Daily Mashriq

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے

شاعری خداداد صلاحیت کا نام ہے، کسی شاعر کے لئے بہت زیادہ پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں۔ اللہ کی عطا ہے اس کافضل اور کرم ہے جو سایہ فگن رہتا ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

کے مصداق الہامی طور پر وارد ہوتے رہتے ہیں نت نئے مضامین شعرائے کرام کے ذہن و شعور میں اور اگر ان کو قدرت خدا وندی کے سبب طبع موزوں نصیب ہوئی ہو تو ان پر الہام ہونے والے مضامین شعر و سخن کے سانچے میں ڈھل کر امر ہوتے رہتے ہیں۔میں آج آپ کی ملاقات ایک ایسی ہی ایک شخصیت سے کروا رہا ہوں جو بظاہر اخون پنجو باباعلیہ رحمت کے دربار کے مجاور یا ملنگ ہیں ، لیکن اب تک ایک نہیں دو نہیں کم و بیش ایک درجن کتابوں کے مصنف بن چکے ہیں ۔ ضلع نوشہرہ کے تاریخی قصبہ اکبر پورہ کے رہائشی ہیں۔ پشتو ان کی مادری زبان ہے لیکن وہ اکبر پوروی لہجہ کی ہندکو بھی بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ ان سے ہماری پہلی ملاقات ریڈیو پاکستان پشاورمیں ہوئی تھی۔ اور پھر جب ان کو ایک آدھ مشاعرہ میں پشتو کلام پڑھتے دیکھا تو ہمیں تسلیم کرنا پڑا کہ وہ پشتو کے بے بدل شاعر ہیں۔ والدین نے ان کا نام حنیف گل رکھا لیکن دبستان اکبر پورہ نے ان کے نام کے ساتھ مستانہ کا لاحقہ لگا کر اس کے مست و الست ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ جب ہم ریڈیو پاکستان پشاور باقاعدگی سے آتے جاتے تھے تو گاہے بگاہے ان سے ملاقات ہوجاتی تھی اور وہ اپنی ملاقات کے دوران اتنا ضرور کہتے کہ ان کی نئی پشتو تصنیف آنے والی ہے ۔

بھول شاید بہت بڑی کرلی

دل نے دنیا سے دوستی کرلی

کے مصداق دنیا بھرکے دہندوں میں الجھ کر ان کی آنے والی نئی کتاب کی بات بھول جاتے ۔ آج سے چند ہی دن پہلے کی بات ہے وہ اپنے پشتو مجموعہ کلام پر مبنی گیارہویں تصنیف لیکر راقم السطور کے گھر تشریف لائے۔ انہوں نے آتے ہی کچھ پڑھ کر ہمارے مکان کی دیواروں پر پھونکیں ماریں ان کے اس عمل کو ہم درو دیوار پر دم کرنا بھی کہتے ہیں۔ میں بڑے ادب اور احترام سے ان کو گھر کے اندر لایا اور مہمانوں کے کمرے میں بٹھاکر ان کی خاطر مدارت کے متعلق سوچنے لگا۔ ایسے میں انہوں نے اپنے پشتو مجموعہ کلام پر مبنی کتاب 'جلال وجمال ' میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ میری گیارہویں کتاب ہے جب کہ بارہوں کتاب منقبت اور مناجات پر مبنی ہے جو اس وقت پریس میں زیر طبع ہے اور تیرہویں بھی اشاعت کے مرحلے طے کررہی ہے ۔ میں نے 'جلال و جمال ٰ' کے اوراق پلٹتے ہوئے حنیف مستانہ کو ان کی گیارہویں تصنیف کی دلی مبارک باد دی اور پھر دوسرے ہی لمحے ان کے اس آٹو گراف کو پڑھنے لگا جو ہر مصنف اپنی کتاب کسی کو تحفہ کرتے وقت لکھا کرتا ہے''دل کی گہرائیوں سے خلوص اور محبت کے ساتھ یہ اپنی گیارہویں کتاب جلال و جمال اپنے بزرگ اور ریڈیو اخبار جرنلیسٹ محترم جناب شین شوکت صاحب کو تحفہ پیش کر رہا ہوں ۔ حنیف گل مستانہ ، اکبر پورہ بقلم خود'' اپنے متعلق اتنی ساری کتابوں کے مصنف کی قلم سے لکھے جانے والے یہ رسمی سے الفاظ مجھے ایک بار پھر اظہار تشکر پر مائل کرنے لگے۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ زیر لب کچھ ورد کرنے میں مصروف ہیں، ان کی اس وجدانی کیفیت کو دیکھ کر مجھے وہ پشتو زبان کے صاحب زبان شاعر سے زیادہ ایک روحانی شخصیت کے مالک نظر آنے لگے۔ شہباز کیسا ہے؟۔ حنیف گل مستانہ نے میری دکھتی رگ پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا۔ شہباز ادھر آو۔ ان سے ملو۔ اللہ نے ان کو فرشتہ بنا کر ہمارے گھر بھیجا۔ میں نے اپنے منشیات زدہ شہباز کو بلایا۔ اس نے اس وقت'' آئس نامی ایک آدھ دن کی عارضی زندگی'' پھانک رکھی تھی۔ سو وہ اس وقت حشاش و بشاش لگ رہا تھا۔ وہ گھر کے ایک کمرے میں بنی ' حوالات' سے نکل کر حنیف گل مستانہ سے ملنے مہمانوں کے کمرے میں آگیا،۔ مستانہ نے شہباز کو بھینچ بھینچ کر گلے لگایا۔اور اوراد پڑھ پڑھ کر اس پر پھونکنے لگا، اس کے علاوہ وہ اس کے وجود کا مساج بھی کرتا رہا اور اپنے ہاتھ کی انگلی سے اس کے سینے اور ماتھے پہ کچھ لکھتا بھی رہا۔ شہناز میں نے شہباز کی امی کو آواز دی آؤدیکھو کون آیا ہے ہمارے گھر، یہ ابن عیسیٰ نہیں۔ مگر ہمارے درد کی دوا کرنے بھیجا گیا ہے ۔ میں نے ڈبڈبائی آنکھوں سے کبھی حمید گل مستانہ کی جانب اور کبھی اپنے ناخلف شہباز کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ میں درجن بھر کتابوں کا مصنف ہی نہیں، مخفی علوم بھی جانتا ہوں عامل بھی ہوں ، نفسیات اور حکمت کے رموز بھی جانتا ہوں۔ ایک دنیا میری معتقد اور مرید ہے ، میں شہباز کو راہ راست پر لانے کے لئے ایک نسخہ تیار کروں گا اور پڑھائی بھی کروں گا۔ انشاللہ آپ دیکھیں گے اس کی ساری بلائیں دور ہوجائیں گی۔ اس کتاب کی سر سری ورق گردانی کرتے وقت مجھ پر اس بات کا کشف ہوا کہ اس کا پیش لفظ ممتاز براڈ کاسٹر ، موسیقی شناس مصنف اور دانشو لائق زادہ لائق تمغہ امتیاز نے رقم کیا ہے جسے دیکھ کرکہتا رہ گیا کہ

کاغذ میں دب کے مرگئے کیڑے کتاب کے

دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہوگیا

متعلقہ خبریں