Daily Mashriq

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ریلیاں اور مظاہرے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ریلیاں اور مظاہرے

 نیویارک: پوری دنیا میں اس وقت کلائمٹ ویک کا آغاز ہوگیا ہے جس کا اہم مقصد آب و ہوا میں خوفناک تبدیلیوں، ماحولیاتی تباہی، موسموں میں شدت اور تیزی سے آلودہ ہوتے ہوئے فطری نظام کی جانب اربابِ اقتدار کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں ریلیاں اور مظاہرے جاری ہیں جن کا آغاز آسٹریلیا سے ہوا۔

آسٹریلیا کے 100 شہروں میں تین لاکھ سے زائد افراد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ گلوبل کلائمٹ اسٹرائیک نامی یہ تحریک اسکول کے بچوں نے شروع کی ہے اور اس کا سہرا سویڈن کی 16 سالہ لڑکی گریٹا تھنبرگ کو جاتا ہے جس نے سب سے پہلے اسکول کے بچوں کو جمع کرکے دنیا کے بڑوں کو ان کے مستقبل پر جھنجھوڑا تھا۔

اس وقت گریٹا اقوامِ متحدہ کے تحت آب و ہوا میں تبدیلی کے سمٹ میں شریک ہونے کے لیے نیویارک میں موجود ہیں جبکہ دنیا کے 140 کے قریب ممالک میں اس ہفتے 4600 سے زائد تقاریب منعقد ہوں گی۔

ہماری زمین اس وقت انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آب وہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) سے گزر رہی ہے۔ افریقا میں صحرا زدگی، ہمالیائی سلسلے کے پگھلتے گلیشیئر، مالدیپ کے غائب ہوتے جزائر اور پاکستان میں موسمیاتی شدت سب اسے تبدیلی کے واضح مظاہر ہیں۔

خود بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مظاہرے میں لوگوں نے بینر اٹھائے تھے جن پر درج تھا کہ سانس لینا ہمارا حق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی کی فضا دنیا کے آلودہ ترین شہروں سے بھی بڑھ چکی ہے۔ دوسری جانب صرف جرمنی میں ہی 400 کے قریب تقاریب اور مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔

لندن میں منعقدہ ریلی میں اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربِن نے شرکت کی جبکہ دیگر شہروں میں بھی بہت بڑی ریلیاں منعقد ہوئیں۔ بعض بینروں پر تحریر تھا کہ کلائمٹ چینج سے زمین مررہی ہے اور یہ صرف عمل کا وقت ہے۔ دوسری جانب افریقی ممالک نے تیزی سے صحرازدگی، پانی کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر، جنگلی حیات کی تباہی اور زرعی پیداوار میں کمی کے امڈتے ہوئے خطرات بیان کیے ہیں۔

ریلی کے موقع پر کئی ممالک کے اسکولوں نے بچوں کو جماعت چھوڑ کر ریلیوں میں جانے کی اجازت دی۔ نیویارک میں 11 لاکھ  بچوں سے کہا گیا کہ وہ اسکول نہ آئیں اور ماحول دوست پروگراموں میں شرکت کریں جن میں شہر کے میئر بھی شریک تھے۔ علاوہ ازیں ایمیزون اور مائیکرو سوفٹ کے ملازمین بھی اس مشن میں پیش پیش رہے۔

پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کلائمٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اس کے ظاہری اثرات گلیشیئر کے پگھلاؤ، ساحلی کٹاؤ، بارش اور گرمی سمیت دیگر موسمیاتی شدتوں سے عیاں ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا میں آب و ہوا کے سدھار اور گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے لیے ساکنانِ ارض بڑے لیڈر اور سربراہان کی جانب دیکھ رہے ہیں کیونکہ معاشی مفاد کی خاطر اب تک خاطر خواہ قانون سازی نہیں کی جاسکی ہے۔

متعلقہ خبریں