سوچ سے عاری

سوچ سے عاری

کنفیوژن ہمارا مقدر ہے ۔جو بھی حوالہ ہو ہم کنفیوز ہی رہتے ہیں ۔وضاحتیں بے شمار ہوتی ہیں لیکن ان وضاحتوں کے اتنے رنگ ہوتے ہیں کہ ہر رنگ میں اختلاف کے ہزاروں شابئے نکل آتے ہیں۔ اب بھی سارا ملک کنفیوز ہے کہ دونوں جانب مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں ۔ جیت کس کی ہوئی اور ہارا کون ،ہر کوئی اپنی اپنی وضاحت اور تشریح پیش کررہا ہے ۔ ٹی وی پر تو تماشے کا ماحول ہے۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ مشال والے معاملے کو اپنی دھول میں چھپادے گا۔ عوام بہرحال پھر بھی کنفیوز ہیں کہ ہوکیارہا ہے ۔زندگی کہیں بھی بحال نہیں ہے ۔ اخبار ات کے سارے صفحات پانامہ لیکس کو ہی کورکررہے تھے۔میری نظر میں پانامہ خواص ہی کا مسئلہ ہے ۔مسٹر Aنہ رہا تو مسٹرBحکمران بن جائے گا۔فرق البتہ XYZجیسے عا م لوگوں کی زندگیوں پر رتی بھر بھی نہیں پڑے گا ۔وہ ویسے ہی سسک سسک کر جئیں گے کہ جیسے جیتے آئے ہیں۔آج جب پانامہ کا ڈنکاصحافت کے سارے عناصر میں بج رہا تھا ۔ایک اخبار میں ایک تصویر پورے سسٹم پر ایک گہرا طنز کررہی تھی پکار رہی تھی کہ ہم کیا ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ۔ تصویر لاہور کے ایک ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کی ہے کہ جس میں ایک بچی کا آپریشن ہورہا ہے ۔آپریشن ٹیبل کے گرد ڈاکٹر اور سٹاف حلقے میں کھڑا ہے ۔دو سٹاف ممبرز نے ایمرجنسی لائٹس اٹھارکھی ہیں اور انہی لائٹس کی روشنی میں سرجن آپریشن کررہا ہے ۔میرا یقین ہے کہ یہ لاہور کا سرکاری ہسپتال ہوگاکیونکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں اتنی فیسیں لی جاتی ہیں کہ جن سے بجلی کا بیک اپ میسر ہوتا ہی ہے بلکہ وہاں سمجھ ہی نہیں پڑتی کہ کب بجلی گئی اور کب آئی ۔سو یہ منظر کسی سرکاری ہسپتال کا ہی ہوگا۔خدا جانے اس بچی کا کیا ہوا ہوگا۔آپریشن کامیاب ہوا ہوگا یا خدانخواستہ ۔۔۔یقینا یہ آپریشن اتنا ضروری تو ہوگا ہی کہ جو ایمرجنسی لائٹ میں کیا گیا ہوگا۔ یا پھر دوران آپریشن بجلی نے دار مفارقت دے دیا ہوگا۔ دونوں صورتیں انتہائی خوفناک ہیں لیکن یہ سب کسی اور سماج میں ہوتو اس پر کتنا ہنگامہ ہو لیکن پاکستان میں ایسے مناظر عام ہیں اس لیے ایک چھوٹی سی خبریا ایک تصویر ہی لگائی جاسکتی ہے ۔مسئلہ کیا ہے ؟مسئلہ بس اتنا ہے کہ ہمارے ملک میں عوام کی کوئی اہمیت نہیں ہے ہوتی تو ایسا نہ ہوتا ۔ عوام کی ایک ہی اہمیت ہے کہ جو ووٹ کے دن ہی ہوتی ہے اور پھر عوام بس عوام ہی رہتے ہیں ۔ عوام بھی بس ووٹ دینے کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ جمہوریت اس سے آگے بھی کچھ ہے ۔ عوام کا کردار اس میں کتنا اہم ہے اگر ہم عوام اس کو سمجھ جائیں تو چند برسوں میں زندگی ہی بدل جائے ہماری ۔ ہم نے ذہنی و قلبی طور پر یہ قبول کرلیا ہے کہ ہم بے بس ہیں ،کچھ کرنہیں سکتے ،جو بھی کرنا ہے وہ A,Bیا C نے ہی کرنا ہے ۔ سیاسی پارٹیوں نے جو کلچر بنا رکھا ہے ہم عوام اسی کلچر کے گھمر گھیر میں گھوم رہے ہیں ۔ہماری مثال اس بیل کی ہے کہ جس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے اور وہ ایک دائرے میں گھوم گھوم کر رہٹ کا پہیہ چلاتا ہے ۔ سمجھتا ہے کہ اس نے میلوں سفر طے کر لیا ہے مگر حقیقت میں وہ اس دائرے کے چکر سے باہر نہیں نکل پاتا ۔ہماری آنکھوں پر سسٹم نے ایسی ہی پٹی لگا رکھی ہے کہ ہم سب کچھ سمجھنے کے باوجودکچھ نہ سمجھنے کی کیفیت میں جیتے ہیں ۔ہم تنگ گلیوں میں تاریک اور حبس زدہ دالانوں میں دال ساگ کھاکراسی کو زندگی سمجھ لیتے ہیں ۔ کوئی خوشی نہیں ہمارے لیے ان حکمرانوں کی جانب سے ۔خوشی کیا جینے کابنیادی حق نہیں دے رہے ہمیں کہ جن کی سرکاری رہائش گاہوں کا سالانہ خرچہ اتنا ہے کہ حساب کتاب کریں تو وہ ہماری ریاضی کو چیلنج کردے ۔لیکن ہم چپ ہیں ۔ہماری لیے بجلی نہیں اور لوگ تپتی دوپہروں میں ٹھنڈا پانی پی کر زندگی سے زندگی کی بھیک مانگ لیتے ہیں اور رات کی امس بھری ساعتوں میں کھلے آسمان تلے تاروں سے یاری کرلیتے ہیں ۔اسی گرم اور تپتے موسموں میں صاحب لوگ اپنی میٹنگ میں کوٹ پتلون پہن کر اے سی کی ٹھنڈی ''چھاؤں ''میں بیٹھ کر قوم کی خدمت کرتے ہیں۔عوام کو علاج کے لیے دربدر پھرنا پڑتا ہے ۔مل گیا تو خوش قسمتی نہیں تو بدقسمت تووہ پہلے سے ہی ہیں ۔سنیاسی ، دو نمبر ڈاکٹر اور سیلف میڈیکیشن تو کہیں گئی نہیں ۔ اور ہمارے مالک ہمارے حکمران زکا م کے علاج کے لیے بھی یورپ اور امریکہ کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ۔عوام کے پاس امن کا کوئی ذریعہ نہیںہے ۔صبح گھر سے نکلتے وقت کوئی یقین نہیں رکھتا کہ واپسی ممکن ہوگی یا نہیں ۔موت عوام کے پیچھے کسی بھوکی ڈائن کی طرح سرگرداں پھرتی ہے ۔ اور صاحب لوگ کیا ان کی اولادیں بھی پچیس پچیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں گھومتے ہیں ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ حضور آپ کا پروٹوکول کس خوشی میں ہے ۔بادشاہوں کی سرزمین میں سوال کون اٹھاتا ہے ۔ بادشاہ سے کون پنگا لے ۔ بادشاہ تو بادشاہ ہوتا ہے ۔ وہ تو کچھ بھی کرسکتا ہے ۔ عوام جب خود کو رعایا سمجھ لے تو یہی حال ہوتا ہے ۔ کوئی بادشاہ خود بادشاہ نہیں بن سکتا جب اس کی عوام خود کو رعایا نہ سمجھ لے ۔ ہم 47سے اب تک اپنا سٹیٹس تبدیل نہیں کرسکے ۔ہمارا سٹیٹس رعایا کا ہے ہم عوام نہ بن سکے ۔ وہ عوام جو جمہوریت کی بنیاد بنتے ہیں ۔سو ہماری جمہوریت کیسے پھل اور پھول سکتی ہے کہ جب اس کی بنیاد (عوام ) ہی غلط فہمی کا شکار ہو۔ بس ایک دعا ہی ہے کہ جو کی جاسکتی ہے اور دعا یہ ہے کہ ہمارے وطن میں لوگ خود کو رعایا سمجھنے کی بجائے اصل عوام سمجھ لیں ۔ تو پھر یہ ڈرامے شاید ہمارے ساتھ نہ ہوں جو اب تک ہوتے آئے ہیں ۔

اداریہ