ضمنی الیکشن ہوئے اور جی ڈی اے کے امیدوار کی جیت میں نہ صرف برسراقتدار تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی بلکہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی جمعیت علماء اسلام ف بھی اسی ایک ہی امیدوار کی حمایت کررہے تھے ۔دوسری جانب وہی جمعیت علماء اسلام ف آزادی مارچ کے لئے بھی بھرپور انداز میں تیاریوں میں ہیں ڈنڈا بردار فورس نے باقاعدہ انہیں گارڈ آف آنر دیاجس کی دھوم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں بھی بھرپور ہورہی ہے۔ بظاہر ایوان اقتدار والے تو اس مارچ اور ریلی و دھرنا سے نہ ڈرنے کی یقین دہانی کروارہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ پختونخوا کی صوبائی حکومت مارچ والوں کو صوبہ سے ایک قدم بھی باہر نہ جانے دینے کی بات کرچکے ہیں چونکہ انکا آخری پڑائو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ڈی چوک ہے لہٰذہ چند وفاقی وزراء بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرچکے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نیازی نے اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اپنی جماعت کا اجلاس بلایا اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات کرکے انہیں منائیں تاہم مولانا صاحب نے مذاکرات سے پہلے ہی شرط رکھ دی ہے کہ دوبارہ الیکشن کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں مانیں گے۔تاہم ان سب سے بڑھ کر ہر حکومت میں ملنے والے بڑبولے وزیر شیخ رشید صاحب نے باقاعدہ پیشن گوئی کردی ہے کہ مذاکرات ہوجائیں گے اور مولانا فضل الرحمن مارچ ختم کردیں گے۔

مولانافضل الرحمن صاحب شب وروز مصروف ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے عہدیداروں سے مل رہے ہیں اور پرعزم ہیں کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ان کا ساتھ دینے کے لئے راضی ہیں اب وہ کب اور کیسے اس مارچ یا دھرنا کا حصہ بنیں گیں یہ بات طے ہونا باقی ہے اور اس بات کا کھل کر اور باقائدہ اعلان متعدد رہنماء کرچکے ہیں بلاول بھٹوزرداری اور خودآصف زرداری نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی کامیابی کی دعا بھی کی۔بظاہر یہ مارچ مہنگائی اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ہے لیکن اندرخانے سب جانتے ہیں کہ یہ اقتدار کی رسہ کشی ہے ۔ مولانا گزشتہ کئی دہائیوں تک حکومت میں براہ راست رہے یا کسی نہ کسی طور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں اب بھی وہ کسی طور موجودہ حکومت کے ساتھ حصہ دار بننے کے خواہش مندہیں اور ان کیلئے یہ قلابازی بھی کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ ماضی قریب میں جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں تھے تو لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ یہ اپوزیشن خود جنرل کی بی ٹیم ہے جو حکومت کا مزہ لیتے ہوئے بوقتِ ضرورت اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہے ۔وہ اپوزیشن جو کہ تہہ در تہہ لاجواب' بحیثیتِ اپوزیشن آپس میں بھی کسی ایک بات پر بھی متفق نہیںتھے ان دنوں مرحوم قاضی حسین احمد مسلسل تمام اسمبلیوں سے استعفے دینا چاہتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن صاحب اس کو دیوانے کا خواب قرار دیتے رہے کیونکہ اندر خانے حکومتی لیگ اور انکے مفادات ایک تھے ' حصولِ اقتدار۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انکی حکومت کم اپوزیشن جنرل پرویز مشرف کے ہی مرہونِ منت تھی اور جیسے ہی جنرل کو ناراض کیا اور انکے بنے بنائے سیٹ اپ کو اپ سیٹ کیا تو بھنچال تو آے گا ہی'طوفان بھی اٹھے گا نقصان ہو گا تو صرف اور صرف مولانا کا اورایم ایم اے کا ۔ جنرل تو جنرل ہے ہر حال میں اقتدار اس کو ہی ملے گا اور اس کے لیے اے اور بی ٹیم بنانا' حکومت یااپوزیشن بنانا کچھ دشوار نہیں۔

آج کی اپوزیشن پارٹیاں جیسے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھی ہیں ماضی میں بھی یہ اے آر ڈی کے نام سے ملتی رہیں۔ اے آر ڈی دراصل نام تھا سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے ٹو لے کا،اس اتحاد کا اصل مقصدیہ رہا کہ ایک پارٹی اقدار کھونے کے بعد اس پلیٹ فارم کا حصہ بن کر دوسری صاحب اقتدار پارٹی کی ٹانگیں کھینچنے میں لگ جاتی ۔ یہ پلیٹ فارم حکومت کے خلاف تحریکیں چلانے جلسے جلوس نکالنے کے لیے استعمال ہوتارہا ، اے آر ڈی اسی اور نوے کی دہائی میں مسلسل اس کوشش میں لگی رہی۔ پھر تمام جماعتیں جو جنرل پرویزمشرف کے نیم سیاسی اقتدار کے خلاف تھیںایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں اور متحدہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے جنرل مشرف'نظریہ ضرورت'ایل ایف او اور اسکی لے پالک مسلم لیگ کو گھر سدھار دیا۔مگر اپوزیشن کی ہر سیاسی پارٹی بلواسطہ یا بلاواسطہ' بظاہر یا چور دروازہ سے جنرل مشرف سے تعلقات اسطوار کرنے میں لگی رہی۔ اپوزیشن کے پاس اپنا کوئی واضح موقف یا ایجنڈا نہیں تھا۔ تب بھی کبھی وہ شیطانی کارٹونوںکی مخالفت کا سہارہ لے کر اور کبھی وکلا کے موقف کی حمایت کرنے کے بہانے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کر تی رہیں اور اگر دیکھا جائے تو آج بھی بالخصوص متحدہ اپوزیشن اور بالعموم مولانا فضل الرحمن کے پاس کوئی واضح موقف یا ایجنڈا نہیں کہ عوام کو سڑکوں پر لایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں