Daily Mashriq

دوباتیں

دوباتیں

بڑی گرما گرم صورتحال ہے۔وفاقی کا بینہ نے میڈیا ٹریبونلز بنانے کی تجویز پر رضا مندی ظاہر کی توبریفنگ کے دوران محترمہ فردوس عاشق اعوان نے فیوض وبرکات سے آگاہ کیا اب کہا جارہا ہے کہ میڈیا ٹریبونلز پر مشاورت کریں گے۔صحافیوں کو قائمہ کمیٹی میں شرکت کی دعوت دیں گے ادھر سی پی این ای،اے پی این ایس اور کارکن صحافیوں کی تنظیموں نے میڈیا ٹربیونلز کو قلعی طور پر مستردکردیا ہے۔بہت ادب سے کہوں میڈیا ٹریبونلز کا چائلڈ بے بی نعیم الحق کے ذرخیزذہن کی پیداوار ہے۔وفاقی کابینہ میں یہ تجویز پیش کیئے جانے سے قبل نعیم الحق ،افتخار درانی اور محترمہ فردوس عاشق اعوان کے درمیان مشاورت کی تین نشستیں ہوئیں۔ معاونت کے لیئے دو پیدائشی تجزیہ کار موجود تھے۔سوال یہ ہے کہ آخر آزادی صحافت کی’’علمبردار‘‘ تحریک انصاف کو میڈیا ٹریبونلز کی فروخت کیوں آن پڑی؟۔ تحریک انصاف کا خیال ہے کہ کرہ ارض کے جس حصہ پر پاکستان قائم ہے اس حصہ میں ما سوائے تحریک انصاف کے حامیوں کے باقی سارے چور کولر پٹ،بردہ فروش،بھارت نواز بستے ہیں اور یہی لوگ انقلابی تبدیلیوں کے ثمرات سے عوام کو محروم کر رہے ہیں۔ان کے خیال میں میڈیا کا ایک حصہ ان کے مخالفین سے ملا ہوا ہے اس لئے وہ چند رپورٹس خبروں کالموں اور تجزئیوں میں بیان ہو جاتی ہیں جو وفاقی وصوبائی حکومتوں کی اعلیٰ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر انہیں مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے ۔کڑوا سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور حکومتی زعما چاہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ حزب اختلاف کو چنداں اہمیت نہ دیں اور حکومت بارے ایسی خبروں ،تجزئیوں اور تحریروں سے بھی گریز کریں جس سے عوام میں ساکھ خراب ہوتی ہو۔مثال کے طور پر مہنگائی کے حوالے سے شائع ہونے والی روزمرہ کی خبروں کو بھی سازش کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔اخبارات سے تجاوز امن وامان اور صحت عامہ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں پر بھی محکمہ اطلاعات کے ذمہ داروں کی معرفت برہمی ظاہر کی گئی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے بعض سوالات پر کہا گیا کہ یہ الزام تراشی ہمارے مخالفین کے کہنے پر کی جارہی ہے۔سادہ سی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ داران آزاد میڈیا سے ماضی کے ایف پی ٹی والے اخبارات وجرائد کا کردار چاہتے ہیں۔سب اچھا کی صدائیں ہوں اور’’مرزا‘‘ یار آزادی سے گھومتا رہے۔سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کا نعرہ مارنے والوں میں برداشت کی کمی ہے؟۔جی بالکل ہے وہ جو کل تک اپنے وقت کی حکومتوں کے کپڑے ٹی وی چینلوں پر اتار نے کو آزادی صحافت سمجھتے تھے آج معمولی سی تنقید کو بھی سازش سمجھتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ نعیم الحق اتنے اہم ہوگئے کہ وہ دو پسندیدہ صحافیوں کے ساتھ ملکر میڈیا ٹریبونلز کے لئے لابنگ کرتے رہے اور محترمہ فردوس عاشق اعوان وافتخار درانی نے بھی رضا مندی ظاہر کردی ۔اس پر ستم یہ ہے کہ تاثر یہ دیا گیا کہ یہ سب خان صاحب(عمران خان) کے حکم اور مشاورت سے ہوچکا ہے بہر طور قلم مزدوروں کی مختلف الخیال تنظیموں کے ساتھ مالکان کی دونوں بڑی تنظیموں نے اس تجویز کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اسے آزادی صحافت پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔سو اب یہ کہا گیا کہ حکومت اور وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا اور صحافی جمہوریت کے لئے رہنمائی کررہے ہیں۔یہ عرض کر دینا از بس ضروری ہے کہ چند میڈیا منیجرز اور ذاتی وفاداروں کے علاوہ قلم مزدوروں کی اکثریت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اہل صحافت نے آزادی صحافت کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حکومت سمجھتی ہے کہ کہیں کچھ غلط ہورہاہو تو وفاقی مشیر اطلاعات صحافیوں سے مشاورتی اجلاس منعقد کرالیں البتہ یہ مشاورت پسندیدہ مخلوق کی بجائے قلم مزدوروں سے ہوتاکہ دونوں اپنا اپنا موقف سامنے رکھ کر اس پر بات کر سکیں ۔کیا ہم یہ امید کریں کہ پی ٹی آئی کی حکومت آزادی صحافت پر شب خون مارنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی؟۔وزیراعظم ان دنوں سعودی عرب کے دو روزہ دورہ پر ہیں بلاشبہ اسلامی دنیا سے بہتر تعلقات کار پاکستان کے لئے اہمیت کے حامل ہیں لیکن خلیج کی موجودہ صورتحال امریکی الزامات کی ون وے ٹریفک سے پیدا شدہ مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان خلیج میں جنم لینے والے کسی بھی تنازع میں فریق نہ بنے۔مسلم دنیا کے وسائل کو بردباد کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پچھلی چند دہائیوں میں جو گھنائونا کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں،اب بھی امریکہ مسلم دنیا کے باہمی اختلافات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں پر جوش ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کا امریکی کیمپ میں کسی بھی طور شامل ہونا یا خلیج میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کسی بھی طور دانائی پر مبنی فیصلہ نہیں ہوگا کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ابھی پچھلے ہفتے ہی دو اہم خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ ہمیں یہ سمجھا کر گئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر امت مسلمہ کا نہیں بلکہ دو ملکوں پاکستان اور بھارت کا تنازعہ ہے اس تنازعہ کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر توجہ دی جائے۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس مرحلہ پر ہمیں اپنے معروضی حالات مسائل اور دیگر امور کو بطور خاص مد نظر رکھنا ہوگا خلیج کے تنازع میں دامن بچا کر رکھنا ہی دانشمندی کہلائے گا ۔ثانیاًیہ کہ خلیج کا تنازع بنیادی طور پر یمنی بحران سے منسلک ہے یمن میں جو ہورہا ہے وہ کسی بھی طور درست نہیں۔یمنی بحران کے آغاز سے ہی ان سطور میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ بحران خلیج میں ایک نئی اور ایسی جنگ کا دروازہ کھولنے کا موجب بنے گا جس میں ایک فریق کی قیادت امریکہ کر رہا ہوگا مکررعرض ہے ہم اگر اس بحران کے خاتمے اور کسی ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو بسم اللہ مسلمان اور انسان کے طور پر اپنا فرض ادا کریں مگر فریق بننے سے بہر صورت گریز کرنا ہوگا۔