Daily Mashriq


کے باہر احتجاج کے مسئلے کاحل

کے باہر احتجاج کے مسئلے کاحل

خیبر پختونخو ا اسمبلی کے سامنے مظاہرے کے باعث جس طرح عوام کومشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے اس کا حل یا تو انتظامی طریقے سے جلسے جلوسوں کو روکا جائے یا پھر اسمبلی کی عمارت ہی منتقل کی جائے ۔ صوبائی حکومت نے اسمبلی کے باہر مظاہروں پر پابندی ضرور عائد کی تھی مگر اس پر عملدر آمد میں سنجید گی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا ۔جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی منتقلی کیلئے فیز فائیو حیات آبا د میں جو اراضی مختص کی گئی تھی اب وہ اراضی نہیں رہی۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا اسمبلی کی توسیع ومرمت اور تحفظ پر خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے اور مزید رقم خرچ ہو رہی ہے بنا بریں اس امکان کو ہی مسترد کیا جانا چاہیئے باوجود اس کے جس طرح کی صورتحال بنتی جارہی ہے ایک نہ ایک دن اسمبلی کی منتقلی ہی ہونا ہے۔ شنید ہے کہ اس مقصد کیلئے مجوزہ پشاور ماڈل ٹائون میں بلاک مختص ہوگا جب تک وہ نہیں ہوتا اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب ہوگا تب تک توآئے روز سڑک بلاک کر کے احتجاج کرنے والوں سے عوام کی جان چھڑانے کیلئے کوئی تو طریقہ کار نکالنے کی ضرورت ہے ۔ انتظامیہ اگر طاقت کا استعمال کرنا نہیں چاہتی اورمظاہرین کسی اور جگہ احتجاج کرنے پر تیار نہیں تو کم از کم اس کا درمیانی حل نکالنا نا ممکن نہیں ۔ مفتی محمود فلائی اوور کی تعمیر کے بعد جیل روڈ والی سڑک کے ایک حصہ سمیت پل کے نیچے کی اراضی احتجاج کرنے والوں کیلئے کافی جگہ ہے جہاں پروہ دل کھول کر نعرے بازی کر کے اپنے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کرسکتے ہیں اور پولیس با آسانی ان کو اس مخصوص جگہ پر حفاظت کے ساتھ محدود کرسکتی ہے اگر یہ بھی ممکن نہیں تو اس امر کا حکومت کی طرف سے واضح اعلان کرنے کے بعد اس پر کار بند ہوا جائے کہ خیبر روڈ اور جیل روڈ کی دونوں سڑکوں کی بندش کرنے والے مظاہرین کے نہ تو مطالبات سنے جائیں گے اور نہ ہی کوئی ان کی یقین دہانی کیلئے آئے گا نیز ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی تو احتجاج کرنے والوں کی خود بخود سمجھ آجائے گی اور وہ ٹریفک کی بندش اور عوام کو مشکلات کا شکار بنائے بغیر اپنی آواز بلند کر سکیں گے ۔

اسناد جاری کرنے کے کارخانے

یونیورسٹیوں کا کام صرف ڈگریاں جاری کرنا نہیں لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری جامعات میں سند جاری کرنے کے علاوہ تحقیق جیسے ضروری شعبے پر توجہ نہیں دی جاتی طلبہ کوا یک مخصوص مدت میں مخصوص مراحل سے گزارنے کو تعلیم کا نام دیا گیا ہے جس کے باعث جامعات کا معیار گرتا جا رہا ہے اور تعلیم کا معیار بد تر صورتحال اختیار کرتی جار ہی ہے ۔ ہماری جامعات کا معیار اس حد تک گر گیا ہے کہ قابل ذکر یونیورسٹیوں میں نام آنا تو دور کی بات اردو لسان وادب میں تخصص کرنے والوں کو زبان وبیان اور اسلوب سے واقفیت نہیں۔ اور انگریزی لسان وادب میں بی ایس کا کورس پڑھنے والے طالب علم انگریز ی بول چال کی کلاسیں لینے کیلئے یونیورسٹی سے باہر کے انسٹیٹیوٹ سے رجوع پر مجبور ہیں۔ اگر ہماری جامعات میں تدریس کا معیار یہ ہوگا اور طالب علم صوبے کی جامعات سے اعلیٰ ڈگریوں کے حصول کو کار لاحاصل قرار دے کر دیگر یونیورسٹیوں سے رجوع کرنے لگے تو ایسے میں معیار اورتحقیق کے ضمن میں توقعات کی وابستگی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ آخر اس گرتے معیار تعلیم کی وجوہات کیا ہیں۔ جامعات میں تعلیم وتعلم کاماحول کیوں نہیں۔ ہماری جامعات کامعیار بہترکیوں نہیں ہو رہا ۔ان بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کے بعد ہی تحقیق وتخصص کے میدان میں کامیابی کی توقع ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے ضمن میں سہولتوں کی فراہمی اور خاصے وسائل کی فراہمی کے کام کو جاری رکھتے ہوئے بنیادی اوسط اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے بنیادی کام پر خاص طور پر توجہ دے گی تاکہ ہماری جامعات کو ایسے طالب علم میسر آئیں جنہیں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیول پر بنیادی چیزیں دوبارہ پڑھانے کی ضرورت باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں