Daily Mashriq

سرکاری افسران میرٹ پر فیصلے کریں

سرکاری افسران میرٹ پر فیصلے کریں

صوبے کے سرکاری افسران کو عدالت عالیہ پشاور کے چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے بعد کہ سرکاری افسران کسی وزیر اور مشیر کے احکامات کے پابند نہیں کسی دبائو اور مسئلے کی صورت میں ان سے رجوع کیا جائے صوبے کے افسران کو اعتماد دینے اور سرپرستی کاواضح اظہار ہے خود سرکاری افسران بھی اس سے لاعلم نہیں کہ وہ وزیروں اور مشیروں کے احکامات کے نہیں سرکاری امور طے کر دہ قوانین وضوابط کے تحت ادائیگی کے پابند ہیں لیکن عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے میں ان کی جانب سے تغافل وتساہل کا مظاہرہ کوئی راز کی بات نہیںسرکاری افسران اتنی جلدی دبائو میں آتے ہیں کہ ان سے بغیر کسی دبائو میں آئے سرکاری امور نمٹانے کی توقع ہی ختم ہوگئی ہے حالانکہ سرکاری افسران کو مکمل طور پر تحفظ حاصل ہے اور زیادہ سے زیادہ ان کو ایمانداری اور اصول پسندی کی قیمت تبادلے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی وہ بھی خلاف ضابطہ ہونے کی صورت میں عدالت سے مدد لی جاسکتی ہے۔صوبے میں اس کلچر کے خاتمے کیلئے سرکاری افسران کو اپنا عزم تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ضابطہ کام کی مزاحمت کریں گے ۔حکومت اور سیاسی عہدے مستقل نہیں تغیر پذیر ہیں جبکہ بیوروکریسی ایک مضبوط منظم اور مستقل وجود کا حامل ادارہ ہے جس کو قانونی تحفظ حاصل ہے مگر اس کے باوجود جو صورتحال ہے وہ احسن نہیں۔سرکاری افسران کو سرکاری خزانے سے تنخواہ ملتی ہے اور ان کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہے اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنے اختیارات کسی کے کہنے پر استعمال کریں گے اور جانبداری برتیں گے تو ایک نہ ایک دن انہی کو جوابدہی کا سامنا ہوگا اس دنیا میں نوبت نہ آئے تو اگلے جہاں میں بچنے کی کوئی صورت نہیںسرکاری ملازمین کو اپنے اختیارات کے استعمال میں احتیاط اور انصاف کے تقاضوں کا خیال رکھنا چاہئے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے ایسا تبھی ہوگاجب قواعد وضوابط کی مکمل پابندی کی جائے اور کسی دبائو میں نہ آیا جائے۔

ناجائز املا ک کے مالکان کیخلاف مئوثر کارروائی یقینی بنائی جائے

وفاقی حکومت کے فیصلے اور ہدایت کی روشنی میں خیبرپختونخوا میں بے نامی جائیداد رکھنے والے افراد کے حوالے سے ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ایک ماہ کے اندر مفصل رپورٹ کی تفویض کی ذمہ داری سے بے نامی جائیدادوں کا کس حد تک سراغ ملے گااور کتنی بے نامی جائیدادیں سامنے آئیں گی اس حوالے سے کوئی اندازہ نہیں البتہ اس امر کا امکان ضرور ہے کہ بہت سے پار سا بے نقاب ہوں گے اس ضمن میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے رپورٹ طلبی اور بعد میں کسی بے نامی جائیداد کا سراغ لگنے پر ان کے خلاف کارروائی کی شرط کڑی اور سخت ضرور ہے لیکن اس قدر سختی کے بغیر اس ٹارگٹ کا حصول بھی شاید ہی ممکن ہوتا۔اس ضمن میں بہرحال اتنی نرمی کی گنجائش ہونی چاہیئے کہ ملی بھگت اور دانستہ طور پر کسی بے نامی جائیداد کو ظاہر نہ کرنے پر محکمہ مال اور ڈپٹی کمشنر کو ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف کارروائی ہوتی بہرحال ہمارے تئیں یہ احسن اقدام ہے کہ متعلقہ اضلاع میں ریونیو اہلکاروں کے ہمراہ بے نامی جائیدادوں یا مشکوک جائیداد کی نشاندہی کریں اوراسی طرح صوبہ کے شہری ترقیاتی اتھارٹیز کے سربراہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی بے نامی جائیداد کی نشاندہی کریں ہمارے نمائندے کے مطابق بیشتر اضلاع میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کی تعائون سے بے نامی جائیداد کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کس کے نام کتنی جائیداد کب سے ہے اور ان جائیداد کو حاصل کرنے کیلئے ذرائع آمدن کیا تھے؟ کیا حاصل کی جانے والی جائیداد آمدن کے مطابق ہے یا آمدن سے زائد اثاثوں کے مالک بن گئے ہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر زاپنے ماتحت عملے کی پوری طرح نگرانی کر کے مفصل اور مکمل رپورٹ جمع کرائیں گے اور کسی رو رعایت کے بغیر بے نامی جائیدادیں بنانے والوں کے ناموں کو سامنے لایا جائے گا تاکہ ناجائز آمدنی سے املاک بنانے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکے ۔

وی سی کی تبدیلی کا احسن فیصلہ

گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان کا ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف کارروائی کی سفارش پر فوری اتفاق اور عملدرآمد سراہے جانے کا حامل اقدام ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بنوں یونیورسٹی آف سائنس وٹیکنالوجی کے وائس چانسلر کی رقص کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس کا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوانے سخت نوٹس لیا اور اس حوالے سے کارروائی کے لئے سفارشات گورنر خیبر پختونخواکو ارسال کیں۔گوکہ ساری صورتحال کا علم باقاعدہ انکوائری کی رپورٹ کے بعد ہی ہوگا لیکن بہرحال ویڈیو کا نوٹس لینے کی ضرورت اس لئے تھی کہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائزشخص سے اس طرح کی حرکت سرزد نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ معاشرے میں اساتذہ کرام کامقام ومرتبہ اورعزوشرف کوئی پوشیدہ امر نہیں رئیس الجامعہ کا عہدہ کلیدی اور باعث تکریم عہدہ ہے جس پر کسی ایسے شخص کی تقرری جو اخلاقی طور پر اعلیٰ درجے کا نہ ہو تعلیمی ادارے کے ماحول کیلئے بالکل بھی مناسب نہیں اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اساتذہ کرام کی بڑی تعداد کی نظریں نیچی ہونا فطری امر تھا بنوں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی بغیر کسی واقعے میں ملوث ہوئے خواہ مخواہ شرمساری کا احساس ہوا ہوگا جامعات میں قبل ازیں بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں یہاں تک کہ اساتذہ اپنے ہی طالب علموں کو ہراساں کرنے میں ملوث پائے گئے اس ساری صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات اور کالجوں میں اساتذہ کی خفیہ نگرانی اور ان کے افعال وکردار پر نظر رکھنے کیلئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے یہ درست ہے کہ اساتذہ کرام کی غالب ترین اکثریت قریب قریب سو فیصد کا کردار وعمل صاف شفاف اور والدین کا سا ہے اس قسم کا ایک آدھ واقعہ ان کے دامن پر بد نما داغ بنتا ہے اس لئے اساتذہ کرام خود اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں اور ان عناصر سے اپنی صفوں کو خود بھی پاک کرنے کی سعی کریں۔

متعلقہ خبریں