Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر، پاک سعودی قیادت ایک پیج پر

مسئلہ کشمیر، پاک سعودی قیادت ایک پیج پر

27ستمبر کو وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف بھرپورآواز اٹھائیں گے ، وزیراعظم عمران خان جنرل اسمبلی میں خطاب سے پہلے بہترین سفارت کاری کے ذریعہ دنیا کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ جنرل اسمبلی میں ان ممالک کی حمایت سے بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جائے اس مقصد کیلئے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزاد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اس دورہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز بھی ملاقات میں موجود تھے۔وزیراعظم نے ملاقات میں سعودی آئل تنصیبات پر حملے کی مذمت بھی کی، وزیراعظم کے دورے میں پاک سعودی اقتصادی تعلقات مزید مضبوط کرنے پر بھی بات ہوئی۔وزیر اعظم عمران خان سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کیلئے جانے سے پہلے سعودی قیادت کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا، ہمیں مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں اجاگر کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاک سعودی تعلقات نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے، کشمیر میں ہمارے بھائی مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں، کشمیر بین الاقوامی ایشو بن گیا ہے، پوری دنیا کشمیر معاملے پر ہمارے بیانیے کو مان گئی ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ بھی سعودی عرب میں موجود ہیں۔

اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حوثیوں نے یمن سے داغے ہیں تو اس سے امریکہ کے جدید ترین پیٹریاٹ دفاعی نظام پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں کہ یمن سے اڑان بھرنے والے10 ڈرونز نے سعودی حدود میں پانچ سو میل دور جاکر اپنے اہداف کو نشانہ بنایا اور اڑتی چڑیا کی شناخت کا دعویٰ کرنے والے پیٹریاٹ کو اس کی خبر تک نہ ہوسکی جبکہ یہ کوئی پہلا حملہ نہ تھا۔ اس سے پہلے بھی اس قسم کے ڈرون آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں اور تازہ حملہ کسی بھی اعتبار سے غیر متوقع نہیں تھا۔

سعودیوں نے پیٹریاٹ کی تنصیب پر5ارب 40کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں تاہم اس عطار سے دوا لینے والوں کی کمی نہیں۔امریکیوں کا اصرار ہے کہ حملہ ایرانیوں نے کیا ہے۔ امریکی وزیر خاجہ مائیک پومپیو کا خیال ہے کہ اس حملے میں ڈرون کے علاوہ ایرانی کروز میزائل بھی استعمال ہوئے ہیں۔ سیاروں کی مدد سے حاصل کی جانے والی تصویروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتہائی مہارت سے تنصیبات کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ہے اور دس میں سے ایک بھی ڈرون کا نشانہ خطا نہیں ہوا۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ جزیات کی ایسی موزونیت اور کمال کی درستی حوثیوں کے بس کی بات نہیں ہے لیکن ابھی تک سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں ایران حملہ آور ثابت ہوگیا تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا،تاہم اس واقعے سے سب سے زیادہ امریکہ کو فائدہ پہنچا ہے کیونکہ اس کی تیل کی صنعت نے دنیا میں پہلا مقام حاصل کرلیاہے، تیل کے حوالے سے چین اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہوگیا ہے کہ بیجنگ کی صنعت درآمدی تیل کے رحم و کرم پر ہے گویا چین سے تجارتی جنگ میں امریکہ کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے خلیجی حلیف بھی بے حد پریشان ہیں۔لیکن یہ امر اطمینان بخش ہے کہ سعودی عرب سمیت عالمی برادری نے اس نازک موقع پر آنکھیں بند کرکے امریکہ کی تائید کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کے بجائے معقولیت کا رویہ اختیار کیا ہے، ورنہ ماضی گواہ ہے کہ اسی طرح کی فضا پیدا کرکے کس طرح عراق اور کویت میں جنگ کرائی گئی، پھر گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد فوری طور پر اسامہ بن لادن اور طالبان کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کو ساتھ لے کر افغانستان پر یلغار کردی گئی، اس طرح عراق پر حملے کے لیے زہریلی گیس کے استعمال کا بہانہ تراشا گیا۔ حالانکہ یہ تمام الزامات آج تک ثابت نہیں کیے جا سکے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی ذمہ داریوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد سے بروقت رابطہ کیا ہے۔ انہیں دیگر مسلم ممالک کے قائدین سے بھی رابطہ کرکے مؤثر سفارت کاری کے ذریعے فریقین کے جذبات ٹھنڈے کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اور جس طرح بھی ممکن ہو خطے کو جنگ کی آگ سے بچانے اور امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات روبہ عمل لائے جانے چاہئیں، کیونکہ جنگ اسلحہ فروشوں کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور شام وغیرہ میں ہونے والی تباہی سے سبق حاصل کیا جانا چاہیے، اور اس تباہی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فریقین کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے پر متوجہ کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں