Daily Mashriq


بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ؟

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ؟

پانامہ کیس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے بلکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا کے بمثل معاملہ ہے اگر دیکھا جائے توصرف دو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے ماضی میں ہی اس معاملے پر تحقیقات کے لیے غیررضامندی کا اظہار کرچکے ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)،سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو ہدایات دی ہیں کہ وہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے اپنے نمائندے مقرر کریں۔ ان اداروں کے سربراہان پہلے ہی پارلیمنٹ کی پبلک اکا ئونٹس کمیٹی کو آگاہ کرچکے ہیں کہ پانامہ گیٹ کیس کی تحقیقات ان کے اختیار سے باہر ہیں۔چیئرمین پی اے سی سید خورشید شاہ کی دعوت پر چیئرمین نیب، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی واضح طور پر کمیٹی کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرچکے ہیں اور بتا چکے ہیں کہ متعلقہ قوانین میں موجود پابندیاں انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ پانامہ پیپرز میں عائد الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں۔اس وقت چیئرمین نیب کا نقطہ نظر تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس کے تحت نیب کرپشن کے الزامات پر کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن عملی طور پر سول پروسیجر کوڈ کے تحت پانامہ پیپرز میں شامل افراد کے خلاف تحقیقات وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) سرانجام دے رہا ہے۔ چیئرمین نیب کاموقف تھا کہ چونکہ یہ سکینڈل صرف لیکس پر مبنی ہیں اور اس میں کوئی واضح ثبوت موجود نہیں لہٰذا نیب ان افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔ڈی جی ایف آئی اے نے بھی اس معاملے پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے توجیہہ پیش کی تھی کہ یہ ٹیکس چوری سے جڑا معاملہ ہے۔منی لانڈرنگ کے حوالے سے عائد الزامات پر ان کا کہنا تھا کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں متعارف کروایا گیا جبکہ رقوم کی منتقلی کے الزامات اس ایکٹ کے نافذ ہونے سے قبل کے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت نے ایف بی آر کاکوئی نمائندہ تحقیقاتی ٹیم میں نامز د کرنے کا کہا ہی نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر کسی جرم کی نشاندہی کرتا ہے جو مجرمانہ کارروائی میں شمار ہوتی ہو، تو تب ہی قانون کے تحت نیب ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔دوسری جانب ایس سی سی پی کے چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ وزارت خزانہ نے 29 اپریل کو پانامہ پیپرز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، کمیشن نے اس بات کا پتہ لگایا کہ پانامہ پیپرز میں شامل 155 افراد پاکستان کی 39 رجسٹرڈ کمپنیوں سے وابستہ ہیں لیکن الزامات کی تحقیقات اس لیے ممکن نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان افراد نے ذاتی حیثیت میں آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہو اور سی ای سی پی ایسی سرمایہ کاری کے بارے میں تحقیقات نہیں کرسکتا۔گورنر اسٹیٹ بینک کاکہنا تھا کہ مرکزی بینک اس لیے اس حوالے سے تحقیق کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ صرف بینکنگ ذرائع سے مشتبہ لین دین حاصل کرسکتے ہیں اور تحقیق کرکے ایجنسیوں کو رپورٹ پیش کرسکتے ہیں۔یہ ادارے سپریم کورٹ کے سامنے پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں اب ایک مرتبہ پھر انہی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں ۔یہ تمام معروضات تحفظات معاملات اور امور اپنی جگہ لیکن چونکہ اب جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے، لہٰذ اسے اب عدالت کے احکامات کے مطابق کام کرنا ہوگا۔اس ضمن میں اب عدالت عظمیٰ نے تحقیقات کا ایک روڈ میپ بھی تشکیل دے دیا ہے اور سوالات بھی فریم کردیئے ہیں۔جس کی روشنی اور وقتاً فوقتاً عدالت سے رہنمائی لیکر معاملات کی تحقیقات میں آگے بڑھا جا سکتا ہے ۔ عموماً آف شور علاقے حکومتوں ، تحقیقاتی اداروں اور دوسرے ممالک کی عدالتوں کے ساتھ ان معلومات کا تبادلہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان معلومات کا حصو ل صرف اس صورت ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی بین الاقوامی معاہدے ہوں پاکستان کا کسی سے بھی اس نوعیت کا معاہدہ ہے ہی نہیں۔ دوسری جانب شریف خاندان بار بار اس امر پر اصرار کرتا آیا ہے کہ وہ مرحوم میاں شریف کے کس کام کی معلومات فراہم کریں قانونی طور پر یہ نکتہ بہت اہم ہے اور جن سوالات کا تعلق میاں شریف مرحوم سے ہے ان سوالوں کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے اور جب بنیادی سوالوں کا جواب نہ مل سکے تو باقی تحقیقات خود بخود بے معنی ہوسکتی ہیں ۔اس سکینڈل کا عالمی جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں بلکہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حوالے سے قدرے بہتر کام ہمارے ہاں ہی ہوا ہے۔ عملی طور پر دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی بڑی تبدیلی نہیں آئی، صرف تحقیقات ہی چلتی رہیں، اور ابھی تک چل رہی ہیں۔دنیا کے جن ممالک کے حالیہ سربراہوں کا نام پانامہ میں شامل ہے، ان کے خلاف بھی تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اگر کسی ملک میں حکومتی یا عدالتی سطح کی کوئی تحقیقات چل بھی رہی ہیں تو وہ بھی تاحال بے نتیجہ ہیں۔ بڑے اور طاقتور سیاستدانوں کی جانب سے بدعنوانی کا راستہ روکنا ایک بہت ہی شاندار خیال ہے لیکن اس شاندار خیال کو عملی جامہ پہنا نا خواب و خیال کی باتیں بن کر رہ گئی ہیں ۔ جب بھی ریاست کا کوئی ادارہ کسی بڑی مچھلی کے لیے جال بچھاتا ہے تو کس طرح اس کی متعلقہ ریگولیٹری اور نگرانی کرنے کے کردار ماند پڑ جاتے ہیں ۔ جملہ ادارے انتہائی کمزوریوں کا شکارہیں، اور ایسی دیگر مثالیں بھی ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ریاست کے ہر ادارے کو دہائیوں سے جاری اقتدار کی اس جدوجہد نے اس قدر روند دیا ہے کہ اب ان میں طاقتور عناصر کے خلاف تحقیقات کرنے کی سکت ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں