Daily Mashriq

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونا کوئی ریڈیو پاکستان سے سیکھے۔ ہر چند کہ خود میں نے اس ادارے کو اپنی جوانی کے لگ بھگ 31برس دئیے اور اس ادارے سے بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ اچھے برے حالات سے اس ادارے کو بار ہا گزرتے دیکھا اور یہ جو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کی بات میں نے کی ہے تو اس سے سرکار کی سیاسی حمایت مقصود نہیں ہے کہ اس ادارے کا خمیر ہی سیاسی وفاداری سے گوندھا گیا ہے جس میں کسی زمانے میں چاپلوسی کی تمام حدود پار کرنا بھی ہوتا تھا۔ اب اگرچہ گزشتہ چند سالوں سے ذرائع ابلاغ کا ایک ’’ طوفان‘‘ آیا ہوا ہے اور نہ صرف ٹی وی چینلز کی بھرمار ہو چکی ہے بلکہ ایف ایم ریڈیو نے بھی تازہ ہوا کاجھونکا بن کر اذہان کو متاثر کرنا شروع کر رکھا ہے اوپر سے ملک میں حزب اختلاف کے گاہے بہ گاہے دونوں سرکاری اداروں کو آڑے ہاتھوں لینے کی وجہ سے اب صرف خبروں اور تبصروں میں سرکاری موقف ہی اجاگر نہیں کیا جاتا بلکہ مخالف نقطہ نظر کو بھی کسی نہ کسی حد تک اہمیت دی جاتی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ان اداروں کی ساکھ دائو پر لگ سکتی ہے کیونکہ یہ جو درجنوں ٹی وی چینلز دن رات یا آج کے دور کے الفاظ 7/24 کے تحت حقائق منظر عام پر لاتے رہتے ہیں ان کی وجہ سے بھی سرکاری اداروں کو اب قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی مجبوری لاحق ہے۔ اس لئے اس سے قطع نظر جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ ان سرکاری اداروں کے حوالے سے جو دن رات سرکار کے لئے ریو نیو اکٹھا کرتے ہیں یعنی ٹیکس کی وصولی کے لئے مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں اور جن کے سرخیل ایف بی آر اور بنکوں کا نظام ہے‘ ریڈیو پاکستان کی اس واردات کا ذکر کرنا ہے جو چھوٹے چھوٹے پروگراموں سے وابستہ فنکاروں‘ قلم کاروں یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں مگر ان کے معاوضوں سے ’’ زور زبردستی‘‘ کچھ رقم منہا کرکے نہ جانے کس کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے یہ تو بالکل وہی صورتحال ہے جیسا کہ ظفر اقبال نے اپنے شعر میں بیان کی ہے کہ

کاغذ کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات

نکلی برون شہر تو بارش نے آلیا

ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کی فیسیں پہلے ہی کونسی قابل رشک تھیں یا ہیں کہ اوپر سے پروگراموں میں کام کرنے والوں سے ’’ زور زبردستی‘‘ کٹوتی بھی کرلی جاتی ہے۔ اس کا تلخ تجربہ اس وقت ہوا جب ایک طویل عرصے کے بعد پشاور کے چند سینئر شعراء کو ایک مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہ جو طویل عرصے کی بات میں نے کی ہے تو اس کی حقیقت بھی جان لیجئے کہ چند سال پہلے ریڈیو ہی کے کسی بزر جمہر نے یہ حکم جاری کیا کہ جو لوگ 60سال سے اوپر جا چکے ہیں انہیں پروگراموں میں شرکت کی دعوت نہ دی جائے۔ یوں پشتو کے اس مقولے کو درست ثابت کیا گیا کہ ’’ چہ د شپیتو شی نو د ویشتو شی‘‘ یعنی جو ساٹھ سال کا ہو جائے وہ قابل گردن زدنی ہو جاتا ہے اسے بس گولی مار دی جائے۔ اس حوالے سے یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ ریڈیو تو ایک ایسا ادارہ ہے جہاں تجربے کی بناء پر ٹیلنٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔ پرانی آوازوں کو گولڈن وائسز قرار دیا جاتا ہے اور آج بھی ریڈیو کے آرکائیو میں جو پرانے پروگرام موجود ہیں خود ریڈیو نے انہیں ’’ آواز خزانہ‘‘ قرار دے کر محفوظ کیا ہے۔ تو ہمیں ساٹھا باٹھا قرار دے کر ہم جیسے تمام پرانے لوگوں پر ریڈیو کے دروازے بند کردئیے گئے تھے۔ خدا جانے کس شریف آدمی کو عقل آئی اور اس نے یہ فیصلہ واپس کروایا جس کی وجہ سے یوم آزادی کے حوالے سے سینئر شعراء کو ایک بار پھر مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی گئی مگر جب لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد مشاعرے کا چیک ملا تو وہ پشاور کے کسی بنک کی بجائے سٹیٹ بنک اور نیشنل بنک اسلام آباد کا تھا۔ یوں ہم لوگوں کے مبلغ پندرہ سو روپے معاوضے میں سے 345 روپے بنک کمیشن کے کاٹ دئیے گئے‘ کس کھاتے میں؟ اور ریڈیو پاکستان نے سابقہ طریقے کے مطابق پشاور ہی کے کسی بنک کے چیک کیوں جاری نہیں کئے؟ یہ ایک نیا معمہ ہے بالکہ اسی 60سالہ ٹیلنٹ پر ریڈیو کے دروازے بند کرنے کی طرح جسے اب واپس لے لیاگیا ہے اور یہ فیصلہ کس ’’لال بجھکڑ‘‘ نے کیا کہ ٹیلنٹ کے لئے مقامی طور پر کسی بنک کے چیکس( حسب سابق و روایت) جاری کرنے کی بجائے پورے پاکستان کے سٹیشنوں میں کام کرنے والے فنکاروں‘ قلم کاروں وغیرہ کو اب اسلام آباد کے چیک جاری کئے جاتے ہیں جن سے ہرچیک کے عوض تین سو سے چار سو تک بنک کمیشن کاٹ کر ہر ماہ لاکھوں روپے بنکوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ذمہ دار فرد نے بتایا کہ بچوں کے پروگرام کی فیس مبلغ 5سو روپے بنتی ہے ان بچوں سے بھی بنک 3سو روپے کٹوتی کرکے صرف دو سو روپے ان کے ہاتھ پہ رکھتا ہے جو بچوں کے ساتھ تو ویسے ہی زیادتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ’’ احمقانہ اور ظالمانہ‘‘ فیصلہ کس نے کیا کہ پروگراموں میں کام کرنے والے قلیل معاوضہ وصول کرنے والوں کو ’’ بنکوں‘‘ کی اس لوٹ کھسوٹ کا راستہ دریافت کیا؟ اور ہر ریڈیو سٹیشن پر مقامی طور پر موجود بنکوں کی بجائے اسلام آباد سے چیک جاری کرنے پر حاصل ہونے والی کمیشن کافائدہ بنکوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی زیادتی ہے اور اس ناجائز کٹوتی کو بند ہونا چاہئے

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا‘ یا ہاتھ قلم رکھنا

متعلقہ خبریں