Daily Mashriq

ملاوٹ کرنیوالے رعایت کے مستحق نہیں

ملاوٹ کرنیوالے رعایت کے مستحق نہیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے صوبے میں اشیائے خوردونوش سے ملاوٹ کے خاتمے اور خوراک سے جڑے کاروبار میں فوڈ اتھارٹی کو ملاوٹ کے خاتمے اور صفائی کو یقینی بنانے کی ہدایت احسن ضرور ہے تاہم اشیائے خوردونوش سے وابستہ افراد کو بھاری جرمانوں کی بجائے آگاہی مہم کے ذریعے قائل کرنے کی ہدایت سے اختلاف کی پوری گنجائش اس لئے موجود ہے کہ ہمارا معاشرہ لاتوں کے بھوتوں والا ہے جس میں نصیحت اور شعور وآگہی سننے والے کان اولاً ہیں ہی نہیں اور اگر ہیں تو بہرے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چارسدہ میں گڑ میں ہونے والی ملاوٹ کے خلاف ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی۔فوڈ اتھارٹی کو ڈرگ فوڈ لیبارٹری کی سہولت کی فراہمی کے بعد متعلقہ عملہ زیادہ سہولت اور آسانی سے اپنی خدمات انجام دے سکے گا گڑ صوبے کی ایک اہم پیداوار اور بہت حد تک ملاوٹ سے پاک پیداوار رہا ہے گڑ کا استعمال صوبہ بھر میںکافی سے زیادہ ہے اور یہ صوبے میں گنے کے کاشتکاروں اور زمینداروں کا معقول ذریعہ آمدن بھی ہے جس میں ملاوٹ نہ صرف ایک خوردنی چیز میں ملاوٹ ہے بلکہ اس سے صوبے میں گڑ کی پیداوار اور اس کے استعمال میں کمی لانے اور لوگوں کو اس کے استعمال سے بد دل کرنے کا بھی باعث بن رہا ہے تھا جس کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا جس کے بعد فوڈ اتھارٹی کے حکام زیادہ اعتماد کے ساتھ گڑ میں ملاوٹ کے خاتمے اور مارکیٹ میں ملاوٹ شدہ گڑ کی خریدوفروخت کی روک تھام کر سکیں گے۔ہمیں جہاں ایک طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے احسن اقدامات سے اتفاق ہے وہاں ان کی جانب سے خوراک میں ملاوٹ کرنے والوں اور ملاوٹی اشیاء فروخت کرنے والوںکو جرمانوں میں رعایت اور کمی لانے کی ہدایت سے قطعاً اتفاق نہیں ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ ہدایت جاری کی ہو کیونکہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کی پہنچ اور اثر ورسوخ کوئی پوشیدہ امر نہیں تاجروں کا دبائو اور سیاسی عوامل کا ہونا بھی بعید نہیں ہمارے معاشرے کا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم معاشرتی دبائو کے سامنے انفرادی واجتماعی دونوں طور پر مجبور ہوتے ہیں اور درگزر کی نصیحت وترغیب عام طور پر ملتی ہے جو ہمارے معاشرے کاایک خوش آئند پہلو ہے لیکن دوسری جانب اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کسی طور بھی مناسب طرز عمل نہیں خاص طور پر خوراک کی اشیاء میں ملاوٹ اور حفظان صحت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے کسی اوررعایت کے مستحق نہیں کیونکہ یہ لوگ براہ راست انسانی صحت اور حیات انسانی سے کھلواڑ کے مرتکب ہوتے ہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق خوراک کی اشیاء کی فروخت کا تو ہمارے ہاں تصور ہی نہیں خوراک کی اشیا کی تیاری سے لیکر ذخیرہ کرنے اور اختتام مدت پر خوراکی اشیاء کو تلف کرنے کی ملک میں ایک مثال کا بھی علم نہیں باسی اشیاء کی فروخت عام اورحفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی مثالیں قدم قدم پر ملتی ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ دودھ سے لیکر شہد اور ہر کھانے پینے کی چیز میں ملاوٹ اپنی جگہ مصنوعی تیار کردہ دودھ اورخوراکی اشیاء کی تجارت منافع بخش تصور ہوتی ہے ایسے معاشرے میں جرمانوں اور سزائوں میں کمی کی سفارش اور ہدایت ان عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع دینے کے مترادف ہوگا۔ توقع کی جانی چاہیے کہ فوڈ اتھارٹی کی مکمل حکومتی سرپرستی کی جائے گی اور خوراک میں ملاوٹ کرنے والوں سمیت حفظان صحت کا خیال نہ رکھنے والوں کے خلاف اس طرح سے کارروائی کی جائے گی کہ آئندہ وہ ایسا کرنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔

متعلقہ خبریں