ٹرک کی بتی ، گلاس اور اخلاقیات

ٹرک کی بتی ، گلاس اور اخلاقیات

وہ پیشگوئی یا دعویٰ جو بھی آپ سمجھ لیں درست ثابت ہوگیا ناں ، کہا گیا تھا کہ فیصلہ ایسا دیں گے کہ مدتوں تک یاد رکھا جائے گا، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بات گلاس کی تو کی گئی ہے مگر وہ جو ماہرین نفسیات نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ جو آدھا گلاس بھرا ہوا سمجھتے ہیں وہ رجائیت کے علمبردار ہوتے ہیں البتہ جو اسے آدھا خالی گلاس قرار دیتے ہیں وہ قنوطیت کا شکار ہوتے ہیں ، مگر کمال ہے کہ یہاں گلاس تو نصف خالی اور نصف بھرا ہوا ہے مگر دونوں فریق اس کو رجائی نکتہ نظر سے دیکھتے ہوئے نہ صرف خوش ہورہے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور پر مٹھائیاں بھی بانٹتے پھر رہے ہیں اور دعوے بھی کر رہے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آیا ہے ۔ بدھ کی شام کو ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک کرمفر ما نے فون کرکے میرا سیاسی تجزیہ مانگا تھا ۔ میں نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا بس زیادہ سے زیادہ کمیشن کا قیام عمل میں آجائے گا ، اور وزیر اعظم کے خاندان کے حوالے سے مزید انکوائری کا حکم دے دیا جائے گا ، اب اگر کمیشن کی جگہ جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے یا کمیشن قائم ہو فرق کیا پڑتا ہے ، جبکہ اس طرح کم از کم عمران خان ، سراج الحق اور شیخ رشید کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اور جے آئی ٹی والے ٹرک کی بتی کوہاتھ لگانے کیلئے دوماہ کا وقت بھی مقرر کر دیا گیا ہے سوال مگر یہ ہے کہ اس فیصلے سے نون کا جنازہ نکل گیا ہے یا قانون کا ؟ جیسا کہ بڑے طمطرا ق سے دعویٰ کیا جا رہا تھا ، شاید دونوں کا نہیں البتہ جو لوگ عدالت عظمیٰ پر دبائو ڈالنے اور بلیک میل کرنے کیلئے نہ صرف ہر پیشی کے بعد عدالت کے احاطے اور پھر شام سے رات گئے تک ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر اپنی اپنی عدالتیں قائم کر کے شور شرابا کرتے رہتے تھے ان کی اپنی عدالتوں کا جنازہ ضرور اٹھتا دکھائی دے رہا ہے ، بقول اصغر گونڈوی 

سو بارتر ا دامن ہاتھوں میںمرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباںتھا
عمران خان ، سراج الحق اور آصف زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ میاں نواز شریف بطور وزیراعظم استعفیٰ دیں اور جب جے آئی ٹی کی تحقیقات کے ذریعے وہ بے گناہ ثابت ہو جائیں تو دوبارہ عہدہ سنبھالیں ، کیونکہ اس فیصلے کے بعد ان کے پاس اخلاقی طور پر وزارت عظمیٰ پر براجمان رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا ،لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان میں اخلاقی طور پر وزارتوں سے علیحدہ ہونے کی کوئی مثال موجود نہیں ہاں البتہ اگر عدالت عظمیٰ نے کسی کو نکال باہر کیا ہو ( یوسف رضا گیلانی ) تو وہ الگ بات ہے ، اور چونکہ موجودہ مقدمے میں تین ججوں نے باقی دو ججوں سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صادق اور امین نہ ہونے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا کہ وزیر اعظم اپنے منصب سے استعفیٰ دے کرجے آئی ٹی کا سامنا کریں ، اس لئے جو لوگ وزیراعظم کو اخلاقی دبائو میں لانا چاہتے ہیں پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے رویئے کو دیکھیں کہ 2013ء سے وہ مختلف اوقات میں اس قسم کے مطالبات کرتے آئے ہیں جبکہ خود انہوں نے عدالتوں کے احکامات کی جس طور دھجیاں اڑائی ہیں اور پہلے عدالتی فیصلوں کو ماننے کے بر ملا اعلانات کرتے کرتے بعد میں ان فیصلوں کو ماننے سے انکار ی ہوئے تو ان کے پاس اخلاقی طور پر اس عمل کا کیا جواز ہے ؟ ۔
ٹرک کی جس بتی کی بات اوپر کی سطور میں کی ہے میںنے اس پر تھوڑا سا غور کیا جائے تو معاملہ دوماہ سے آگے جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ، پہلے تو شاید ان دو مہینوں میں یہ تحقیقات پایٔہ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں اور بعض وہ افراد جو اس کام کی ذمہ داری پر مامور ہوں ، عین ممکن ہے کہ وہ قطر ، سعودی عرب یا پھر لندن یا تر ا کی درخواست کریں ، اور اگر ایسا ہوا تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان ملکوں میں ضرور ی معلومات تک انہیں آسانی سے رسائی بھی دیدی جائے گی ۔ ایسی صورت میں معاملہ طول پکڑ سکتا ہے ، اور چلیں بفرض محال انکوائری مکمل بھی ہو جاتی ہے اور میاں نواز شریف کے خلاف ثبوت بھی مل جاتے ہیں تو پھر عدالت عظمیٰ یہ کیس الیکشن کمیشن کے پاس بھیجے گی ، جہاں ریفرنس پر غور و خوض ہوگا ، دلائل سنے جائیں گے اور اس کے بعد ہی کہیں فیصلہ ہوگا ، جس کو ایک بار پھر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار کی وجہ سے اس کیس کی شنوائی میں کتنے وقفے آسکتے ہیں ، اور قانونی ماہرین اسے کتنا طول دیتے ہیں ، غرض یہ کہ یہ اتنی آسان بات نہیں ہے ، اور جیسا کہ اوپر کے سطور میں عرض کر چکا ہوں اگر جے آئی ٹی کی انکوائری ابتداہی میں طول پکڑ لے تو اس کا کیا علاج ہوگا ، یہ تو تمام باتیں وہ تھیں جو بتی کے پیچھے بھاگنے والوں کی سوچ کے مطابق تھیں ، تاہم اگر اس کے دوسرے رخ پر سو چا جائے یعنی جے آئی ٹی کے نتائج میاں نواز شریف کے حق میں آتے ہیں تو پھر کیا ہوگا ؟ گزشتہ کچھ دنوں سے بعض ٹی وی چینلز پر نہ صرف ''تجر یہ نگار '' بلکہ قسمت کا حال بتانے والے طوطے باز بھی بڑھ چڑھ کر جو پیشگوئیاں کرتے رہے ہیں ، ان میں مشترکہ نکتہ پانامہ کیس کے حوالے سے حکومت کو ایک بڑ اجھٹکا لگنے کا تھا ، یہ جھٹکا ضرور ہوا مگر دعوئوں کے مطابق نہیں البتہ اس جھٹکے کے اثرات حکومت مخالفین کو زیادہ محسوس ہوئے بلکہ آنے والے مہینوں میں شاید اس کے اثرات مزید شدید ہو جائیں گے جب جے آئی ٹی کا بھی کوئی نتیجہ (شاید ) بر آمد نہ ہو سکے۔
وہ پیش لفظ تھا جس نے رلا دیا ہے تجھے
سنبھال خود کو ابھی داستان باقی ہے

اداریہ