Daily Mashriq

نرسوں کو ہراساں کرنے کا مذموم واقعہ

نرسوں کو ہراساں کرنے کا مذموم واقعہ

انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز (آئی کے ڈی)پشاورکی خواتین نرسز کا انتظامی سٹاف کی طرف سے انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت پر متعلقہ ڈائریکٹر اور ذمہ دار افراد کی جانب سے نوٹس نہ لینے اور شکایت کے 12دن گزرنے کے باوجود ہسپتال کے ڈائریکٹرکا سٹاف کے خلاف تحقیقات شروع نہ کرنے کے بعد آئی کے ڈی کی تمام نرسز کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایت وزیر اعلیٰ سیل میں جمع کرانا سنگین واقعہ ہے۔ وزیر صحت، سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھی اس صورتحال سے مطلع کردیاگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے معاشرے میں اس قسم کی شکایت اس وقت ہی سامنے آسکتی ہے جب پانی سر سے اونچا اور صورتحال نا قابل برداشت ہوجائے۔ اس طرح کی صورتحال اپنی جگہ لیکن یہاں حد درجہ افسوسناک امر یہ ہے کہ شکایت کرنے پر بجائے اس کے کہ فوری طور پر کارروائی کی جاتی اور تحقیقات کا آغاز کیاجاتا بارہ دن گزرنے کے باوجود معاملے کودبانے کی کوشش کی گئی جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو جاتا ہے۔اس طرح کی صورتحال ناقابل برداشت ہے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہسپتال میں مریضوں کی تیمار داری کا کام بری طرح متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ اس قسم کی صورتحال کی اولاً شکایت کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور شکایت کرنے پر کارروائی نہیں ہوتی جس کی بناء پر رازداری سے حل کئے جانے کا حامل معاملہ نوشتہ دیوار بن کر ادارے اور افراد سبھی کے لئے بد نامی کا باعث بن جاتا ہے۔ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں' غرض بہت ساری قسم کی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس واقعے کی جلد سے جلد تحقیقات کے بعد ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف ہی سخت تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ہسپتال کی انتظامیہ کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں