Daily Mashriq

ایک ماں کی فریاد

ایک ماں کی فریاد

نوحے لکھوں،کتنی بار فریادکروں،کب تک سینہ پیٹوں ،کب تک گود کو خالی دیکھوں کچھ سمجھ نہیں آتا،ہر روز میری جیسی مائوں کی کوکھ سے ان کا بچہ نوچ لیا جاتا ہے۔درندے اسے بھنبھوڑ کر کسی سنسان گلی میں،کسی کچرے کے ڈھیر پر کسی اداس اندھیرے کونے میں ڈال جاتے ہیں،کوئی بچہ گھر کے باہر سے اٹھالیا جائے تو کبھی زندہ واپس نہیں آتا،کوئی ماں اس ڈر سے اپنی گود نہ کھولے کہ شام کے سایوں میں تو کیا ،دن کی روشنی میں درندے چھپے ہوئے ہیں ،کسی سائے کی ضرورت نہیں ،کسی اوٹ کی بھی ضرورت نہیں یہ دن دیہاڑے ہمارے دل نوچ لیتے ہیں۔ان کے چہروں کی خباثت بھی ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔یہ بہت چلاک ہیں یہ مائیں اندھی ہیں۔قصور میں زینب کی ماں اندھی تھی،خیبرپختونخوا میں فرشتہ کی ماں اندھی تھی۔اوکاڑہ میں مائیں اندھی تھیں،لاہور میں مائیں اندھی ہیں اس پورے ملک میں جانے کیوں مائوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئی ہیں کہ درندے انہیں اپنی گود کی جانب لپکتے دکھائی ہی نہیں دیتے اور اگر مائیں اندھی نہیں ہیں تو اتنی بے بس کیسے ہیں۔میں ماں ہوں ،میں ان کے دل کا درد سمجھ سکتی ہوں۔ میاں چنوں میں ایک دن میں چار مائیں ہوک بن گئیں۔ہر ایک شہر کے خاموش کونوں میں مائیں سسک رہی ہیں اور اس ظلم کے لیے کوئی نام ،کوئی شہر کوئی عمر مختص نہیں۔وہ معصوم بچوں کی ہاتھوں کی انگلیوں پر گنی جانے والی عمر نہیں دیکھتے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس بچے کو تو ابھی پوری طرح بولنا نہیں آیا۔وہ اسکی ننھی کلائیوں کا حجم نہیں دیکھتے وہ اس بچے کے منحنی جسم میں ننھی سانسیں نہیں دیکھتے وہ نوچتے ہیں کھسوٹتے ہیں اور خون پی جاتے ہیںاور ہمارے بچوں کے بے بس بے جان لاشے ہمارے شہروں کی گلیوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔مائوں کی کوکھ روز چیخیں مارتی ہے۔وحشت سے بال بکھرائے ،مامتا اس ملک میں اپنے ہی وجود سے گھبرائے گھومتی ہے۔کون جانے کس جانب سے کونسا درندہ کس بھیس میں ہو،وہ جو میری نظروں کے سامنے،میرے اپنے ہی آنگن میں میرے ہی بچوں کے ساتھ کھیلتا ہو،جیسے میں نے خود اپنے ہاتھ سے ٹھنڈے پانی پلایا ہو۔کبھی اسے اپنے سامنے بٹھا کر اپنے بچوں کے ساتھ ہی کھانا کھلایا ہو،اسی درندے کو کبھی لمبی عمر کی دُعا دی ہو۔کبھی اپنی مامتا سے مجبور ہو کر اس کے لئے راستہ صاف کیا ہو،اسی درندے نے کب میرے ہی بچے کی شہ رگ میں دانب چھبونے کا ارادہ کیا اور میرے بچے کے ساتھ میری معصومیت پر بھی ہنستارہا ہو۔

یہ کب تک ہوگا،اس ظلم کی انتہا کا بھی تو کوئی اندازہ ہونا چاہیئے۔میں کسی سے انصاف نہیں مانگتی کیونکہ اب تو مجھے اس مجبور معاشرے سے انصاف کی کوئی امید بھی نہیں۔زینب کے لئے جب ہم انصاف مانگنے نکلے تھے،سوچا تھا کہ علی عمران کی پھانسی کو دنیا دیکھے گی ،درندے سہم جائینگے زینب کے بے بس جسم کی تصویر یں سب نے دیکھیں،علی عمران کے خبیث جسم کو پھانسی سے جھولتا کسی نے نہ دیکھا ،کسی کو نہ پتا چلا کہ علی عمران نے اس کال کوٹھٹری میں کوئی خوف محسوس کیا۔ کیا اسے کبھی کسی پچھتاوے نے تنگ کیا۔کیا کبھی اسے زینب کی چیخیں یاد آئیں ،کبھی اس نے پھانسی کے خوف سے ویسے ہی بے بسی محسوس کی جو اس ننھی زینب نے گھٹ گھٹ کر مرتے ہوئے محسوس کی تھی۔ایک کے بعد ایک علی عمران پیدا ہورہے ہیںکیونکہ زینب کی حفاظت کے لئے ہم کچھ بھی نہیں کرتے ۔ہمیں زینب کومحفوظ رکھنا ہی نہیں ہے۔ہمیں زینب کی یاد نہیں ستاتی ہم اپنے بچوں کے خود قاتل ہیں۔ہم ایک کے بعدایک اپنے بچے درندوں کے سامنے خود لا کر پھینکتے ہیں کیونکہ کوئی نوحہ پڑھتی ماں ،کسی حکمران کے سامنے آکر کھڑی نہیں ہوتی کہ میرے بچے کے قاتل کو سرعام سزا نہیں دینی تو پھر اسے آزادکردو،کوئی مجبور مظلوم ماں کسی حکمران کو یہ بدُعا نہیں دیتی کہ میری گود اجڑ جانے کا اگر تم بدلہ نہیں لے سکتے تو پھر یہ ظلم تمہارے سامنے آکھڑا ہو،ہم غریب ہیں اس لیئے ہمارے بچوں کی موت کو بین الاقوامی ایجنسیوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھا یا جانا آسان ہے۔کہیں کوئی انسانی حقوق کی تنظیم یہ اعتراض نہ کرے کہ سرعام پھانسی دی جانی چاہیئے تھی۔اس حکومت نے تو تبدیلی کے وعدے کیئے تھے ،ریاست مدینہ کا پرتو بنانے کے دعوے کیے تھے تو پھر قاتلوں کو چوراہوں میں پھانسی دیں تاکہ لوگوں کے دلوں کو اطمینان ہو اور درندوں کے دلوں میں ہیبت ہو۔لیکن کوئی ہماری مدد نہیں کرتا۔میرے دل کی ہوک میرا مالک ہی سُنے گا۔میرے بچے کی تکلیف کا بدلہ کوئی نہ لے گاتو پھر میرا مالک ہی کوئی سبب کرے گا۔کب تک میرے بچے غیر محفوظ رہینگے۔کب تک میری کو کھ سے خوں رستارہے گا۔

متعلقہ خبریں