Daily Mashriq

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

سینیٹ الیکشن کے حوالے سے تازہ انکشاف کے بعد اس سارے معاملے کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی جس کا بلا ثبوت اظہار ہر جانب سے ہو رہا تھا۔ گوکہ معاملے کی صورتحال تقریباً یقینی تھی لیکن حقیقت بیانی سے اجتناب کی کیفیت تھی جو سراج الحق کے بیان سے طشت ازبام ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے بلوچستان کے اُمیدوار کو ووٹ دینا ہے لیکن نام ابھی معلوم نہیں ہے لیکن ہم نے رضا ربانی کا نام دیا تھا مگر افسوس ہے اس پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد عمران خان کے بجائے ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعرے لگے۔ چیئرمین سینیٹ کی مخالفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچہ پیدا ہو جائے تو اس کا گلا کوئی نہیں دباتا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سینیٹ کے فیصلے مانے جاتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اعتراف کر رہے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں ہمارے لوگ بک گئے، کیا ووٹ خریدنے والے مجرم نہیں ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ کے پی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پشاور کے حالات کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاناما میں436 لوگوں کیخلاف پٹیشن کی لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ امیرجماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر سب کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی تو اس کا مطلب موجودہ آپریشن ہوا میں ہو رہا ہے اور کسی کو نشانہ لگ گیا تو ٹھیک ورنہ ناکام ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ایک ایسے وقت میں اتحادی جماعت پی ٹی آئی کی قیادت پر چوٹ کی ہے جب وہ پہلے ہی اپنے ہی ممبران صوبائی اسمبلی پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے کے بعد مشکل میں ہے اور ان کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں جو سوالات ''ملزم اراکین اسمبلی'' پوچھ رہے ہیں، خاص طور پر جو لوگ باقاعدہ حلف لے کر اپنی بے گناہی کا یقین دلا رہے ہیں۔ اس سارے معاملے سے قطع نظر اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میںمنڈی لگی جس کے پُراسرار خریداروں اور بکاؤ مال دونوں ہی پردہ اخفاء میں ہیں اور اسی طرح رہنے کا امکان بھی ہے اور روایت بھی۔ جس صورتحال کی سراج الحق نے نشاندہی کی ہے اس صورتحال سے تو اس امر کا شبہ اُٹھتا ہے کہ بعض قابل اعتماد افراد نے ہی شاید کسی مصلحت کے تحت ووٹ دیا ہو اور الزام لگاتے ہوئے گیہوں کیساتھ گہن بھی پیس دیا گیا ہو۔ امیر جماعت اسلامی نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے جس گفتگو کا دعویٰ کیا ہے وہ درست ہے یا نادرست مگر اس سے پہلے اپنوں ہی کے ہاتھوں مشکلات سے دوچار اتحادی جماعتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ کسی سیاسی جماعت کیلئے جس کا منشور ہی شفافیت ہو اگر دم آخر اس کے دامن کے بھی داغدار ہونے کے دعوے سامنے آنے لگیں تو اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ معتقدین کے دلوں پر کیا گزرے گی۔ بہرحال ان تمام معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر اتحادی جماعت کے قائد کا کردار وعمل دیکھا جائے تو اس کے حصے میں بھی دیانت وامانت نہیں آئی بلکہ سوال اُٹھتا ہے کہ دم آخر بھی جب موصوف اس جماعت کی قیادت پر اس قدر صریح الزام لگا رہے ہیں مدت اقتدار کے آخری ماہ کی بھی قربانی کیلئے تیار نہیں۔ اگر سراج الحق اس انکشاف کیساتھ جماعت اسلامی کے خیبر پختونخوا سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے تو انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام کرنے کا موقع بھی تھا۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اب جماعت اسلامی کو آستین کے سانپ قرار دینے کا اب کوئی جواز نہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان قبل ازیں بھی دوستانہ فائرنگ ہوتی رہی ہے مگر شراکت اقتدار میں فرق نہ آیا۔ تحریک انصاف کے پاس قومی وطن پارٹی کی طرح اس آستین کے سانپ سے جان چھڑانے کا موقع اور اختیار موجود تھا مگر جہاں اصولوں پر اقتدار غلبہ پاجائے وہاں دم آخر اچھے دوستوں کی طرح رخصت ہونے کی بجائے نمائشی گولہ باری شروع کی جاتی ہے جس کا مقصد عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں جو صورتحال سامنے آئی اس کے پس پردہ جو بھی عناصر اور طاقت ہو کھلونا تو سیاستدان ہی بنے۔ ایک دوسرے کی بدترین مخالفت وجہ تھی، ڈر تھا خوف ولالچ یا کوئی اور وجہ' سینیٹ کے انتخابات میں یہ بات تو ثابت ہوچکی کہ اب بھی سیاسی عناصر ہانکے جانے کی مزاحمت کی تاب نہیں رکھتے۔ سراج الحق کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کارکردگی پر تنقید بھی حیران کن اسلئے ہے کہ موصوف کی جماعت خود اس حکومت کی اتحادی اور شریک اقتدار جماعت ہے۔ اگر صوبائی حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں یا پھر وہ مطمئن نہیں تھے تو پھر علیحدگی کا باعزت راستہ چننے میں کیا امر مانع تھا۔ اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ ذمہ داری مشترکہ طور پر قبول کی جاتی۔ چیف جسٹس کے بھی خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے ریمارکس تھے جو وزیراعلیٰ اور حکومت کی کارکردگی سے تو مطمئن نہ تھے مگر چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعریف کی۔ ان دو اعلیٰ عہدیداروں کی کارکردگی قابل اطمینان ہے تو پھر خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کو قابل اطمینان نہ گرداننے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ اعلیٰ عہدیدار اسی حکومت کا حصہ اور اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاستدان ایک دوسرے کو مطعون کرکے عوام کے اذہان کو اُلجھانے کی بجائے کارکردگی اور منشور کی بنیاد پر انتخاب لڑیں۔ عوام حقیقت حال سے جس طرح ان پانچ سالوں میں واقف ہو چکے ہیں ان کو اس تناظر میں اپنے ووٹ کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے امیدواروں کو کامیاب بنائیں جن کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو۔ اس معیار کو پانا بلاشبہ مشکل ہوگا لیکن فیصلے کا معیار اگر مقرر کیا جائے تو بہتری کی اُمید کی جا سکتی ہے، وگرنہ تربوز کی طرح کے ان عناصر سے چھٹکارے کی اُمید نہیں۔

متعلقہ خبریں