Daily Mashriq

ایف اے ٹی ایف کیا ہے

ایف اے ٹی ایف کیا ہے

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)نے پاکستان کے حوالے سے اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی یعنی پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے تو بچ گیا البتہ واچ لسٹ یا گرے لسٹ سے جان نہیں چھڑا سکا۔ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جون 2018 سے گرے لسٹ میں ہے۔ پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے۔ ایکشن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا۔ پاکستان نے اعلی سطح پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا ہے اور ایکشن پلان کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت میں پاکستان نے اس معاملے پر کچھ ٹھوس پیش رفت ضرور کی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف خیر مقدم کرتی ہے لیکن اب تک بیشتر نکات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کی فنانسنگ کے ممکنہ خطرات کا مناسب فہم رکھتا ہے اور پھر ان خطرات کے پیش نظر اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ/ ٹیرر فناسنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تدارکی اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان پر پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، اور یہ بھی کہ مالیاتی ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات میں ان اقدامات کی تعمیل کرتے ہیں۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے بااختیار ادارے پیسوں کی غیر قانونی منتقلی یا ویلیو ٹرانسفر سروسز کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی میں مصروف ہیں۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے ادارے کیش کوریئرز پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں اور نقد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہے ہیں ۔پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میںموثر، مناسب اور مزاحم پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر (جامع قانونی اصولوں کے ذریعے) اہدافی مالی پابندیوں پر موثر انداز میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات کو انتظامی اور ضابطہ فوجداری کے تحت قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے اور قانون کے اس نفاذ میں صوبائی اور وفاقی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد افراد اور ان کے سہولت کار جن سہولیات اور سروسز کے مالک ہیں یا پھر کنٹرول کرتے ہیں ان کے وسائل ضبط کرلیے گئے ہیں اور وسائل کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون (G-7) ملکوں نے 1989 میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ایف اے ٹی ایف کے اراکین کی تعداد 39 ہے جس میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف سے 8 علاقائی تنظیمیں بھی منسلک ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت180 ملکوں تک موجود ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔ امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد اکتوبر 2001 میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012 میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔ٹاسک فورس اپنے کھلے ایجنڈے پر خالصتا ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتی ہے، اسی لیے اس ٹاسک فورس میں مختلف ملکوں کے ماہرین برائے انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ شریک ہوتے ہیں۔ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کے لیے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990 تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996، 2001، 2003 اور 2012 میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

متعلقہ خبریں