Daily Mashriq

جی چاہتا ہے سچ بولیں

جی چاہتا ہے سچ بولیں

نے انگڑائی لی تو گمان ہونے لگا کہ ہم سرد موسموں کے مزے لوٹنے والے ہیں۔ مگر کسی کی بات کہ موسم تو نام ہی بدلتی رتوں کا ہے۔ ہم نے جون جولائی کے مہینے میں بھی ایسے شب و روز گزارے ہیں کہ ہمیں ان پر جاڑوں کا گمان ہونے لگا۔ موسم میں بدلاوے آتے رہتے ہیں بعض بدلاوے عارضی ثابت ہوتے ہیں اور بعض آکر جانے کا نام نہیں لیتے اسی لئے موسموں کی اس ادا سے واقفیت رکھنے والے اکثر دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ کرے کسی کا سنگی ساتھی سجن بیلی بدلتے موسموں کی طرح ثابت نہ ہو۔ 

نہ دوستوں کی طرح نہ دشمنوں کی طرح

بدلتے رہتے ہو تم موسموں کی طرح

گرمیوں کے موسم میں ہمیں ٹھنڈا ٹھار رہنے کی طلب ہوتی ہے جب کہ یخ بستہ موسموں میں ہم اپنے وجود کو گرم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔گرمیوں کا موسم گزرتے ہی ، ہم جہاں بکسوں میں بند سر دیوں کے پہناوے نکال کر زیب تن کرنے لگتے ہیں وہاں ہمارے من بھاتا کھاجوں کی مینیو بھی بدل جاتی ہے۔ سردیوں کی نمکین ڈشوں میں پائے بہت پسند کئے جاتے ہیں جب کہ سویٹ ڈشوں میں حلوے اور حلوے کی بہت سی قسموں کا جواب نہیں ملتا۔ کہتے ہیں حلوہ بنانا اور اسے نوش جان کرنا بھی بڑا آسان ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر وہ کام جو ’قدرے مشکل ہو اس کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے یہ کوئی حلوہ تو نہیں ‘ اگر سچ پوچھئے تو سردیوں کے موسم میں ہمارے بازاروں میں خشک میوہ جات بھی با افراط آجاتے جو بڑے شوق سے اور بہت زیادہ کھائے جاتے ہیں۔ پستہ بادام اخروٹ کشمش اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جن میں صحت و تندرستی کے بے شمار راز چھپے ملتے ہیں۔ کسی زمانے میں چلغوزہ سر دیوں کا مقبول ترین چٹخارہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج کل یہ اسم با مسمہ بن گیا ہے آپ پوچھیں گے وہ کیسے تو ہم آپ پر اپنی علمیت کا رعب ڈالتے ہوئے اپنے گنبد ذہن کی ڈکشنری کھول کر آپ کو بتانے لگیں گے کہ چلغوزہ کا لفظ ’چل گو زہ‘ جیسے ہم معنی لفظوں کا مرکب ہے جو چلگوزہ سے بگڑ کر چلغوزہ بن گیا۔ چل اردو اور اس قبیل کی دیگر زبانوں کا یک لفظ بھی ہے اور حکمیہ جملہ بھی جس کا مطلب ہے ’روانہ ہوجا یا چلا جا‘۔ گو انگریزی زبان سے مستعار اورر اس کے بھی وہی معنی ہیں جو اردو کے لفظ چل کے بیان کئے جاچکے ہیں جب کہ چلغوزہ کے تیسرے جز یعنی ’زا‘ کو پشتو زبان سے مستعار لیا گیا ہے جس کے وہی معنی ہیں جو چل اور گو کے بتائے جاچکے ہیں۔ اصل میں آج کل چلغو زہ سچ مچ چل گوزہ ہوگیا، یعنی یہ ایسا گیا کہ بس گیا ہی گیا ہوچکا ہے۔ یعنی جنس نایاب بن چکا ہے اور سردیوں کے اس من بھاتے کھا جے کی جگہ مونگ پھلی نے لے لی ہے جو اس موسم میں ٹنوں کی مقدار میں آکر ہر کس و ناکس کی تواضع اپنی منی سی جان اور دل سے کر نے لگتی ہے۔ بات موسم کی انگڑائی سے چل کر سردیوں کے موسم کے من بھاتے کھاجوں جاپہنچی اور ہم یہ بات سرے سے بھول ہی گئے کہ بدلتے موسموں کے حوالہ سے ہم نے آج کی اس چٹخارے دار گفتگو کا آغاز کیوں کیا۔ اصل میں ہم یہ بات جس تناظر میں کر رہے ہیں اس کا جواز پشاور شہر کے مشہور عالم اور ٹھنڈے ٹھار فالودے کی اس پیالے سے جا ملتا ہے۔ جس کے متعلق بتایا گیا ہے کہ پشاوری ایک مہینہ میں دو کروڑ روپے کا فالوودہ چٹ کر جاتے ہیں۔ اللہ نصیب کرے اہلیان پشاور کو چلچلاتی دھوپ کے موسم کی یہ ٹھنڈی ٹھار ڈش جس میں کھوئے ملائی والی قلفی نشاستے کی سویاں اور چینی کا قمام یا شیرہ ڈال کر گاہک کو اس کا پیالہ پیش کیا جاتا ہے جس کے بدلے میں ان کی جیب سے مبلغ اسی روپے ضرب پاکستانی وصول کرکے مہینہ بھر میں دو کروڑ روپے بٹور لئے جاتے ہیں جس کا کسی کو کانوں کان علم تک نہیں ہوپاتا۔ پشاوری فالودہ کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ آج کل پشاور ہی میں نہیں پشاور سے باہر دیگر صوبوں میں بھی پشاوری آئس کریم کا سائن بورڈ لگائے مختلف سٹال والے آئس کریم کی اک خاص قسم سے گرمی مارے لوگوں کی تواضع کرتے رہتے ہیں۔ اس آئس کریم کے ساتھ پشاوری کا سابقہ یا اس کا لاحقہ اس بات کا اعلان کرتا نظر آتا ہے کہ پشاور والے گرمیوں کے موسم کی برفیلی ڈشوںکے دلدادہ ہی نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ایسی شہرت جو پشاور کے چپل کباب اور پشاوری قہوے کی شہرت کے نیچے دب کر بھی اپنا مقام نہ کھوسکی۔ گھنٹہ گھر پشاور کے مسی چاٹی اور قلعی دار بادیوں میں تخم ملنگا ملے شربت صندل والے کی’’ آلالے ٹھنڈا ‘‘کی آواز آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھولتی سنائی دیتی ہے جسے یاد کرتے ہیں ہمارے دل میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے ۔ ہمیں وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہیں جب لوگ گھڑونجی کے اوپر رکھے کورے گھڑوں میں پانی بھر کررکھتے تھے۔ فریج فریزر نام کی کوئی سہولت کسی کو حاصل نہیں تھی۔ برف پہاڑی علاقوں سے برادے کی صورت آتی اور فالودے کی دکانوں پر اس کے ’مینارچے‘ سجا دئیے جاتے۔ پشاوری اس وقت بھی فالودہ کھاتے تھے۔ لیکن دو کروڑ مہینے کا نہیں۔ ان دنوں ہم تو موری والے ایک پیسے کا توتیا موتیا لیکر کھایا کرتے۔یہ موری والا پیسہ بھی عجیب ہوتا تھا ، ایک آنے میں چار پیسے ہوتے تھے اور ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے ، اور جو سچ بولتا تھا وہ اپنے سچ کو سولہ آنے سچ کہتا تھا، جب سے ایک روپے کے نوٹ میں سو ٹیڈی پیسے آئے ہم سولہ آنے سچ کی بجائے سو فی صد سچ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں ،

جی چاہتا ہے سچ بولیں

کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

متعلقہ خبریں