میک ماسٹر بھی وہی ہیڈ ماسٹر

میک ماسٹر بھی وہی ہیڈ ماسٹر

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں گرم جوشی کبھی نہیں رہی۔ تاریخ کے ہر دور میں ان تعلقات پر ''نظریہ ضرورت '' ہی غالب رہا ہے ۔دونوں ملکوں کے پاس ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کے سوا کبھی کوئی آپشن ہی نہیں رہا۔ اسی لئے دونوں دوستی اور تعلق کی شاہراہ پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گامزن رہے۔ جب دونوں کو دوستی ،تعلق اور تجارت میں کچھ دوسرے آپشن نظر آئے دونوں نے رسیاں تڑوا کر اس جانب لپکنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کی ۔قیام پاکستان کے دنوں میں امریکی پاکستان کے حکمرانوں کو غیر معمولی پروٹوکول دیتے رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے رویے میں نخوت کا عنصر بڑھتا چلا گیا ۔یہاں تک کہ سرد جنگ کے بعد تو حالات یکسر بدل کر رہ گئے اور امریکہ پاکستان کے لئے ایک'' ہیڈ ماسٹر ''کے روپ میں سامنے آیا ۔اس بدلے ہوئے کردار میں امریکہ نے پاکستان سے'' ڈومور'' کی ایسی گردان شروع کی جو ڈیڑھ عشرہ گزرنے کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ اس کے سوا کوئی آپشن نہیںامریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایچ آرمیک ماسٹر کابل سے اسلام آباد ہوتے ہوئے دہلی پہنچ گئے ۔اسلام آباد میں انہوں نے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے خصوصی ملاقاتیں کیں۔بھارت میں وہ اپنے ہم منصب اجیت دوول سے ملے ۔افغانستان اور بھارت میں ان کے لہجے کی حلاوت پورے جوبن پر رہی اور پاکستان میں ان کا لہجہ حسب سابق کرخت رہا ۔جس میں طعنوں اور ڈومور کی بُو غالب رہی ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں میک ماسٹر کا یہ جملہ روایتی طنز سے بھرپور ہے کہ پاکستان افغانستان میں اپنے مفاد کا تحفظ تشدد میں ملوث پراکسیز کے ذریعے کرنے کی بجائے ڈپلومیسی کے ذریعے کرے۔اس سے چند دن پہلے یہی صاحب کہہ چکے تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے بارے میںمزید سخت موقف اپنا سکتی ہے۔امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ اس وقت اپنی پالیسی ترتیب دینے کے مراحل سے گزر رہی ہے اور ایسے میں امریکہ کے ایک اہم اعلیٰ عہدیدار کی خطے میں آمدخاصی اہمیت کی حامل ہے ۔بظاہر تو امریکی نمائندے نے افغانستان کی صورت حال پر ہی بات کی مگر اسلام آباد سے دہلی کی طرف اُڑان بھرنا اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ کو پاکستان اور بھارت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش ہے اور امریکہ اس معاملے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔کلبھوشن یادیو کی صورت میں پاکستان کا ہاتھ صرف بھارت کی ''رگِ جاں '' پر نہیں پڑا بلکہ بلوچستان میں بدامنی کے کئی بیرونی کردارپر پوری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں۔ اس لئے بھارت کے ساتھ ساتھ کئی اور ملکوں کو بھی اس راز سے پردہ اُٹھنے پر تشویش ہے۔افغانستان میںروس کا بڑھتا ہوا کردار امریکہ کے لئے نئی پریشانی کا موجب ہے ۔ امریکہ کا خطے میںا ب تک کا کردار پاکستان کی حد تک ''ہیڈماسٹر'' کا ہی رہا ہے ۔ڈومور کی گردانوں اور دہشت گردی کے خلاف بھاشن دینے کے سوا امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا ۔مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں بھی امریکہ نے کوئی ٹھوس اور معنی خیز کردارادا نہیں کیا بلکہ بھارت کو بانس پر چڑھا کر مودی جیسے حکمرانوں کا دماغ مزید خراب کردیا ۔ امریکہ کی اس پالیسی سے یہ شک پیدا ہوا کہ جس طرح اس نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو حتمی بالادستی دینے کے لئے عربوں کو برباد کردیا اسی طرح خطے میں بھارت کو کلی بالادست بنانے کے لئے پاکستان کو دیوالیہ اور غیر مستحکم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی تھی ۔ پاکستان پر اچھے اور برے طالبان کی تمیز روا رکھنے والوں کا اپنا کردار بھی اسی تفریق سے عبارت ہے ۔ان کے خیال میں خطے میں ہر وہ شخص اور گروہ دہشت گرد ہے جس کی بندوق کا رخ امریکہ اور بھارت کی جانب ہے ۔بلوچستان سے کراچی اور قبائلی علاقات جات تک جس شخص کی بندوق کا رخ خود اپنی ریاست کی جانب رہا ہے امریکہ نے بالواسطہ طور پر ان کی نازبرداری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
بلوچستان میں بدامنی کے مرکزی کردار درحقیقت بین الاقوامی پراکسی ہیں ۔کراچی کے ٹارگٹ کلر ز کا سرپرست ِاعلیٰ بھی انہی کی پراکسی تھی ۔یہ سب کردار جن کے ہاتھ لاتعداد بے گناہوں کے لہو سے رنگین ہیں آج بھی انسانی حقوق ،شہری آزادیوں اور دہشت گردی کے سخت گیر مخالف مغربی ملکوں کی میزبانی اور آزادیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔دہشت گرد صرف ایک مخصوص وضع قطع کا نام نہیں بلکہ دہشت گرد ایک کردار کانام ہے ۔بے گناہوں کا خون بہا کر معاشرے پر خوف ودہشت طاری کرنا منظم اور مسلمہ ریاستوں کو پرتشدد راستوں کے ذریعے توڑنے کی کوشش ہی دہشت گردی ہے ۔ان اصولوں اورمعیارات کی بنیاد پر مغرب میں بیٹھے پاکستان کو مطلوب درجنوں افراداس اصطلاح کی زد میں آتے ہیں۔پاکستان ان لوگوں کا وار سہہ گیا اس ہاتھ کو جھٹک کر حالات کی دلدل سے باہر آگیا اور اس پر ایک زمانہ حیران ہے ۔اب امریکہ اگر خطے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے متوازن پالیسی اپنانا ہوگی ۔ ایچ آرمیک ماسٹر کو یہ بات اعلیٰ حکام کو بتانی چاہئے کہ ہیڈماسٹر بننے کی بجائے امریکہ کو سہولت کار اور مصالحت کار بننا ہوگا اسی صورت میں وہ خطے میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

اداریہ